ڈینگی کی طرح شوگر سے بچاؤ کی بھی بھرپور مہم شرو ع کی جائے،پروفیسر طیب

ڈینگی کی طرح شوگر سے بچاؤ کی بھی بھرپور مہم شرو ع کی جائے،پروفیسر طیب

لاہور(جنرل رپورٹر)پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر محمد طیب نے کہا ہے کہ دن بدن شوگر کا مرض انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈینگی کی طرز پر شوگر سے بچاو کے لیے بھی جنگی بنیادوں پر مہم شروع کی جائے۔ ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں پروفیسر محمد طیب نے کہا کہ معاشرے میں اس مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور طبی ماہرین کے علاوہ سب شہریوں کو آگے آنا چاہئے اسی طرح ماں اور بچے کی صحت پر بھی خصوصی توجہ ہونی چاہیے۔

تا کہ نئی نسل کو اس موذی مرض سے بچایا جا سکے انہوں نے کہا کہ خاص طور پر حاملہ خواتین کو پہلے 3 ماہ ضروری ٹیسٹ لازمی کرانا چاہیے۔پرنسپل اے ایم سی نے کہا کہ نرسنگ کے نصاب میں 4 سال کے لیے شوگر کا مضمون لازمی پڑھایا جانا چاہیے اور پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ پنجاب میں نرسسز کے لئے ذیابیطس ڈپلومہ کورس کا اجراء کیا جائے کیونکہ مریض کے علاج معالجے میں ڈاکٹرز سے بڑھ کر نرسسز کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔پروفیسر محمد طیب کا مزید کہنا تھا کہ ذیابیطس جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور ذہنی طور پر بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہے اور شوگر کے مریض چڑچڑاپن کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ کئی ایک مریضوں کی ازدواجی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر کا جسم کے فربہ ہونے سے مشروط تعلق نہیں بلکہ دبلے لوگوں کو شوگر ہونے کی صورت میں ان کے بہن بھائیوں کے لئے بھی اس مرض کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے بھی پاکستان ذیابیطس کے مرض میں پریشان کن صورتحال کا حامل ہے اور ہم سب کو مل کر اس مرض کا گراف نیچے لانے کے لیے کاوشیں کرنا ہوں گی۔ پروفیسر محمد طیب نے ذیابیطس کے عالمی دن پر لاہور جنرل ہسپتال میں ہونے والی آگاہی واک اور سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا جس سے ڈاکٹرز،نرسسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو خاطر خواہ مدد ملے گی اور وہ مریضوں کا بہتر طور پر علاج معالجہ کر سکیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1