جتنا زیادہ موٹاپا ہو گا کینسر کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا، تازہ تحقیق

جتنا زیادہ موٹاپا ہو گا کینسر کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا، تازہ تحقیق

نیویارک(نیوز ڈیسک)موٹاپے کے سو طرح کے نقصانات سے ہم واقف ہیں لیکن اگر کوئی کسر رہ گئی تھی اس تازہ ترین انکشاف نے پوری کر دی ہے کہ جتنا زیادہ موٹاپہ ہو گا کینسر کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق امریکا میں برائگم اینڈوویمن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایک حالیہ تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ موٹے لوگوں میں کینسر کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ چربی کے خلیات اُن کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتے ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ہمارے مدافعتی نظام میں قدرتی طور پر ایسے خلیات پائے جاتے ہیں جو کینسر کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں لیکن چربی کے خلیات ان مزاحمتی خلیات کو کمزور کرنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا اہے کہ کینسر کے خلیات کے خلاف ہمارے جسم کی مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر پیٹ کے اردگرد جمع ہونے والی چربی کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اس چربی سے خارج ہونے والے خلیات جسم کی حفاظت کرنے والے مدافعتی خلیات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایسی صورتی میں اگرچہ مزاحمتی خلیات کینسر کے خلیات کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی کارکردگی کمزور پڑجاتی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے کینسر کے خلاف مزاحمت کم ہوجانے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ کینسر کے 20 فیصد مریضوں میں موٹاپے کا مسئلہ بھی دیکھا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر