حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 20 نومبر تک توسیع

حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 20 نومبر تک توسیع

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے نیب کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے 3 مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت میں 20 نومبر تک توسیع کر دی ۔حمزہ شہباز نے تین مختلف مقدمات میں ضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے دائر درخواستوں میں اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کررکھاہے ،گزشتہ روز حمزہ شہباز اپنے وکیل اعظم نذیر تارڑ کے جونیئر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے ،جونیئر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اعظم نذیر تارڑ بیرون ملک ہیں ،انہوں نے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی جو فاضل بنچ نے منظور کرتے ہوئے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 20 نومبر تک توسیع کر دی اور نیب کو حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا ،درخواستوں میں موقف کیا گیا ہے کہ صاف پانی کرپشن کیس،رمضان شوگر ملز کے فضلہ جات اور آمدنی سے زائد اثاثوں سے متعلق بے بنیاد مقدمات کی نیب انکوائری کررہاہے ،درخواست گزارپہلے ہی صاف پانی کمپنی اور رمضان شوگر ملز انکوائری میں سوالنامہ کا جواب اور ریکارڈ فراہم کرچکا ہے،نیب کی جانب سے رمضان شوگر ملز کے خراب پانی کے نکاس اور شریف ڈیری فارم کے معاملے پر طلب کیا گیا ہے،درخواست میں قانونی قانونی نکتہ اٹھایا گیاہے کہ رمضان شوگر ملز کے فضلہ جات سے متعلق نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں،یہ معاملہ ماحولیاتی تحفظ کے ادارہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔اس بابت درخواست گزار ایجنسی سے مکمل تعاون کر رہا ہے ۔درخواست میں مزید کہا گیاہے کہ ان کے والد میاں شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں بلا کر آشیانہ کیس میں گرفتار کر لیا گیا، درخواست میں خدشہ ظاہر کیا کہ نیب حمزہ شہباز کو بھی اس طریقے سے گرفتار کر لے گا ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تینوں انکوائریز میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے ، حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے دوران سماعت پولیس کی اضافی نفری ہائیکورٹ کے داخلی خارجی اور کمرہ عدالت کے باہر موجود رہی ،حمزہ شہباز کی پیشی پر کارکنان اور وکلاء کی بھی بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی،کارکنوں نے عدالت عالیہ کے احاطہ میں حمزہ شہباز کے حق میں نعرے بازی کی ،سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس نے کارکنان کی بڑی تعداد کو کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیااورعدالت کو جانے والے راستے غیر متعلقہ افراد کے لئے بند کردیئے گئے ۔

توسیع

مزید : صفحہ اول