سب اچھا ہے

سب اچھا ہے
سب اچھا ہے

  

سب اچھا ہے ، موسم بدل رہا ہے ، آسمان بادلوں سے گھرا ہوا ہے ، باغات پھولوں سے لدے ہوئے ہیں، سڑکیں گاڑیوں کے اژدھام سے گھری ہوئی ہیں ، دکانیں کھلی ہوئی ہیں، دفتروں میں حاضری رجسٹر کھلے ہوئے ہیں ، سویٹر، جیکٹیں اور گرم اونی کپڑے کھولے جا رہے ہیں ، پہنے جا رہے ہیں ، مولی والے پراٹھوں کی خوشبو سے آنگن مہکے ہوئے ہیں، گرم چائے اور تیز کافی میں چینی کے چمچ انڈیلے جا رہے ہیں، گھونٹ پر گھونٹ بھرے جا رہے ہیں اور کھابے کھائے جا رہے ہیں !۔۔۔یہ الگ بات کہ گھر کی ہنڈیا میں گوشت کی گمشدگی کا قصہ عام ہے، مرغی کی قیمت چڑھ گئی ہے ، گوشت کا نرخ کیا تھا، کیا ہے ، کچھ یاد نہیں آرہا ہے ، سبزیوں اور دالوں پر زور ہے حالانکہ سبزیاں اور دالیں بھی مہنگی ہیں مگر مرغی اور گوشت کے مقابلے میں سستی لگتی ہیں اس لئے کھائی جا رہی ہیں۔۔۔موت سستی اور زندگی مہنگی ہو جائے تو لوگ چوائس کرہی لیا کرتے ہیں!

تاہم سوچئے کہ سادہ اورہلکی غذا یوں بھی تبخیر معدہ کی شکائت نہیں ہونے دیتی ، پیٹ میں گیس کے گول گول گولے گھومتے محسوس نہیں ہوتے ، طبیعت مکدر نہیں ہوتی اور میڈیکل سٹوروں کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔اسی طرح معیشت کے سکڑنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کام جلدی ختم ہو جاتا ہے ، سر پر سوار نہیں رہتا ہے ، دوسرا کام پہلے کام کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کرتا نظر آتا کہ آپ کے سر پر سوار ہو سکے، ان دنوں تو کام سوار ہو بھی جائے تو بھی بہت سارا وقت بچ جاتا ہے ، پہلے تو صبح کی خبرتھی نہ شام کی ، اب ذرا فرصت ملی ہے تو باغوں کی سیر کیجئے ، ضروری تو نہیں کہ ڈاکٹروں کی فیس ادا کر کے ہی صحت مند رہنے کا سامان کیا جائے۔ یوں بھی کام کی زیادتی کام سے جی اچاٹ کردیتی ہے ، باربار کا اعادہ ایک ہی بات کو بے معنی اور کام کو بے وقعت کردیتا ہے ۔

کام زیادہ تھا تو لوگ ناخوش تھے ، کام کم ہے تو لوگ ناخوش ہیں ،انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا کیونکہ خوشی مستقل ہوتو بے معنی ہو جاتی ہے اور وہ بھی ایک کام بن جاتی ہے اور پھر اس کام سے ہی لطف لیا جاتا ہے ۔

کھلاڑی گراؤنڈ میں بھاگ بھاگ کر بے حال ہوئے ہوتے ہیں، مگر خوش ہوتے ہیں کہ ان کے اعضا تنومند ہیں ، جہاں دھرتے ہیں پاؤں وہیں پڑتا ہے، لیکن بھاگنے کے دوران وہ جس انداز میں بے حال ہوئے ہوتے ہیں اسے دیکھ کر ان پر رحم آتا ہے۔جیسے کام سے لدا پھدا شخص قابل رحم ہوتا ہے۔ یہ الگ بات کہ بے کار شخص اس سے بھی زیادہ قابل رحم ہوتا ہے ۔

اس لئے ضروری ہے کہ توازن پیدا کیا جائے ، جو حاصل ہے اس کا لطف لیا جائے اور جو حاصل نہیں ہے اس کی تمنا کی جائے، کیونکہ جو ختم ہو سکتا ہے وہ شروع بھی تو ہوا تھا وگرنہ تو جو کام شروع ہوتا ہے اس کے خاتمے کی تمنا دل میں رہتی ہے ۔

کام کوئی بھی ہو، وقت کیسا بھی ہو ۔۔۔تحفظ کی خواہش ہمہ وقت رہتی ہے ۔ تحفظ نہ ہو تو کروڑوں کا کام بھی بے وقعت اور تحفظ ہو تو دوکوڑی کا کام بھی بہت ہوتا ہے۔ معیشت میں تحفظ کا عنصر لازمی موجود رہتا ہے ، حکومتیں اپنی ناتجربہ کاری سے جب اس عنصر پر گرفت کمزور کردیتی ہیں تو معیشت ڈانواڈول ہو جاتی ہے جیسے پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو قرضوں کی ادائیگی کے نام پر معیشت میں تحفظ کے عنصر پر گرفت کو کمزور کیا گیا اور اب عالم یہ ہے کہ معیشت تو قرضوں کے بوجھ سے نکل آئی ہے مگر حکومت مضبوط نہیں رہی ہے ، اس کے جانے کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

تاہم ناقدین سے گزارش ہے کہ ملک انہیں کو درست کرنے دیجئے جن کی حکومت ہے ، آپ اپنے دماغ کی درستگی پر توجہ رکھئے ۔ کیا ہوا جو معیشت سست ہے، دکانوں پر بِکری نہیں ہے، گاہک کا انتظار موت کے انتظار سے بڑھ کر لگ رہا ہے ، کیا ہوا،جو پہلی سہ ماہی میں ٹیکس کم اکٹھا ہوا ہے ، کرپشن کے خلاف زبانی جہاد جاری ہے اور سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے کیونکہ یہ سب ضروری ہے۔ اب اگر حکومت نے حکومت میں آکر بھی اپنے لوگوں کو ہی گرفتار کرناہے زرداریوں اور شریفوں کو کون پکڑے گا؟انہوں نے کون سا اپنے ادوارِ حکومت میں خود کو نیب کے حوالے کیا تھا ؟ اور نیب اب بھی کون سا حکومت کے لوگوں پر ہاتھ ڈال سکتی ہے،اس کے لئے اسے موجودہ حکومت کے اپوزیشن بن جانے کا انتظار کرنا پڑے گا، تب ہی موجودہ حکومت کو نیب کی برائیاں نظر آئیں گی جیسے نون لیگیوں اور پیپلیوں کو اب نظر آرہی ہیں۔

یوں بھی حساب کتاب لینے والے سے کون خوش ہوتا ہے ، یہاں تو بیگمات سے حساب مانگ لیں تو منہ بسورکر بیٹھ جاتی ہیں ۔ اس لئے نیب جو کچھ کر رہی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی جس کا مطلب ہے کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے ، سب اچھا ہے۔ حاکم وقت کا حقہ پانی بند کرکے اپنی روزی روٹی پر لات کب ماری جا سکتی ہے ۔ اسے آٹے دال کا بھاؤ تبھی بتایا جا سکتا ہے جب وہ مسند سے اتر جائے یا اتار لیا جائے۔

اس وقت احتساب سب سے بڑا نعرہ اور مطالبہ بن چکا ہے ،لوگ اپنے سوا سب کا احتساب چاہتے ہیں ، خواہ یہ ایک ناجائز مطالبہ ہی کیوں نہ ہو۔ نون لیگ کی قیادت کا احتساب ہو نہ ہو مگر دماغ ضرور درست ہو رہا ہے اور دماغ کا درست ہونا بہت ضروری تاکہ سب اچھا نظر آسکے!

مزید : رائے /کالم