توانائی بحران کا حل سندھ کے پاس ہے ،گیس کا حصہ دیا جائے :امتیاز علی شیخ

توانائی بحران کا حل سندھ کے پاس ہے ،گیس کا حصہ دیا جائے :امتیاز علی شیخ

کراچی(اکنامک رپورٹر )سندھ کے صوبائی وزیر برائے توانائی امتیاز علی شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کے توانائی بحران کا حل سندھ کے پاس ہے، جنوری تک تھر سے 330میگاواٹ بجلی گرڈ میں شامل کردی جائے گی، سندھ کو گیس کا حصہ دیا جائے تاکہ صنعتوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، صدر دانش خان، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، سینیئر نائب صدر فراز الرحمن، نائب صدر ماہین سلمان، سابق صدور گلزار فیروز، فرحان الرحمن،اکبر فاروقی ، احتشام الدین اور دیگر نے کاٹی آمد پر صوبائی وزیر توانائی کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ایس ایم منیر نے کہا کہ سندھ کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں، امن و امان کی بحالی کے باوجود گزشتہ دس برسوں میں سندھ میں نئی صنعتیں نہیں لگ سکیں، جس کی بنیادی وجہ بیوروکریسی کی جانب سے تاخیر ہے۔ کاٹی کے صدر دانش خان نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا واحد طریقہ برآمدات میں اضافہ ہے، مہنگی توانائی کے باعث پاکستانی صنعتیں خطے کے ممالک کا مقابلہ نہیں کرپاتیں اور یہی وجہ ہے کہ برآمداتی مارکیٹ میں ہمارا حصہ دیگر ممالک لے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی و وفاقی سطح پر برآمداتی شعبے کو اولین ترجیح بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے تقریباً دو گنا ہے، اس کے باوجود صنعتیں توانائی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔کاٹی کے صدر دانش خان نے کہا کہ زیرو ریٹ کی رعایت پانچ صنعتی شعبوں سے بڑھا کر چاول، سی فوڈز، آئی ٹی، پھل اور سبزیوں اور زراعت کو بھی اس میں شامل کیا جائے، اسی طرح گلہ بانی اور زرعی شعبے کو سہولیات فراہم کی جائیں ، چین ان شعبوں میں ایک بڑا خریدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں سے نجات کے لیے ملکی وسائل پر انحصار کیا جائے۔ دانش خان نے مطالبہ کیاکہ سندھ چوں کہ اپنی گیس خود پیدا کرتا ہے اس لیے اس کا قانونی و آئینی حق دیا جائے، صنعتیں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا نے کہا کہ ونڈ پاؤر کے منصوبوں کے لیے بزنس کمیونٹی کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ بعدازاں کاٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ ونڈ کوریڈور سے 50ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، وفاق میں سندھ کے توانائی کے 60منصوبے ڈھائی سال سے زیر التوا ہے، گزشتہ پانچ برسوں میں سندھ میں تیل کی دریافت کا ایک لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا پاکستان میں گیس کی مجوعی پیدوار میں سندھ کا حصہ 70فی صد ہے، اس کے باوجود ہمیں آئین کے آرٹیکل 152کے تحت ہمارا حصہ نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ سولر کے 25اور ونڈ کے 35منصوبوں کی منظوری گزشتہ ڈھائی برس سے وفاق میں زیر التوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا، سی پی پی اے اور این ڈی ٹی سی میں سندھ کی نمائندگی نہیں اور نیپرا میں صرف ایک نمائندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ملکی معیشت کو آگے لے جانا چاہتے ہیں توتوانائی کے شعبے میں سندھ کے تحفظات کو دور کریں، اﷲ تعالی نے سندھ کو وسائل سے مالا مال کیا ہے ہم توانائی کے شعبے میں خود مختار ہوسکتے ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا صنعتوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ تشویش کا باعث ہے، اپنا حصہ لینے کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے بزنس کمیونٹی کو دعوت دیتا ہوں، حکومت آپ کو مکمل معاونت اور سہولیات فراہم کرے گی۔ اس موقعے پر صوبائی وزیر نے تاجروں اور صنعت کاروں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

Back to Conversion Tool

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر