العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ،سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے

العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ،سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان قلمبند کیا جا رہا ...
العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ،سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت جاری ہے ،سابق وزیر اعظم نواز شریف روسٹرم پر آگئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرانا شروع کردیاہے ،احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کیس کی سماعت کررہے ہیں۔

سماعت کے دوران نوازشریف کے وکلا نے سوالنامے میں شامل کچھ سوالات پراعتراض اٹھا دیے،احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے پہلا سوال کیا یہ درست ہے کہ آپ عوامی عہدیداررہے ہیں؟ نواز شریف کے وکلاءنے جج کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ سوالات گنجلک اورافواہوں پرمبنی ہیں جبکہ کچھ سوالات میں ابہام بھی پایا جاتاہے۔جس طرح کی ٹرمزسوالات میں استعمال ہوئی ہیں وہ عام انسان کیلیے سمجھناآسان نہیں۔نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے عدالت کے روبرو کہا کہ ہمیں یہ سوالات سمجھ آرہے ہیں،جج ارشد ملک نے نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ شریف خاندان کے بااثر شخص تھے۔نواز شریف نے جواب دیا کہ میرے والد مرحوم میاں محمد شریف آخری وقت تک خاندان کے بااثرشخص تھے،انھوں نے عدالت کے روبرو کہا کہ میرے پاس 1999سے 2013تک عوامی عہدےدار نہیں رہا جبکہ 2000سے 2007تک جلاوطن رہا،تین بارملک کا وزیراعظم رہا ہوں۔یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم،وزیراعلیٰ،وزیرخزانہ اوراپوزیشن لیڈررہ چکا ہوں۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف سے جوابات کی کاپی لے لی اور کہا کہ یہ جوابات کی کاپی مجھے دے دیں میں خود ہی پڑھ لوں گا ۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد