’’ یہ صرف تفتیشی کی رائے ہے، آخری وقت تک شریف خاندان کا سب سے بااثر شخص یہ تھا، میں نہیں‘‘ نوازشریف نے بھری عدالت میں اعتراف کرلیا

’’ یہ صرف تفتیشی کی رائے ہے، آخری وقت تک شریف خاندان کا سب سے بااثر شخص یہ ...
’’ یہ صرف تفتیشی کی رائے ہے، آخری وقت تک شریف خاندان کا سب سے بااثر شخص یہ تھا، میں نہیں‘‘ نوازشریف نے بھری عدالت میں اعتراف کرلیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں بطور ملزم اپنا بیان قلمبند کرانا شروع کردیاہے، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔

سماعت شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم نواز شریف کو روسٹرم پر بلایا گیا جہاں سابق وزیراعظم کا 342 کے تحت بیان قلم بند کیا جا رہا ہے، عدالت نے سابق وزیراعظم سے استفسار کیا کہ آپ عوامی عہدوں پررہنے کے باعث شریف خاندان کے سب سے بااثرشخص تھے؟اس پر نوازشریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تفتیشی کی رائے تھی کہ میں شریف خاندان کاسب سے بااثرشخص تھا، میرے والدآخری سانس تک خاندان کے سب سے بااثرشخص تھے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2001 سے 2008 تک جلاوطن تھا،12 اکتوبر 1999سے مئی 2013 تک کسی عوامی عہدے پرنہیں رہا، عدالت میں ویلتھ اسٹیٹمنٹس اورویلتھ ٹیکس ریٹرن میں نے ہی جمع کرائے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد