ڈریپ کامستقل سی ای او کیوں نہیں لگایاجارہا؟حکومت 15 دن میں فیصلہ کرے،چیف جسٹس

ڈریپ کامستقل سی ای او کیوں نہیں لگایاجارہا؟حکومت 15 دن میں فیصلہ کرے،چیف جسٹس
ڈریپ کامستقل سی ای او کیوں نہیں لگایاجارہا؟حکومت 15 دن میں فیصلہ کرے،چیف جسٹس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ڈریپ کامستقل سی ای او کیوں نہیں لگایاجارہا؟، سیکرٹری ہیلتھ 2 دن میں سی ای او کے تقررکی سمری تیارکریں،سمری مجازاتھارٹی کے سامنے پیش کی جائے،حکومت 15 دن میں سمری پرفیصلہ کرے۔

چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں بنچ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کی، حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اورادویہ سازکمپنیوں میں اتفاق رائے ہوچکا،ڈالرکے نرخ بڑھنے سے ادویات کی قیمتیں بڑھیں گی،مخدوم علی خان نے کہا کہ حکومتی نوٹیفکیشن کے اجراتک قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا،کچھ ادویات کی قیمتیں 13 سال سے نہیں بڑھیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ڈریپ کامستقل سی ای او کیوں نہیں لگایاجارہا؟،سیکرٹری ہیلتھ 2 دن میں سی ای او کے تقررکی سمری تیارکریں،چیف جسٹس نے کہا کہ سمری مجازاتھارٹی کے سامنے پیش کی جائے،حکومت 15 دن میں سمری پرفیصلہ کرے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد