”نیب کے یہ تین افسران تقرری کے معیار پر پورا نہیں اترتے اس لیے ان سے عہدہ واپس لیا جائے “ خصوصی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی ، آج کی سب سے بڑی خبر

”نیب کے یہ تین افسران تقرری کے معیار پر پورا نہیں اترتے اس لیے ان سے عہدہ ...
”نیب کے یہ تین افسران تقرری کے معیار پر پورا نہیں اترتے اس لیے ان سے عہدہ واپس لیا جائے “ خصوصی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی ، آج کی سب سے بڑی خبر

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نیب میں خلاف ضابطہ تقرریوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی ہے جس میں انکشاف ہواہے کہ قومی احتساب بیورو کے تین افسران اپنی تقرری کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں اور انہیں ان کے محکموں میں واپس بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے نیب میں خلاف ضابطہ تقرریوں پر ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے متعلقہ افسران کی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی۔خصوصی کمیٹی میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ایک رکن اور نیب کے ڈائریکٹر جنرل شامل تھے۔کمیٹی نے رپورٹ میں تجویز دی کہ 17 میں سے فرمان اللہ اور فیاض احمد قریشی کو واپس ان کے پرانے محکمے میں بھیج دیا جائے۔فرمان اللہ اس وقت نیب خیبرپختونخوا اور فیاض احمد قریشی نیب سکھر کے ڈائریکٹر ہیں۔

خصوصی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 گریڈ کے افسر فرمان اللہ نیب میں اپنے عہدے کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے کیونکہ انہیں ان کےپرانے محکمے نے جو تجربے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے وہ اس ملازمت کے میعار پر پورا نہیں اترتا۔کمیٹی کی جانب سے تجویز دی گئی کہ اگر قانونی طور پر ممکن ہوسکتا ہے تو انہیں ان کے پرانے محکمے میں واپس بھیج دیا جائے۔نیب سے قبل فرمان اللہ خیبرپختونخوا کے فزیکل پلاننگ اینڈ ہاو¿سنگ ڈپارٹمنٹ اور فرنٹیئر ہائی وے اتھارٹی کا حصہ تھے۔خصوصی کمیٹی نے کہا کہ انہیں جو ایکسپریئنس سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تحقیقات، انکوائری، ریسرچ اور قانونی معاملات کا تجربہ نہیں ہے۔

فیاض احمد قریشی کا تعلق کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) سے تھا اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان کے بارے میں بھی یہی تجویز پیش کی ہے کہ اگر قانونی طور پر ممکن ہوسکے تو انہیں ان کے گزشتہ محکمے میں واپس بھیج دیا جائے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی جانب سے جمع کروایا گیا ایکسپریئرنس سرٹیفکیٹ بھی ان کی نیب میں متعلقہ ذمہ داریوں کے مطابق نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی یہ ملازمت جاری رکھنے کے اہل نہیں ہیں۔کمیٹی نے تجویز پیش کی ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب مبشر گلزار اپنی ملازمت جاری نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی انہیں ان کے گزشتہ محکمے میں واپس بھیجا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

کمیٹی نے جن افسران کی ملازمت جاری رہنے کی تجویز پیش کی ہے ان میں ظاہر شاہ، بریگیڈیئر (ر) فارق نصیر اعوان، الطاف باوانی، حسین احمد، عتیق الرحمٰن، مرزا سلطان سلیم، مسعود اسلم، مرزا عرفان، نعمان اسلم، رضا خان، عبدالحفیظ خان، مجاہد اکبر بلوچ، ایس ایم حسنین، عبدالحفیظ صدیقی، ظفر اقبال خان، غلام فاروق اور لیفٹننٹ کرنل (ر) طارق محمود بھٹی شامل ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی