انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 17

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 17
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 17

  

پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کی صورتحالآ کم و بیش تین دہائیاں قبل خرکار کیمپوں کا تذکرہ عام سننے کو ملتا تھا۔وہ چند خوش نصیب جو ان کیمپوں سے جان بچا کر بھاگ آنے میں کامیاب ہوتے، وہ ان خرکار کیمپوں میں کام کرنے والے حرماں نصیبوں کی حالت زار کی دلخراش منظرکشی کرتے ۔اس قسم کے کیمپ کی اکثریت چونکہ علاقہ غیر میں ہوتی تھی(جہاں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر تھی) سو حکومت بھی اس معاملے میں بے بسی کی تصویر بنی رہی۔ خرکار کیمپ ماضی میں بھی ریاست کے اندر ریاست کی مانند اپنا وجود قائم رکھے ہوئے تھے اور آج بھی یہاں سے بھاگ کرآنے والوں کی داستانیں شہ سرخیوں اور نیوز بلیٹنز کی زینت بنتی ہیں۔آج صرف خرکار کیمپوں میں ہی بنی آدم کی تذلیل نہیں ہوتی بلکہ قحبہ خانوں، گداگری ، گھریلو سطح پر لی جانے والی بیگار، اینٹوں کے بھٹوں میں کام کرنے والے مزدور اور نجی جیلوں میں قید جبری مشقت کرنے والے بھی اس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب یہ شعبے ماضی کی نسبت زیادہ منظم ہو چکے ہیں۔اب یہ تمام کے تمام شعبہ جات مجموعی طور پر لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کھربوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے ایجنٹس گلی ، محلوں سے لے کر بیرون ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں اور ایک بار ان کے چنگل میں پھنس جانے والے بدقسمت کے لئے پھر واپسی کا سفر بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ انسانی سمگلنگ کی یہ وہ مختلف اشکال ہیں جن کے سدباب کیلئے سول سوسائٹی اور حکومتی عہدیداران دعوے توکرتے ہیں لیکن عملی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑ رہی ہے۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 16پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا آغاز کب اور کیسے ہوا، اس بارے میں باقاعدہ اعداد وشمار کا سہارا لینا تو ممکن نہیں تاہم یہ امر طے شدہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی انسانی سمگلنگ کا دھندہ جاری ہے۔ اس دور میں سمگل ہونے والوں میں زیادہ تعداد مہاجرین میں شامل لٹی پٹی خواتین کی تھی جنہیں ناپاک مقاصدپر مبنی کاروبار کے لئے اغوا کیا گیا، اس کے علاوہ بچوں کو گداگری کی خاطر اغوا کرنے والے گروہوں کی سرگرمیاں بھی منظر عام پر آئیں۔ انسانی اعضاء فروخت کرنے والے منظم گروہ بھی سادہ لوح پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر لوٹتے رہے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی صورتحال کے سبب یہ علاقہ جہاں دیگر شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے باعث کشش بنا رہا وہیں اس مکروہ دھندے سے وابستہ افراد بھی آسانی کے ساتھ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اس سرزمین کو استعمال کرتے رہے۔

ابتداً پاکستان میں سمگل ہو کر آنے والوں کی منزل مقصود یہ ملک ہی ہوتاتھا، تاہم اب صورتحال کچھ زیادہ گھمبیر ہوچکی ہے۔اب پاکستان اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے لئے محض منزل نہیں رہا بلکہ ایک گزرگاہ کی حیثیت بھی اختیار کرگیا ہے۔ اب انسانی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گروہ فلپائن، برما اور اس جیسے دیگر پسماندہ ممالک سے مرد و خواتین اور بچوں کو پاکستان لاتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعدیہاں سے انہیں یورپی منڈیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کردیتے ہیں۔ اسی طرح افغان باشندوں کو بھی یورپی ممالک تک پہنچانے کے لئے پاکستان کو بطور گزرگاہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان افراد کوا سمگلنگ کے مقاصد کے اعتبار سے اگر مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے تو یہ امر سامنے آتا ہے کہ پاکستان سے سمگل ہونے والوں کی اکثریت بہتر روزگار کی متلاشی ہوتی ہے۔ دوسری جانب اندرون پاکستان ایک جگہ سے دوسری جگہ(عمومی صورتحال میں یہ سمگلنگ ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں ہوتی ہے) سمگل کیے جانے والوں میں زیادہ بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے ۔یہاں،سمگلنگ کا اصل مقصد معصوم بچوں کو گداگری کیلئے استعمال کرنا، کم عمر یا خوبصورت عورتوں کوجسم فروشی کیلئے استعمال کرنا، یا پھر ان سے مختلف صنعتوں میں زبردستی بیگار لینا مقصود ہوتا ہے۔ ان مغویوں سے جن صنعتوں میں زبردستی مزدوری کروائی جاتی ہے، ان میں اینٹیں تیار کرنے والے بھٹے، قالین بانی کی صنعت،ہاتھ کی کھڈیاں،کان کنی کی صنعت، پہاڑ کھودنے کا کام وغیرہ شامل ہیں۔ یوں مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا بنیادی محرک روزگار کے بہتر مواقع ہیں ۔جس کی بناء پر اکثریت خود ان ایجنٹس کے ذریعے بیرون ملک جانے کے جھانسے میں آجاتی ہے اوراس خواہش کی تکمیل میں پیش آنے والے ممکنہ خطرات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے ۔

یہ سمگلرز عام افراد کو امریکہ، برطانیہ،یورپ، آسٹریلیا،ایشیاء پیسیفک اور مڈل ایسٹ جیسے ممالک میں داخلے کا خواب دکھاکر مال بٹورتے ہیں۔ تاہم اب یہاں کے ایئرپورٹس پر مسافروں کے سفری دستاویزات کی پڑتال کیلئے جدید ترین کمپیوٹرائزڈ مشینری کی تنصیب کی وجہ سے ان ممالک میں داخلہ بہت مشکل ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے اب یہاں داخلے کے لئے فضائی راستہ شاذ ونادر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔(ماضی میں پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات پر تصویر کی تبدیلی کے بعد جعلی دستاویزات پرسفر عام تھا) موجودہ حالات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے راستے غیر قانونی سرحدی راہداریاں اور سمندری راستے ہیں۔ پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ انتہائی طویل سرحدیں موجود ہیں جو ایسے ایجنٹس کے لئے سمگلنگ کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد کی لمبائی کم وبیش چوبیس سو کلو میٹر ہے جبکہ اس میں چمن اور طورخم کے مقام پر امیگریشن پوسٹیں ہیں۔یہاں ملاحظہ فرمائیں کہ ان پوسٹوں کے ذریعہ پاکستان اورافغانستان میں آنے جانے والے مسافروں کی تعداد محض پانچ فیصد ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس راستے سے افغانیوں کے لئے غیر قانونی دستاویزات پر پاکستان میں داخلہ بہت آسان ہے۔ ایجنٹس ان چیک پوسٹس کے ذریعے سے سنٹرل ایشیائی اور افغان باشندوں کو پاکستان سمگل کرتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان اور ایران کی سرحد کی جانب دیکھتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتاہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان واقع سرحد نو سو کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس قدر طویل سرحد پر محض تفتان کے مقام پر چیک پوسٹ واقع ہے، جہاں مسافروں کے سفری دستاویزات کی پڑتال کے لئے جدیدسہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بعض اوقات تو یہاں موجود عملے کی تعداد کم ہو کر محض پانچ تک رہ جاتی ہے۔ دوسری جانب مند کے مقام پر واقع چیک پوسٹ نہایت کم استعمال میں رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ وہ گروہ اٹھاتے ہیں جن کا مقصد جعلی سفری دستاویزات پر مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہوتا ہے۔

پاکستان سے تفتان اور پھر ایران تک کا سفر ہی بسا اوقات مسافروں کی ہمت توڑنے کے لئے کافی ہوتا ہے کیونکہ اس دوران انہیں بلوچستان کی خشک ، بنجر بے آب و گیاہ پہاڑی راستہ پر اپنا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ایران پہنچنے پر، منزل کے متلاشی ان بے سمت مسافروں کو پہلے ترکی اور پھر یونان روانہ کیا جاتا ہے، لیکن اس پورے سفر کو کامیابی سے مکمل کرنے والے محض ایک تہائی افراد ہوتے ہیں۔ باقی ماندہ دو تہائی افراد یا تو سفر کی صعوبتیں سہنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، یا پھر سرحدی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوکرجیلوں میں جا پہنچتے ہیں ۔ وہ مسافر جو یورپ کی بجائے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں، ان کے لئے ایجنٹس عموماًخشکی کی بجائے بحری سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کیلئے مسافروں کو پہلے بلوچستان سے مند بیلو سمگل کیا جاتا ہے، اس کے بعد یہ قسمت کے مارے مسافر کشتیوں اور چھوٹے بڑے بحری جہازوں کے ذریعے سے مسقط پہنچائے جاتے ہیں جہاں سے انہیں منزل مقصود پر پہنچایا جاتا ہے۔ ان غیر قانونی طریقوں سے پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کی کل تعداد کیا ہے، اس بارے میں ایف آئی اے، تاحال اندازے ہی لگا رہی ہے تاہم ہر سال بیرون ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد کے پیش نظر ادارے کا اندازہ ہے کہ اوسطاً بتیس سے پینتیس ہزار افراد ہر سال بیرون ملک ان غیر قانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کا سفر سرحد پر ہی ختم ہوجاتا ہے جب وہ پاکستانی یا ایرانی سرحدی پولیس کی نظروں میں آتے ہیں ۔یونان تک پہنچتے پہنچتے مسافروں کی بڑی تعداد ہمت یا قسمت کے ہاتھوں ہار چکی ہوتی اور یوں منزل مقصود پر پہنچنے والے خوش قسمتوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری جانب ان ایجنٹس کے ہاتھوں میں اپنی عمر بھر کی کمائی اور زندگی کی ڈور تھمانے والوں کی بدولت ان ایجنٹس کی سالانہ کمائی لاکھوں یا کروڑوں میں نہیں بلکہ اربوں میں ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں موجود ان ایجنٹس کی سالانہ کمائی کے بارے میں انتہائی محتاط اندازہ لگایا جائے تو بھی یہ کمائی کم از کم دس سے گیارہ کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

پاکستان میں ایف آئی اے کا ادارہ غیر قانونی طریقوں سے سرحد پار کرنے والوں کیخلاف ماضی کی نسبت اب زیادہ سرگرم ہے۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاک ایران سرحد اور ایران میں داخل ہونے میں کامیاب ہونے والے کم و بیش پندرہ ہزار افراد کو ڈی پورٹ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب عمان سے ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد سات ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان اعداد وشمار کی روشنی میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے، کہ یورپی معاشی بحران کے باوجود آج بھی مشرق وسطیٰ میں موجود تیل کی دولت کے مقابلے میں یورپ کی چمک دمک سادہ لوح پاکستانیوں کو اپنے جانب کھینچنے میں زیادہ کامیاب ہے یا پھر یہ کہ پاکستانی، خلیجی ریاستوں کے سخت قوانین کے خوف کے پیش نظر ان ممالک کی بجائے یورپ میں جانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسی بارے میں ایف آئی اے کے ذیلی ادارے محکمہ امیگریشن کے مطابق معمولی سمجھے جانے والے پیشوں مثلاً ڈرائیونگ،لفٹ آپریٹنگ، میکینک، راج گیری اور اس قسم کے دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد مشرق وسطیٰ کا رخ کرتے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں داخلہ ان افراد کے لئے زیادہ باعث کشش ہے جو پڑھے لکھے اور کسی نہ کسی شعبہ ہائے زندگی میں ڈگری یافتہ ہیں۔ گوکہ ادارہ ماضی کی نسبت، اس ضمن میں زیادہ فعال دکھائی دیتا ہے لیکن انسانی سمگلنگ کا مکروہ دھندہ آج بھی اپنے پورے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ