اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 49

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 49
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 49

  

ایک بزرگ کی کسی شخص نے دعوت کی۔ جب وہ انہیں گھر لے گیا۔ تو چند لمحے بٹھانے کے بعد بولا۔ ’’ تھوڑی دیر کے بعد تشریف لائیے ابھی کھانا تیار نہیں ہوا۔ ‘‘ اس پر وہ بزرگ اپنے گھر لوٹ آئے۔کچھ دیر بعد وہی شخص دوبارہ اُن کے ہاں پہنچا اور بولا۔ ’’ حضور ! جلد چلیے کھانا تیار ہے۔ ‘‘ وہ اُٹھ کر پھر ساتھ چل پڑے مگر اس شخص نے دوبارہ انہیں یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ کھانا بھی تیار نہیں ہے۔ اسی طرح اُس شخص نے سات مرتبہ اُن سے یہی سکوک کیا۔ آخری مرتبہ وہ اُن کے قدموں میں گر پڑا اور کہنے لگا۔

’’ میں نے یہ گستاخی محض اس وجہ سے کی کہ آپ کو آزماؤں کہ آپ کس صبروتحمل کے بزرگ ہیں لیکن میں نے جیسا سنا تھا اُس سے بھی زیادہ پایا۔‘‘ اس پر انہوں نے فرمایا۔ ’’ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ ہر کتے میں یہ خصلت موجود ہے جب اس کو کھانا دکھاؤ گے ، فوراً چلا آئے گا اور جب جھڑک دو گے چلا جائے گا۔ تم اس سے ہزار بار بھی ایسا کرو گے تو وہ کبھی تنگ نہ ہوگا۔ ‘‘ یہ سن کر وہ شخص اپنے آپ میں بے حد شرمندہ ہوا۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 48پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دن ہارون الرشید اور ابو یوسف حضرت داؤد طائی کی ملاقات کے لیے گئے آپ نے اُن دونوں کے لیے دروازہ نہ کھولا۔ جس پر ابو یوسف نے انہیں پکارتے ہوئے کہا۔ ’’ جو علم تم نے پڑھا ہے کیا اس میں یہ بھی مسئلہ ہے کہ جو کوئی ملاقات کو آئے تو اس سے ملاقات نہ کرو۔ ‘‘

آپ نے فرمایا۔ ’’ میں نے جو علم پڑھا ہے ، اس میں تم جیسے بندوں کی ملاقات سے منع فرمایا گیا ہے۔ ‘‘

اس پر ابو یوسف نے آپ کی والدہ محترمہ کی وساطت اور سفارش سے آپ سے سے ملاقات کی۔ ہارون الرشید نے عرض کیا۔ ’’ کچھ حاجت ہوتو فرمائیے۔‘‘

آپ نے فرمایا۔’’ ہاں ! تم ایک گٹھڑی آٹا اپنے سر پر رکھ کر لاؤ۔‘‘

بادشاہ بولا۔ ’’ ٹھیک ہے ، رات کو لے آؤں گا۔‘‘

آپ نے فرمایا۔ ’’ نہیں ، یہ آٹا دن کو لانا ہوگا۔ ‘‘

بادشاہ نے کہا۔ ’’ پھر جنگل کی جانب سے لاؤں گا۔ ‘‘

آپ نے فرمایا ۔ ’’ نہیں ، دن کی لاؤ اور بیچ بازار میں سے گزر کر لاؤ۔‘‘ اس پر بادشاہ چپ ہوگیا۔

پھر آپ نے فرمایا۔ ’’ مجھ کو آٹے کی حاجت نہیں ہے صرف تم کو آزمانا تھا۔ کس بل بوتے پر بادشاہت کر رہے ہو، اور سارے جہاں کا بوجھ اپنی گردن پر لیے ہوئے ۔ تمہیں تو دنیا سے شرم آتی ہے۔ ‘‘

اس پر بادشاہ زاروقطار رویا پھر بہت سے زرو جواہر اُن کے پاس رکھ کر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی آپ نے وہ سب زرو جواہر اُٹھا کر مکان سے باہر پھینک دیا۔

***

حضرت عثمان ہارونیؒ اپنے وطن ہارون میں مقیم تھے کہ ایک اجنبی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مرید بننے کی خواہش ظاہر کی ۔ چنانچہ ایک عرصہ تک آپ اس کی تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ بعد میں یہ اجنبی حضرت خواجہ معین الدین چشتی سلطان الہند خواجہ غریب نوازؒ کے نام سے مشہور ہوا۔

اس خواجہ معین الدینؒ کے ساتھ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دُعا کی۔ ’’ اے پروردگار ! میرے اس درویش کو قبول فرما۔‘‘آپ کی دُعا قبول ہوئی۔ اس کے بعد آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہیں سے خواجہ غریب نوازؒ کو ہندوستان جانے کا حکم ہوا۔

***

ایک مرتب حضرت ابوالحسن خرقانی ؒ اپنے باغ کی کھدائی کر رہے تھے تو وہاں سے چاندی برآمد ہوئی۔ آپ نے اس جگہ کو بند کرکے دوسری جگہ سے کھدائی شروع کی۔ تو وہاں سے سونا برآمد ہوا ۔ پھر تیسری جگہ سے مردارید اور چوتھی جگہ سے سے جواہرات برآمد ہوئے لیکن آپ نے کسی کو بھی ہاتھ نہ لگایا اور اللہ سے مخاطب ہو کر عرض کیا۔ ’’ ابوالحسن ان چیزوں پر فریضۃ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو کیا اگر دین و دنیا دونوں بھی مہیا ہوجائیں جب بھی وہ تجھ سے انحراف نہیں کر سکتا۔‘‘

ہل چلاتے وقت جب نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ بیلوں کو چھوڑ کر نماز پڑھنی شروع کردیتے۔ جب نماز پڑھ کر کھیت کی جانب دیکھتے تو زمین کو تیار پاتے تھے۔

***

عمر بن عبدالرحمن اوزاعیؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ عید کی رات کو میرا ایک پڑوسی میرے پاس آکر کہنے لگا۔ ’’ صبح کوعید ہے اور میرے بچے بہت زیادہ ہیں۔ میرے پاس اُن کو عیدی دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر حضرت کچھ مدد فرمائیں تو بری شفقت اور مہربانی ہوگی۔‘‘

یہ سن کر مجھے اُس پر رحم آیا۔ پچیس درہم جو میں نے اپنے بچوں کو عیدی دینے کے لیے رکھے ہوئے تھے فوراً اس خیال سے اُسے دے دیئے کہ خدا مجھ کو اور دے دے گا۔ ناگاہ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے مجھے اپنے پاس بلاتے ہوئے کمال ادب سے کہا۔

’’ میں آپ کے باپ کا غلام ہوں لیکن شیطان کے بہکانے پر آپ کے گھر سے بھاگ نکلا تھا لیکن میں جہاں کہیں بھی گیا ضمیر کی ملامت نے مجھے چین نہ لینے دیا۔ اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ علاوہ ازیں میرے پاس پچیس دینار سرخ ہیں۔ چونکہ آپ میرے مالک ہیں اس لیے آپ ان دیناروں کو جیسا چاہیں خرچ کریں۔ آپ کو ان پر پورا اختیار ہے۔ ‘‘ میں وہ دینار لے کر گھر میں داخل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا۔ پھر گھر والوں کو یہ قصہ سناتے ہوئے کہا۔ ’’ اللہ تعالیٰ نے پچیس درہم کے بدلے پچیس دینار سرخ عطا فرمائے۔‘‘ اس کے بعد میں نے اس غلام کو بخوشی آزاد کر دیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے