مچھروں کے ماہر نے ان سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ بتا دیا

مچھروں کے ماہر نے ان سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ بتا دیا
مچھروں کے ماہر نے ان سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ بتا دیا

  

سڈنی(نیوز ڈیسک)مچھروں کی مصیبت انسان کے لئے ایک ایسا معمہ ہے جس کی آج تک پوری طرح سمجھ کسی کو نہیں آ سکی۔ آخر انہیں کیا تکلیف ہوتی ہے کہ یہ انسانوں کو کاٹتے ہیں؟ اور یہ انصاف سے کام کیوں نہیں لیتے، یعنی کسی کو کم اور کسی کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ اور آخر ان سے بچنے کا بھی کوئی طریقہ ہے؟

اب جبکہ موسم بدلتے ہی مچھر ہمیں کاٹنے کیلئے پھر آن پہنچے ہیں تو آسٹریلوی سائنسدان ڈاکٹر کیمرون ویب نے مچھروں کی نفسیات پر تحقیق کر کے کچھ دلچسپ نتائج اخذ کیے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر کیمرون کا کہنا ہے کہ ’’یہ بات سچ ہے کہ مچھر کچھ لوگوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ کاٹتے ہیں۔ اس کا تعلق آپ کے جسم کی مخصوص مہک، درجہ حرارت، اور آپ کے جینز سے ہے۔‘‘

ڈاکٹر کیمرون مزید بتاتے ہیں کہ مچھر اپنی فطرت کو تو بدل نہیں سکتے البتہ آپ ان سے بچنے کے لئے ضرور کچھ اقدامات کر سکتے ہیں۔ بدلتے موسم میں ضروری ہے کہ پوری آستینوں والا لباس پہنیں، صبح اور شام کے اوقات میں کھلے ماحول میں نکلنے سے پرہیز کریں، خصوصاً زیادہ پودوں والی جگہ جیسا کہ پارک وغیرہ میں سیر کے لئے مت جائیں، آپ کے گھر میں کسی جگہ پانی نہیں کھڑا ہونی چاہیے کیونکہ مچھر اس پر جمع ہو جاتے ہیں، اور رات کو سونے سے پہلے مچھر بھگانے والا لوشن لگا لیں، یا پھر ماسکیٹو رپیلنٹ استعمال کریں۔‘‘

مچھر ہمیں کاٹنے کے لئے ہمارا انتخاب کس طرح کرتے ہیں، اس کے بارے میں ڈاکٹر کیمرون نے بتایا کہ ’’مچھر ہمارے جسم سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی مخصوص مہک سے ہمارا سراغ لگاتے ہیں۔ کوئی بھی ایسی چیز جو آپ کے جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہے مچھروں کو آپ کی جانب کھینچتی ہے۔ حاملہ خواتین کے جسم کا درجہ حرارت قدرے زیادہ ہوتا ہے لہٰذا انہیں بھی مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔‘‘

کیا مچھر ایڈز جیسی بیماری ایک انسان سے دوسرے میں منتقل کر سکتے ہیں، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر کیمرون نے کہا کہ ’’یہ بات درست ہے کہ مچھروں کے ذریعے ڈینگی بخار اور زیکا وائرس پھیل سکتا ہے، لیکن ایچ آئی وی ایڈز کی بیماری مچھروں کے ذریعے نہیں پھیلتی۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت