’’ میں 600 سال مستقبل میں ہو کر آئی ہوں، اور دیکھا کہ۔۔۔ ‘‘ مستقبل دیکھ کر آنے کا دعویٰ کرنے والی لڑکی نے ناقابل یقین بات کہہ دی

’’ میں 600 سال مستقبل میں ہو کر آئی ہوں، اور دیکھا کہ۔۔۔ ‘‘ مستقبل دیکھ کر ...
’’ میں 600 سال مستقبل میں ہو کر آئی ہوں، اور دیکھا کہ۔۔۔ ‘‘ مستقبل دیکھ کر آنے کا دعویٰ کرنے والی لڑکی نے ناقابل یقین بات کہہ دی

  

لندن(نیوز ڈیسک)مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی، یہ تو ہر کوئی جاننا چاہتا ہے، مگر اس برطانوی لڑکی کی تو کیا ہی بات ہے ۔ یہ کہتی ہے کہ چھ صدیاں بعد کی دنیا دیکھ کر آئی ہے، اور اب یہ مستقبل کی دنیا کے حیرتناک قصے سب کو سنا رہی ہے۔

اس لڑکی کا نام میا ہے، اور یہ کہتی ہے کہ آج سے چھ صدیاں بعد کی دنیا، یعنی سال 2600 کا سفر کر کے ابھی ابھی واپس آئی ہے۔ یوٹیوب چینل ایپکس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے میا نے بتایا کہ مستقبل کے سفر پر لیجانے کے لئے اس کا انتخاب ایک طویل عمل کے ذریعے کیا گیا، جس کے آخر میں ایک پر اسرار شخص سے ملاقات کروائی گئی۔ میا کے مطابق یہ شخص سکول پرنسپل کے آفس میں اُس سے ملا تھا۔ اس لڑکی نے مزید بتایا کہ وہ ایک ایڈوانس سائنس پروگرام کا حصہ بن چکی جس کا مقصد مستقبل کی دنیا کے راز جانناہے۔

میا نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ مستقبل کی دنیا میں کیسے گئی لیکن اسے سال 2600 کی دنیا جیسی دکھائی دی اسے بیان ضرور کیا ہے۔ ایپکس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ’’ وہاں میں نے روبوٹ دیکھے ، خلائی مخلوقات دیکھیں، اور ان کے ساتھ انسانوں کو بھی دیکھا۔ یہ سب اکٹھے رہ رہے تھے۔ میں اس دنیا میں چلتی پھرتی رہی اور میں نے دیکھا کہ ہر عمارت میلوں تک آسمان کی جانب پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں مجھے بتایا گیا کہ آسمان کا رنگ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سرخ نظر آرہا تھا۔ اس دنیا میں بسنے والے سب لوگوں کے اجسام میں الیکٹرونک چپ نصب تھی۔ اس چپ کی وجہ سے ان کا دماغ کسی سپر کمپیوٹر کی طرح کام کرتا تھا۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس کا تصور ابھی صرف سائنس فکشن فلموں میں ہی پایا جاتا ہے، لیکن میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ چھ صدیاں بعد یہ واقعی ایک حقیقت ہو گی۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ