افغانستان میں قیام امن کے لئے کثیر فریقی مذاکرات میں بھارت کی شرکت مثبت قدم لیکن مقبوضہ کشمیر میں ۔۔۔۔ہندوستان کے شاہی امام نے مودی کو آئینہ دکھا دیا 

افغانستان میں قیام امن کے لئے کثیر فریقی مذاکرات میں بھارت کی شرکت مثبت قدم ...
افغانستان میں قیام امن کے لئے کثیر فریقی مذاکرات میں بھارت کی شرکت مثبت قدم لیکن مقبوضہ کشمیر میں ۔۔۔۔ہندوستان کے شاہی امام نے مودی کو آئینہ دکھا دیا 

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستان کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے گذشتہ دنوں روس میں طالبان کے ساتھ ہونے والے کثیر فریقی مذاکراتی عمل میں ہندوستان کی شرکت کو افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے مودی حکومت سے سوال کیا ہے کہ بھارت کشمیر کے علیحدگی پسندوں اور اپنے ملک کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ان کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کرتا ؟۔

بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق ہندوستان کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے طالبان کے ساتھ جو پالیسی اختیار کی ہے و ہی پالیسی کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں ، برگشتہ کشمیری نوجوانوں ، ماؤ باغیوں ،نکسل وادیوں او رعلیحدگی پسندوں کے معاملہ میں بھی اختیار کرے،مودی حکومت افغانستان میں قیام امن کیلئے تو کوشاں ہیں لیکن اپنے ملک میں قیام امن کے بارے میں اس قسم کی کوئی کوشش نہیں کرتی۔بھارتی شاہی امام کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے کئی بار کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتالیکن اس کے باوجود دہشت گردی کو اسلام اورمسلمانوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ تمام لوگ ہمارے اپنے ہیں اور یہیں کی مٹی سے ان کا تعلق ہے لیکن وہ  قومی دھارے سے کٹ گئے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام لوگوں کو قومی دھارے میں لایاجائے۔مولانا سید احمد بخاری نے کہا کہ ہندوستان ایک خاندان کے مانند ہے،اگر گھر کا کوئی فرد گمراہ ہوجائے تو کیا اسے راہ راست پر لانے کی کوشش نہیں کریں گے ؟ کیا ہم اس سے قطع تعلق کرلیں گے ؟ ۔

مزید : بین الاقوامی