’’ میں اب انسانی گوشت کھا کھا کر تنگ آگیا ہوں‘‘  پولیس اسٹیشن میں داخل ہو کر آدمی نے تھانے دار سے ایسی بات کہہ دی کہ پولیس والوں کی ہوائیاں اُڑ گئیں

’’ میں اب انسانی گوشت کھا کھا کر تنگ آگیا ہوں‘‘  پولیس اسٹیشن میں داخل ہو ...
’’ میں اب انسانی گوشت کھا کھا کر تنگ آگیا ہوں‘‘  پولیس اسٹیشن میں داخل ہو کر آدمی نے تھانے دار سے ایسی بات کہہ دی کہ پولیس والوں کی ہوائیاں اُڑ گئیں

  

کیپ ٹاؤن(نیوز ڈیسک)انسان کے اندر قدرت نے فطری طور پر یہ احساس رکھا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ آپ کسی کو درد سے کراہتے دیکھیں، کسی کا خون بہتا دیکھیں، تو فطری طور پر بے قراری محسوس کرنے لگتے ہیں، مگر یہ کیسا انسان ہے جو اپنے جیسے انسانوں کے جسم کے ٹکڑے کر کے انہیں کھا رہا تھا۔ اور ذرا تصور کیجئے کہ اس نے کتنے انسانوں کا گوشت کھایا ہو گا کہ بالآخر اس کام سے اکتا کر خود ہی پولیس کے پاس جا پہنچا۔ 

اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق پولیس کانسٹیبل ریان نشالی نے بتایا کہ ’’ جب وہ شخص اندر داخل ہوا تو لڑکھڑا رہا تھا اور بولنے کے انداز سے بھی نفسیاتی مریض نظر آرہا تھا۔ اس نے ایک تھیلا میری میز پر رکھا اور کہنے لگا ’ میں انسانوں کا گوشت کھا کھا کر تنگ آچکا ہوں۔ اب میں اسے مزید نہیں کھا سکتا‘۔ پھر اس نے تھیلا کھولا اور اس میں سے ایک انسانی ہاتھ نکال لیا۔ یہ منظر یہ دیکھ کر خوف سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوچکے تھے۔ اس تھیلے میں مزید انسانی اعضا بھی تھے۔ اس کے تھیلے میں ایک زنانہ جوتا بھی تھا اور اس میں سے ناقابل برداشت بدبو آرہی تھی۔‘‘ 

کانسٹیبل ریان کا مزید کہنا تھا کہ ’’موباتھا نامی اس شخص سے تفتیش کی گئی اور وہ ہمیں اپنے مکان پر لے کر گیا۔ یہ ایک کمرے پر مشتمل چھوٹا سے روایتی دیہاتی مکان تھا جو گاؤں سے کچھ دوری پر الگ تھلگ واقع تھا۔ وہ ایک برتن اُٹھا کر میرے پاس لایا جس میں انسانی کان اور جبڑے رکھے ہوئے تھے۔ پھر ایک بالٹی اُٹھا کر لایا جس میں آنتیں اور کچھ دیگر جسمانی اعضاء تھے۔‘‘

قریبی علاقے سے کچھ عرصہ قبل 24سالہ لڑکی زنیلے ہاشواؤ لاپتہ ہوچکی ہے اور ابتدائی تفتیش ظاہر کرتی ہے کہ اسے بھی یہ شخص کھا چکا ہے۔ ملزم کا کہنا ہے کہ اسے خواب میں اس کے بزرگ ہدایت کرتے تھے کہ وہ انسانی گوشت کھائے اور انسان کا خون پیئے۔ اس کا مکان گاؤں سے کچھ دوری پر الگ تھلگ واقع ہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوسکا کہ وہ کس قسم کی سفاکانہ حرکات کر رہا تھا۔ ملزم کی ذہنی حالت ٹھیک نظر نہیں آتی تاہم اس معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس