وہ جیل جہاں مچھلیوں کو قید کیا جاتا ہے

وہ جیل جہاں مچھلیوں کو قید کیا جاتا ہے
وہ جیل جہاں مچھلیوں کو قید کیا جاتا ہے

  

ماسکو(نیوز ڈیسک) حضرت انسان کے کیا کہنے۔ اپنے ساتھی انسانوں کو تو قید خانوں میں ڈالتا ہے، جانوروں کو بھی معاف نہیں کرتا۔ اور ہر طرح کے جانوروں کو انسان کے ہاتھوں قید ہوتے آپ نے دیکھا ہو گا، مگر یہ کیا۔۔۔ وہیل مچھلیوں کو بھی قید کر ڈالا! 

ویب سائٹ ’سائنس الرٹ‘ کے مطابق روس کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب وہیل مچھلیوں کی جیل کا حیرتناک انکشاف ہوا ہے، جہاں مبینہ طور پر سینکڑوں وہیل مچھلیوں کو قید کر کے رکھا گیاہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مچھلیوں کو بیرون ملک، خصوصاً چینی تھیم پارکس کو فروخت کرنے کے لئے قید کیا گیا تھا۔ چین میں درجنوں کے حساب سے تھیم پارک ہیں جو وہیل مچھلیوں کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ اس کاروبار کے حجم کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ بلیک مارکیٹ میں ایک وہیل مچھلی لگ بھگ 80 کروڑ پاکستانی روپے میں بیچی جاتی ہے۔ 

روسی میڈیا کے مطابق وہیل مچھلیوں کی یہ جیل روس کے جنوب مشرق میں نخوڈکا شہر کے قریبی ساحل سے پرے بنائی گئی تھی۔ روسی حکام کو اس جیل کی خبر ہوچکی ہے اور اب یہ تحقیق کی جارہی ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے مچھلیوں کو ساحلی علاقے میں قید کر رکھا تھا۔ میڈیا میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ساحلی علاقے میں وسیع و عریض سمندری باڑے بنا کر ان مچھلیوں کو قید میں رکھا گیا ہے اور ان کی حفاظت کیلئے مسلح گارڈ بھی موجود تھے۔ 

روسی اخبار ’نوائیا گزیٹا‘ کے مطابق ساحلی علاقے میں قید کی گئی وہیل مچھلیوں میں سے 11 عدد ’اوکرا وہیل‘ ہیں جبکہ باقی ’بلوگا وہیل‘ مچھلیاں ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں اس معاملے کے ذمہ داران کے طور پر مچھلیوں کی تجارت سے منسلک چار کمپنیوں ایل ایل سی اوشنیریم ڈی وی، ایل ایل سی ایفالینا ، ایل ایل سی بیلی کٹ اور ایل ایل سی سوچی ڈولفن نیریم کا نام لیا جا رہا ہے، لیکن تاحال یہ اطلاعات تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس