نواز شریف کا بیرون ملک علاج

نواز شریف کا بیرون ملک علاج

  



سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کا مسئلہ ابھی تک اُلجھا ہوا ہے،یا یہ کہیے کہ اُلجھا دیا گیا ہے۔معاملہ سیدھا سادھا ہے، نیب جیل میں ان کی طبیعت شدید خراب ہوئی تو انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال میں لایا گیا۔یہاں وہ پنجاب حکومت کے ماہر ترین ڈاکٹروں کے زیر علاج رہے۔ان کے پلیٹ لیٹس انتہائی کم ہو چکے تھے اور ان کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق تھا۔کراچی سے بین الاقوامی شہرت یافتہ معالج ڈاکٹر طاہر شمسی کو بھی لاہور طلب کیا گیا،ایک بڑا میڈیکل بورڈ سر جوڑے رہا، اور ان کی صحت کو بحال کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پنجاب حکومت اور میڈیکل بورڈ کے ارکان نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔ وزیراعلیٰ نے اس مسئلے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی،نہ شریف فیملی کی براہ راست انتخابی حریف ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس معاملے کو ہلکا لیا۔وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ طبی امور کی نگرانی کرتی رہیں، اور میڈیا کے ذریعے قوم کو بھی اس سے آگاہ رکھا۔نواز شریف کے پلیٹ لیٹس قابو نہیں آ رہے تھے، بار بار مریض کو انجیکٹ کیے جاتے اور بار بار ڈراپ ہو جاتے۔ میڈیکل بورڈ نے لکھ کر دے دیا کہ نواز شریف صاحب کے خصوصی ٹیسٹ اور ان کا علاج بیرون ملک کرایا جانا چاہیے، وہ ایک ہائی رسک مریض ہیں، اور ان کے بارے میں کوئی بھی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ نواز شریف کو طبی بنیادوں پر عدالت عالیہ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا،اس کے بعد ان کی بیرون ملک روانگی کے لیے کارروائی شروع ہوئی۔وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے ایک میڈیا گفتگو میں واضح کیا کہ ان کا نام ای سی ایل پر نہیں ہے،لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی معلومات درست نہیں تھیں۔نواز شریف کا نام ای اسی ایل پر ہے اور وہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک روانہ نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم عمران خان نے اچھی طرح تسلی کر لینے کے بعد کہ ان کے حریف ِ اول کی حالت واقعتا تشویشناک ہے، یہ ایک خالصتاً انسانی اور طبی معاملہ ہے،ایک دُعائیہ ٹویٹ جاری کیا،اور ساتھ ہی اپنے وزراء، اور حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔ اندازہ یہی تھا کہ چند روز میں سابق وزیراعظم لندن روانہ ہو جائیں گے،جہاں ان کی تشخیص اور علاج کا آغاز ہو سکے گا۔یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ انہیں امریکہ لے جانا بھی پڑ سکتا ہے کہ مرض کی پیچیدگی عیاں تھی۔ پہلے تو گیند وزارتِ داخلہ اور نیب کے درمیان لڑھکتی رہی، دونوں میں سے کوئی فیصلہ کرنے پر تیار نہیں تھا۔ وفاقی کابینہ تک بات پہنچا دی گئی تو وہاں بیرون ملک روانگی کے لیے خصوصی بانڈ حاصل کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی۔ای سی ایل کے معاملات کو دیکھنے کے لیے قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو یہ معاملہ تفصیل طے کرنے کے لیے بھجوا دیا گیا۔اس کی قیادت وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے پاس ہے،جو ایک ممتاز ماہر قانون ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی وابستگیوں کی ایک تاریخ بھی رکھتے ہیں۔اس کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے نمائندے، نواز شریف صاحب کے ذاتی معالج، سرکاری میڈیکل بورڈ کے سربراہ اور پنجاب کے سیکرٹری صحت بھی شریک ہوئے۔یہاں بھاری رقم کی ضمانت طلب کر لی گئی کہ یہ جمع کرائی جائے تو پھر اجازت دی جا سکتی ہے۔ زرِ ضمانت کی کوئی تفصیل سرکاری طور پر تو جاری نہیں کی گئی،لیکن بتایا جا رہا ہے کہ وہ اس جرمانے کے مساوی ہونی چاہیے جو احتساب عدالت کی طرف سے فیصلہ کردہ دو مقدمات میں عائد کیا جا چکا ہے،اور جس کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیلیں زیر سماعت ہیں۔ممتاز ترین قانونی ماہرین کی بڑی اکثریت اس شرط کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے۔سابق وزیراعظم نے بھی اس شرط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔فروغ نسیم کمیٹی نے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہیں، اس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اب حتمی فیصلہ وہیں ہو گا کہ فیصلے کا مجاز ادارہ وہی ہے۔ کئی وفاقی وزراء دِلوں میں چھید کرنے والے بیانات دینے میں مشغول ہو چکے ہیں، وہ بار بار کہہ رہے ہیں، نواز شریف واپس نہ آئے تو پھر کیا ہو گا؟ ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے۔وزیراعظم بھی اپنے حصے کا یہ تیر لے کر نمودار ہوئے ہیں کہ نواز شریف چونکہ اپنی بیماری کے بارے میں جھوٹ بولتے رہے ہیں،اس لیے لوگ اب ان کا سچ بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جب نواز شریف کے دِل کا آپریشن ہوا تو بھی، اور جب ان کی مرحومہ اہلیہ لندن میں زیر علاج تھیں تو بھی حریفانِ سیاست مذاق اڑاتے، اور ان بیماریوں کو مذاق قرار دیتے رہے۔نواز شریف کے آپریشن کی تصدیق بھی ہو گئی،ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے مر کر زبان درازوں کے سرشرم سے جھکا دیے۔

وفاقی کابینہ کب اور کیا فیصلہ کرے گی،تادیر تحریر یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اگر فروغ نسیم کمیٹی کے مطابق مشروط اجازت پر اصرار کیا گیا تو پھر سابق وزیراعظم یا مسلم لیگ (ن) کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا کہ اسی کے فیصلے کی روشنی میں یہ گانٹھ کھل سکے گی۔افسوس کہ سیاسی درجہ حرارت کو معمول پر لانے کی جو کاوش حکومت کی طرف سے کی جا سکتی تھی، اس کا موقع ضائع کر دیا گیا۔ نواز شریف کب بیرون ملک جائیں گے،ان کا سفر مشروط ہو گا یا کسی شرط کے بغیر۔ان کی صحت کی خنگی میں اس دوران اضافہ ہو جائے گا،یا اللہ ان کو اس سے محفوظ رکھے گا،ان سب سوالوں سے قطع نظر، المیہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو تقسیم کرنے،سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے، اور اپنے حریفوں پر بے موقع گولہ باری کرنے کی روش میں کمی نہیں آ سکی۔ایک طرف سکھ کمیونٹی کے لیے خیرسگالی اور محبت کے جذبات کا اظہار کر کے پوری دُنیا سے داد وصول کی جا رہی ہے،تو دوسری طرف اپنے ہم وطن حریفوں کے ساتھ کھلے دِل سے معاملے پر آمادگی نہیں ہو پا رہی۔اللہ ہمارے حال پر رحم کرے کہ ہر لحظہ جذبات کو مشتعل کرنے کا کھیل کسی کو راس آیا ہے نہ آئے گا۔

مزید : رائے /اداریہ