بچوں سے بداخلاقی، کیا حقیقی تفتیش ہو گی؟

بچوں سے بداخلاقی، کیا حقیقی تفتیش ہو گی؟

  



راولپنڈی پولیس نے ایک ایسے ملزم کو گرفتار کیا، جو نہ صرف بچوں کے ساتھ بداخلاقی کا مرتکب ہوتا رہا،بلکہ ایسے افعال کی ویڈیو بنا کر ”ڈیپ ویب“ پر چلاتا بھی رہا، پولیس کے مطابق ملزم سہیل ایاز عرف علی برطانیہ اور اٹلی میں بھی اسی جرم میں سزا یافتہ ہے۔راولپنڈی پولیس نے اس ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزم سہیل ایک ایسے گروہ کا رکن بھی ہے،جو عالمی سطح پر اس قسم کی بے ہودہ ویڈیوز کا دھندا کرتا ہے، یہ ویڈیوز بنانے کے لئے غیر اخلاقی حرکات کی جاتی ہیں اور انہی کی ویڈیو بنا کر ”ڈیپ ویب“ پر وائرل کر دی جاتی ہیں،اس سے آمدنی بھی ہوتی ہے۔قصور اور چونیاں کے جرائم منظر عام پر آئے تو اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ ایسے گروہ موجود ہیں،جو شرمناک ویڈیوز کا دھندا کرتے ہیں،لیکن پولیس نے اس پر کان نہ دھرا اور روایتی تفتیش کر کے قصور اور چونیاں والی وارداتوں کو دفن سا کر دیا،حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق یہ جرائم ملک بھر میں ہوتے ہیں،اکثر جرائم رپورٹ نہیں ہوتے جیسے گرفتار ملزم سہیل نے30بچوں کے ساتھ بدفعلی کا اقرار کیا ہے۔توقع کرنا چاہئے کہ ملزم سہیل ایاز ہی سے سائنسی طریق کار کے مطابق مکمل تفتیش کی جائے گی اور ایسے گروہوں کا سراغ لگایا جائے گا، جو ہمارے ملک میں ایسا قبیح فعل کر کے ماؤں کے بچے بھی چھین لیتے ہیں،درست تفتیش و تحقیق پولیس کو اصل ملزموں تک پہنچا سکتی ہے،ایسے گروہ کے جو بھی افراد ملک میں موجود ہیں ان کی گرفتاری ضروری ہے کہ اسی طرح ایسے قبیح جرم ختم ہو سکتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ