بیماری پر سیاست،کیوں؟

بیماری پر سیاست،کیوں؟
بیماری پر سیاست،کیوں؟

  



ہماری اپنی زندگی اور پیشہ ئ صحافت کے طویل دور کے دوران ایسا وقت کبھی نہیں آیا، جواب ہے، حکمرانوں پر نظر ڈالیں تو وہ مطمئن نظر آتے اور پُراعتماد ہیں،مگر مولانا دھرنے والے کی بات سنیں اور قریبی ذرائع والی بات پر غور کریں تو وہ بھی بہت زیادہ یقین کئے بیٹھے ہیں،اب اگر بے چینی ہے تو وہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے حصے میں آئی ہے،بلاول بھٹو ٹھوس بات نہیں کر پا رہے ہیں،تو مسلم لیگ(ن) کی صفوں سے بھی اطمینان بخش کوئی بہتر اور مثبت بات نہیں ملتی، البتہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام(ف) میں اتنا فرق ضرور نظر آتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے حضرات اب سب بیانیے بھول کر اپنے قائد کی صحت کے حوالے سے فکر مند اور پریشان ہیں، مسئلہ تو پیپلزپارٹی والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، لیکن وہ بے چینی اور بے اطمینانی میں تو مبتلا ہیں،

البتہ ان کے احتجاج کا انداز اپنا ہے،بلاول تو بات کرتے رہتے ہیں،لیکن آصفہ شاید زیادہ ہی غصہ میں ہیں اور وہ اپنے والد کی صحت کے حوالے سے برہمی سے بات کرتی ہیں،ان حضرات و خواتین کی یہ گذارش یقینا دِل کو لگتی ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات یا الزامات تو کراچی سے متعلق ہیں کہ کیس بھی وہاں رجسٹر ہوئے اور تفتیش بھی ان کی بنتی ہے، لیکن ان کو رکھا راولپنڈی میں اور عدالت بھی یہیں کی ہے،اس سلسلے میں تازہ ترین بات آصف علی زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کی اور احتجاج کیا ہے،لیکن وہ یہ حقیقت نظر انداز کر گئے کہ یہ سب کچھ تو بابا ”رحمے“ کے دور کا ہے،جب انہوں نے یہ جان کر کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی اپنی حکومت ہے اور وہاں ان کے لئے جیل بھی گھر اور پیشی پر پروٹوکول سے کچھ زیادہ ہی سلوک مل جاتا ہے، شاید اسی بناء پر یہ درخواست مسترد ہوئی کہ سپریم کورٹ کی طرف سے حکم ہوا ہو تو یہ ٹرائل جج کیسے مخالف درخواست قبول کر لیں،اس لئے ان کو اسی بڑی عدالت سے رجوع کرنا ہو گا۔

مسلم لیگ(ن) کا مسئلہ زیادہ افسوس والا ہو گیا کہ ان کے قائد محمد نواز شریف کی طبیعت حقیقتاً خراب ہے اور ان کی صحت اور بیماری کے حوالے سے سیاست شروع ہو گئی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ سے آٹھ ہفتوں کے لئے ضمانت ملنے اور ان ریمارکس کی وجہ سے ان(نواز شریف) کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جہاں سے چاہیں اپنا علاج کرائیں اور یہ ریمارکس بھی میڈیکل بورڈ کی رائے کی روشنی میں ہی دیئے گئے تھے،اسی بناء پر تو محمد شہباز شریف نے بڑے بھائی کی مرضی کے بغیر ان کے علاج کے لئے لندن بھجوانے کی کوشش شروع کی،اگرچہ ان کی طرف سے ابھی تک خاموشی ہے تاہم کہا یہی جاتا ہے کہ انہوں نے مقتدر قوتوں کے ساتھ بات کی اور تبادلہ خیال کے بعد ہی حکومت سے درخواست بھی کی کہ محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے کہ اس لسٹ میں ہونے کی وجہ سے وہ اجازت کے بغیر عازم برطانیہ نہیں ہو سکتے،

ابتدا تو خوش کن تھی کہ خود وزیراعظم کی طرف سے بھی تسلی آمیز بیان ہی دیا گیا،چنانچہ ان (نواز) کی روانگی کے اہتمام کئے گئے اور جہاز میں نشستیں بھی محفوظ کرا لی گئیں،پھر اچانک بازی پلٹی، گوٹی سانپ کے منہ میں آ گئی اور نیچے کھسکتی چلی آئی، حکومتی حلقوں نے اچانک مختلف موقف اختیار کر لیا، کابینہ میں بحث ہوئی،حمایت زیادہ مخالفت کم ہوئی، تاہم معاملہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا، جس نے طویل سماعت کی اور طے کیا کہ الزام کی نوعیت کے حوالے سے ضمانت لی جائے اور یہ بھی پوچھا جائے کہ واپسی کب ہو گی،چنانچہ بات ضمانتی بانڈز تک آ گئی اور یہیں سے ”انسانی ہمدردی“ سیاست میں ڈھل گئی،بلکہ بیانات میں تضاد آ گیا۔ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا کمیٹی آج (بدھ)10 بجے صبح اپنی رائے دے گی،فیصلہ سنائے گی لیکن کمیٹی کے چیئرمین وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ایسا نہیں،کمیٹی تو سفارشات مرتب کر کے کابینہ کو دے گی یوں یہ معاملہ لٹک سا گیا،کیونکہ ای سی ایل سے نام نکلے گا تو بات بنے گی موجودہ صورت میں خود محمد نواز شریف نے ایسی شرائط کے بعد جانے سے انکار کر دیا ہے،اور چھوٹے بھائی کی کوشش بھی رائیگاں جاتی نظر آ رہی ہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت ضمانتی بانڈز مانگتی ہے اور مسلم لیگ(ن)اس پر تیار نہیں، محمد نواز شریف کے وکلاء کہتے ہیں،کمیٹی یا حکومت کو ایسا کوئی قانونی یا آئینی اختیار نہیں کہ رقم یا بانڈز مانگے۔یوں بھی بانڈز پہلے ہی عدالت میں جمع کرائے جا چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم کی طبیعت یقینا خراب ہے ورنہ خود حکومت کا مقررکردہ میڈیکل بورڈ یہ رائے نہ دیتا۔اب اگر بیان بازی ہونا ہے تو علاج کیسے ہو گا؟یہ بڑا سوالیہ نشان ہے،لوگ کہتے ہیں آصف علی زداری زیادہ نبض شناس ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی اور نہ ہی درخواست ضمانت دائر کر رہے ہیں،حالانکہ حکومتی رویے کے پیش نظر جو بھی ریلیف ملنا ہے وہ عدلیہ ہی سے مل سکے گی شاید اس کے لئے عدلیہ ہی سے رجوع ہو۔

ادھر مولانا فضل الرحمن اتنے دِنوں کے دھرنے سے کچھ حاصل نہ ہونے کے باعث اگلے پروگرام پر آمادہ ہو گئے ہیں اور پورے ملک میں مرکزی سڑکوں کو بند کرنے کا منصوبہ بنا لیا کہ ملک بھر کے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن ہو گا، دوسرے معنوں میں انتظامیہ (پولیس) سے ”ہیڈ اون“ ہو گا اور جو بات امن سے چل رہی تھی اس میں ”بال“ آ ہی جائے گا،اس عمل کے لئے عوام تو تیار نہیں ہیں، ابھی سے خوفزدہ ہیں کہ ناکہ بندی اور لاک ڈاؤن سے حالات خراب ہوں گے، ٹریفک جام اور سڑکیں بند ہوں گی تو کاروبارِ حیات کیسے چلے گا؟ ہم تو اللہ سے دُعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ اپنا رحم کرے اور ملک اور اس کے عوام کے لئے سُکھ کے لمحے پیدا کر دے، ویسے ”اگر خواہش ہے تو وہ کون سا مسئلہ ہے جو بات چیت سے حل نہیں ہو سکتا“۔

مزید : رائے /کالم