زہر کا تریاق صرف عمران خان کے پاس ہے!

زہر کا تریاق صرف عمران خان کے پاس ہے!
زہر کا تریاق صرف عمران خان کے پاس ہے!

  



نواز شریف کی بیماری اپنی حساسیت کی انتہا پر ہے، لیکن اس حالت میں بھی ان کے دل اوردماغ دونوں کی سوچیں بالکل ٹھیک سمت میں رواں دواں ہیں اوریہ بات ان کے مضبوط اعصاب پر دلالت کرتی ہے۔یہ اس دن کی بات ہے جب نوازشریف کو نیب کی حراست سے ہسپتال منتقل کیاگیا۔ٹیسٹ کے لئے ان کے خون کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوا دیئے گئے۔جب نوازشریف نے اپنے خون کے رزلٹ کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹرکہنے لگے: ”رزلٹ رات کو دیر سے ملے گا“۔ یہ سن کر نوازشریف بولے: ”یہ میرے خون کے نمونوں کا رزلٹ ہے یا الیکشن کا، جو رات کو دیر سے ملے گا“؟ وہاں موجود سب لوگ مسکرانے لگے۔ بعدازاں مولانا طارق جمیل ان سے ملنے پہنچے۔عیادت کے بعد جانے لگے تو نوازشریف نے ان کہا: ”مولانا صاحب! اتنی دعا ضرور کیجیے گا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کم ظرف دشمن نہ دے“۔ نوازشریف سے آپ لاکھ اختلاف کرسکتے ہیں،

لیکن ان کی اس بات میں چھپی حکمت کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہو گی۔انہوں نے جن لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا تھا، ان کا نام بھی نہ لیااوراپنا پیغام بھی پہنچا دیا۔کم ظرف ویسے بھی خطرناک ہوتا ہے، لیکن اگر وہ زبان چلانے کے ساتھ ساتھ خودپسند اور نرگسیت کا شکار لیڈر بھی ہوتو پھر وہ انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔زبان کتنی خطرناک چیز ہے، اس بات کا اندازہ حضرت علیؓ کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے کہ ”تلوار سے لگے ہوئے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں، مگر زبان کے لگے زخم کبھی مندمل نہیں ہوتے“۔ ایک تحقیق کے مطابق ہونے والے ننانوے فیصد جھگڑے اور لڑائیاں زبان سے ہی شروع ہوتی ہیں،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ”عقل مند انسان کی زبان اس کے دماغ کے پیچھے،جبکہ بیوقوف انسان کا دماغ اس کی زبان سے پیچھے ہوتا ہے،یعنی عقل مند انسان بولنے سے پہلے سوچتا ہے، جبکہ بیوقوف انسان بولنے کے بعد سوچتا ہے۔

بیوقوف کو بہرحال یہ رعایت حاصل ہے کہ اس کی بات اتنی خطرناک نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی باتوں کو لوگ ہنسی مذاق میں اڑا دیتے ہیں،لیکن اگر کوئی انسان لیڈر بھی ہواور سوچ سمجھ کر بولنے کی صفت سے بھی عاری ہوتو اس کی زبان ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہی مچاتی ہے، کیونکہ ایٹم بم تمدن کو برباد کرتا ہے، جبکہ زبان تہذیب کو تباہ کرتی ہے اورانسانیت کا احیا تمدن کے بغیر تو ممکن ہے، لیکن تہذیب کے بغیر ممکن نہیں۔یہ زبان ہی ہے، جس سے رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے اور بھلے اس پہاڑ کا ظاہری وجود نہیں ہوتا، لیکن لوگوں کے دل ودماغ سے اس پہاڑ کو محو کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔آپ نے وہ واقعہ تو سنا ہوگا کہ کسی گاؤں کے چودھری کی بیٹی کچھ میل دور دوسرے گاؤں کی کسی عورت کے ہاں کوئی فن سیکھنے جاتی تھی۔ساتھ ایک اور گاؤں بھی تھا، جہاں اس کی ایک سہیلی بھی رہتی تھی۔ایک دن چودھری کی بیٹی اس عورت کے گھر سے نکلی تو اپنی سہیلی سے ملنے اس کے گھر جا پہنچی۔جب کافی دیر ہو گئی تو چودھری نے اپنے نوکر کو اس عورت کے گھر بھیجا۔نوکر نے وہاں جاکر چودھری کی بیٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا: ”وہ تو کافی دیر پہلے یہاں سے چلی گئی تھی“۔نوکر یہ سن کر پریشانی کے عالم میں گاؤں واپس جانے والی بس میں بیٹھ گیا۔بس میں موجود لوگوں نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی توکہنے لگا: ”چودھری کی بیٹی گھر سے بھا گ گئی ہے“۔

آپ تصور کریں کہ اس بس میں پچاس لوگ بیٹھے ہوئے تھے،لیکن بیس بائیس فٹ کی بس کے اندر ہونے والی یہ بات شام تک آس پاس کے پچاس گاؤں تک پھیل گئی اور طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔ چودھری بیٹھک سے اٹھ کر اندر چلا گیا۔وہ اسی حزن و یاس کی کیفیت میں تھا کہ بیٹی نوکر کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔ چودھری نے سوالیہ نظروں سے نوکر کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگا کہ آپ کی صاحبزادی دوسرے گاؤں اپنی فلاں سہیلی کو ملنے چلی گئی تھی اور اب واپس بھی آگئی ہے۔یہ سن کر چودھری بولا: ”میری بیٹی تو واپس آگئی ہے، لیکن وہ باتیں کس طرح واپس ہو ں گی جو تمہاری زبان اور سوچ کر نہ بولنے کی وجہ سے ہر طرف پھیل چکی ہیں“؟

نوازشریف کی حالت اس وقت اسی مظلوم باپ بیٹی کی طرح ہے اور سیاسی مخالف وہ لوگ ہیں، جو سیاسی اختلاف کو دشمنی بنا بیٹھے ہیں،جس میں زبان کا خطرناک استعمال بھی ہے۔ پانچ سال مسلسل یہ کہہ کر نوازشریف کی کردار کشی کی گئی کہ وہ کرپٹ ہے اور اس نے قرضوں کے نام پر حاصل کی گئی دولت کاذاتی استعمال کیا ہے۔انہی باتوں پر عمران خان نے اپنی سیاست کی بنیادرکھی۔ جب اسے حکومت ملی تو اپنی مرضی کاایک کمیشن بنایا، جس کے ذمے یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ 2008ء سے کر 2018 ء تک حاصل کئے گئے قرضوں اوران کے استعمال کی تحقیق کرے۔اب اس کمیشن کی رپورٹ آگئی ہے، جس کے مطابق حاصل کیاگیا تمام قرضہ صحیح جگہ استعمال ہوااور کسی قسم کی کرپشن نہیں کی گئی۔

اسی طرح یہ بھی کہاجاتا رہا کہ نوازشریف دور میں پُرکشش معاوضوں پر من پسندنااہل افراد کی تقرریاں کی گئیں۔عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی ان ”نااہل“ افراد کو اپنے عہدوں سے ہٹادیا،لیکن بعد میں کیا ہوا؟ صرف دو محکموں کی مثال دیتاہوا، جب پولیو اور ڈینگی وائرس کنٹرول نہ ہوا تو انہی ”نااہل“ افراد کو واپس لانا پڑا۔اسی طرح کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا۔ ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر ٹھونسا گیا کہ شریف خاندان کتنا گھٹیا ہے کہ نوازشریف اپنی بیوی اور مریم نواز اپنی ماں کو بیمار بنا کر سیاست چمکا رہے ہیں۔یہ پروپیگنڈا اتنا مضبوط تھا کہ کلثوم نواز کی موت ہی اس کا توڑ کر پائی۔اب وہی رویہ نوازشریف کے ساتھ اپنایا جا رہا ہے۔پہلے ان کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا۔جب عدالت سے ضمانت ملی تو اسے ڈیل کہاجانے لگا۔ پھر کہاگیا کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اچانک ہونے والا اضافہ وہی رقم ہے جو نوازشریف نے ڈیل کی صورت میں ادا کی ہے۔مجھے مقابل کی تنگ دامنی پر اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے، جب انہیں عدالت میں ڈیل کے ثبوت پیش کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بغلیں جھانک کر رہ جاتے ہیں۔

اب چاہیے تو یہ تھا کہ جن لوگوں نے کرپشن، من پسند تقرریوں اور نام نہاد بیماریوں کے الزام لگائے اور اس پر نہ صرف کمیشن بنائے، بلکہ ان تمام باتوں کا اعلان پوری قوم کے سامنے ٹی وی پر کیا۔اب وہی لوگ یہ اعلان بھی کرتے کہ قرضوں اورملکی خزانے میں کوئی کرپشن نہیں کی گئی، جس کی گواہی ہمارے اپنے بنائے گئے کمیشن نے بھی دی ہے۔ نواز شریف کی بیماری واقعی نہ صرف اصلی ہے، بلکہ سنگین بھی ہے اوراس کی تصدیق ہمارے اپنے بنائے میڈیکل بورڈ نے کی ہے اور کسی بھی محکمے میں من پسند تقرریاں کرکے کسی کو نوازا نہیں گیاتھا،بلکہ وہ افراد واقعی اس قدر اہل تھے کہ ہمیں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے انہی افراد کو واپس لانا پڑا،لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا؟کیونکہ یہ لوگ تو چودھری کے اس نوکر سے بھی گئے گزرے ہیں۔

اگرچہ اسے اپنی غلطی کا احساس تو ہو گیا تھا،اسی لئے اس نے اس بات کو پھر کبھی نہ دہرایا۔ یہاں تو نہ صرف ان باتوں کو بار بار دہرایا جا رہا ہے، بلکہ مزید مرچ مصالحہ بھی لگایا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں نفرت اورزیادہ بڑھ رہی ہے۔بڑھتی ہوئی اس نفرت کا تریاق صرف عمران احمد خان کے پاس ہی ہے۔اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے،انہیں چاہیے کہ وہ اسی طمطراق سے ٹی وی جلوہ افروز ہوں اور اس بات کا اعلان کریں کہ میرے بنائے گئے کمیشن اور میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو کلین چٹ دے دی ہے، تاکہ مستقبل کے راستے سہل اورآسان ہوں، کیونکہ وقت گزر جائے تو ہاتھوں کی لگائیں ہوئی گرہیں، دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں اور بسااوقات دانت بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور گرہیں بھی نہیں کھلتیں۔ دھرناتو اس بات کا صرف الارمنگ پوائنٹ ہے۔

مزید : رائے /کالم