پاکستان کی نظریاتی اساس

پاکستان کی نظریاتی اساس
پاکستان کی نظریاتی اساس

  



پاکستان دشمن سیاسی قائدین نے اکثر لبادہ بدل کر اور مسلم لیگ کا حلیف بن کر وطن کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کا مکروہ عمل جاری رکھا۔ جمہوری ادوار میں بہت سی حکومتیں مختلف صوبوں میں ایسی جماعتوں کی مدد سے قائم ہوئیں، جن جماعتوں نے قیام پاکستان کی شدید ترین مخالفت کی تھی اور بعد میں بھی مختلف مواقع پر پاکستان اور بانیئ پاکستان حضرت قائد اعظمؒ پر ناگوار تنقید کا سلسلہ جاری رکھا۔ جب کوئی سیاسی آڑھتی یہ بیان دیتا ہے کہ ہم تو تقسیم ہند کے شروع سے مخالف تھے تو ایک انتہائی غیر مناسب بات ہے۔ قومی اخبارات میں مختلف اہل دانش حکومت کے حلیف سیاستدانوں کے ایسے بیانات کی شدید مذمت بھی کرتے ہیں، جس میں وہ بالواسطہ پاکستان کی توہین کرتے ہیں، یہ صورت حال شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ ملک میں معاشی عدم استواری اور معاشرتی بد امنی نے عوام کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں۔کسی بھی زور آور کو کوئی انوکھا کھیل رچانے سے کون روک سکتا ہے اور کون نصیحت کرنے کا روگ لگائے کہ اپنی نئی نسل کو اپنے پرانے بزرگوں کا حوالہ دے کر روشن مستقبل بنانے کی تلقین کرے۔

لوگوں کو بہت زیادہ شوق ہے کہ جلد سے جلد گول زمین کو گیند بنا کر اپنی جیب میں رکھ لیں، پھر اتنے مضبوط حکمران بن جائیں کہ کوئی ان کی کرسی کو بالکل بھی نہ ہلاسکے۔ کرسی کی محبت بھی بڑی عجیب ہے، اپنی تمام خامیوں اور برائیوں کو چھپانے کا ذریعہ کرسی کو بنایا جاتا ہے اور کرسی سے محرومی، چاہے اس کی وجہ کچھ بھی ہو، دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ہر جائز، ناجائز حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومتی کرسی تو ایک خدائی امانت ہے، نفرتوں کے الاؤ سے بڑی مشکل سے نکال کر پاکستان نصیب ہوا تھا، قربانیوں کا بے حساب سلسلہ تھا، جان، مال، عزت، حرمت سب کچھ داؤ پر لگا تھا۔ پھر یہ خطہ زمین آزادی کی پرُ نور ساعتوں سے آشنا ہوا تھا۔ غریب، مفلوک الحال عوام الناس مذہب اور وطن کی محبت میں ہر طرح کے کڑوے اور برے حالات کو برداشت کرتے اور آزادی کی نعمت پر شکر گزار ہوتے ہیں، غیرت دین پر مرتے ہیں، ایثار کرتے ہیں، لیکن قومی غیرت کا سودا نہیں کرتے، حالانکہ کئی لیڈران کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن پھر بھی جب کسی نے غیرت دین و وطن پر آواز دی، یہ بے چارے پھر سے ہتھیلی پر جان کا نذرانہ لئے دیوانہ وار دوڑتے ہیں اور وطن دوستی میں رہبروں کی آواز پر رہزنوں کے ہتھے چڑھنا اور دھوکہ کھانا ان کا مقدر ٹھہرتا ہے۔

پاکستان کا قیام بہرحال ایک جداگانہ تصور کا نتیجہ ہے، قائد اعظمؒ بڑے سیاسی اور سماجی تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مسلمانوں کے لئے ایک الگ آزاد اور خود مختار ریاست درکار ہے۔ اس وقت نظریاتی و سیاسی مخالفین نے قائد اعظمؒ کی بات کو بری طرح سے ناکام کرنے کی کوشش کی تھی، مگر سینکڑوں برسوں کے حالات سے پیدا شدہ نتائج نے قائد اعظمؒ کے نظریئے کو پوری طرح سے درست ثابت کر دیا ہے۔ بدقسمتی اس قوم کی یہ رہی ہے کہ کچھ بد دیانت اور کچھ بدکردار لوگوں نے قیادت کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کی نظریاتی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنی کارروائیاں مختلف اوقات میں مختلف سیاسی محاذوں سے جاری رکھیں۔ قیادت کے ان مدعیان نے پاکستان کے دگرگوں معاشی حالات یا سیاسی بحرانوں کا سہارا لے کر پاکستان کی حقیقت کو جھٹلانے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے۔

یہاں تک کہ حکمرانوں نے غیر ملکی بینکوں اور اداروں میں ملکی ادارے رہن رکھ کر ترقی کی منزلیں طے کرنے کا جھانسہ دیا اور ملکی ادارے کمزور سے کمزور ہوتے رہے، قرضوں کی رقوم سے عیاشیاں جاری رہیں، عوام کے دلوں میں ملک کی محبت اولین فرائض میں شامل ہے، لیکن وطن کے بے وفاؤں اور غداروں سے تعلق ان کے نزدیک آزادی کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے کے برابر ہے۔ ان کا نظریہ قبل از قیام پاکستان سے اب بھی قطعی طور پر مختلف نہیں، وہ اب بھی اساس پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ سمجھتے ہیں، وہ خدائی ہدایت کی بنیادوں پر انسانی برادری میں انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرنے پر بھرپور اعتقاد رکھتے ہیں، لیکن وہ کبھی بھی ایسی محبت اور الفت کو گلے میں ڈالنے سے پرہیز کرتے ہیں، جس سے نظریہئ پاکستان کو جھٹلایا جائے۔ ہمارے وزیر اعظم اقتدار کی جس رسی کو تھامے ہوئے ہیں، ان کی نظر میں ان کی گرفت نظریہء پاکستان کی وجہ سے مضبوط رہے گی۔ اقوام متحدہ میں ان کی تقریر مسلمانوں اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی ضامن ہے، بہر حال ان کے نزدیک نظریہئ پاکستان کی اہمیت اتنی ہی ہے،

جتنی کسی بھی محب وطن سیاست دان میں ہے، وہ کسی بھی حلیف کو ناراض نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے حلیف ان کی ہر ٹیڑھی سیدھی لکیر کو ملک کی قسمت کی لکیر کہہ کر اپنے بزرگوں کے انداز سیاست کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی صاحب ایمان کے لئے سیاست عبادت کا درجہ رکھتی ہے، لیکن پیشہ ور سیاسی کھلاڑیوں کے لئے سیاست تجارت اور وقت گزارنے کا دلچسپ دھندہ ہے۔ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو بھی برابر کے حقوق حاصل ہیں، ان کو نظریہئ پاکستان کو تسلیم کر کے ملک کی ترقی میں حصہ لینا ہوگا، پاکستانیوں کا اپنے ملک کے قائم ہونے والے نظریئے پر قائم رہنا ہی ملک کی سلامتی اور ترقی ہو گی، چونکہ اب 72 سال بعد پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے مخالفین دوبارہ مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے پر در پے ہیں، عوام کو محتاط رہنا ہوگا ان ملک دشمنوں سے۔

مزید : رائے /کالم