رشتے

رشتے
رشتے

  



ہمارا کالج میں بی اے کا آخری سال تھا جب پروفیسر صاحب گجرات سے ٹرانسفر ہو کر پسرور کالج میں آئے تھے۔ پروفیسر صاحب کی ساری زندگی درس و تدریس میں گزری۔ ان کی عمر اٹھاون سال ہے، دوسال بعد وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ کالج کے بعد اکیڈمی اور اکیڈمی سے گھر اسی سرکل میں زندگی گزار دی۔ صبح چھ بجے وہ کالج کے لئے گھر سے نکل پڑتے اور شام چھ بجے تک چل سو چل۔کرسی پر بیٹھ بیٹھ کر انہیں کمر میں تکلیف شروع ہو گئی، ڈاکٹر نے انہیں تین ماہ تک فزیوتھراپی کا مشورہ دیا جو انہوں نے کلینک اکیڈمی کے قریب ہونے کی وجہ سے چھ سے سات کا وقت طے کر لیا۔اب وہ اکیڈمی سے شام چھ بجے کلینک جاتے، وہاں ایک گھنٹہ فزیوتھراپی سیشن چلتا اور سات بجے فارغ ہوکر گھر کو روانہ ہوتے اور رات آٹھ بجے تک گھر پہنچ جاتے۔ڈاکٹر نے اپنی کچھ نجی مصروفیات کی وجہ سے ان کی فزیوتھراپی کا وقت اگلے دو ہفتوں کے لئے شام چھ سے سات کی بجائے رات آٹھ سے نوکر دیا تو پروفیسر صاحب نے ڈاکٹر سے کہا کہ مَیں رات آٹھ بجے سے نو بجے تک کسی قیمت پر نہیں آسکتا ہے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ دو ہفتوں کی تو بات ہے پھر یہی وقت کر دیں گے، لیکن پروفیسر صاحب نے دو ٹوک کہا کہ رات آٹھ سے نو میرے لئے دن کا سب سے اہم وقت ہوتا ہے۔ اس ایک گھنٹے کو مَیں کسی بھی صورت گھر سے باہر نہیں گزار سکتا۔ ڈاکٹر نے حیرانی سے پوچھا کہ اس ایک گھنٹے میں ایسا کیا ہے تو پروفیسر صاحب نے کہا: ” ڈاکٹر صاحب میری بیوی نے زندگی میں ہمیشہ ڈنر میرے ساتھ کیا ہے، ہمارے گھر میں ڈنر کا وقت رات آٹھ سے نو ہے،میرے بغیر وہ ڈنر نہیں کرتی تھی،ہم دونوں ایک ہی پلیٹ میں اکٹھے کھاتے تھے اور ایک ہی گلاس کے ساتھ پانی پیتے تھے،ہم نے آج تک ڈنر اکیلے نہیں کیا۔ پچھلے ایک سال سے میری بیوی انزائمر کے مرض کا شکار ہوگئی ہے، اب اسے کچھ یاد نہیں کہ کس وقت ڈنر کرنا ہے،اسے یہ بھی یاد نہیں کہ مَیں کون ہوں، وہ اپنی یادداشت کھو چکی ہے، اس لئے مَیں رات آٹھ سے نو بجے تک کسی صورت باہر نہیں گزار سکتا۔ڈاکٹر نے کہا اگر آپ کی بیوی کو یہ بھی یاد نہیں کہ آپ کون ہیں تو پھر کیا مشکل ہے،آپ آٹھ سے نو بجے تک فزیو کرایا کرائیں اور اس دوران گھر کا کوئی دوسرا فرد آپ کی کرسی پر ساتھ بیٹھ کر انہیں ڈنر کرادیا کرے گا۔

پروفیسر صاحب نے ڈاکٹر کے طرف گہری نگاہ سے دیکھا، پھر آہ بھر کر کہا ہے۔ ہاں وہ نہیں جانتی کہ مَیں کون ہوں، لیکن مَیں تو جانتا ہوں نا کہ وہ کون ہے اور میری زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ ٹھیک ہے وہ بھول کے مرض کا شکار ہوگئی، لیکن مجھے تو ایک ایک لمحہ یاد ہے۔وہ میرے لئے دنیا کا سب سے عظیم رشتہ ہے، جس نے میرے سکون،خوشی اور عزت کے لئے خود کو وقف کر دیا۔اس کی ہر دعا میں میری کامیابی،خوشحالی، ترقی اور لمبی عمر کے الفاظ شامل ہوتے۔اس نے ہر سرد گرم موسم میں میرا ساتھ دیا۔ نامساعد حالات میں چہرے پر مسکراہٹ سجائے مجھے آگے بڑھنے اور مایوس نہ ہونے کا حوصلہ دیتی رہی۔اس نے میری ہر خواہش پر اپنی خواہشا ت قربان کر دیں اور کبھی اپنی زبان سے شکوہ نہیں کیا۔اس نے اپنا گھر بار چھوڑ کر میرے گھر کو آباد کیا۔ اپنا خاندانی نام مٹا کر میرا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا۔خدا کے بعد اگر اس نے کسی کا حکم سر جھکا کر مانا تو اس کا شوہر تھا۔ اس نے میرے نام کو آگے بڑھایا، میری نسل کو جنم دیا، وہ میرے لئے دنیا کی سب سے اہم ہستی ہے۔

اس کے بغیر مَیں خود کو دیکھوں تو مَیں اکیلا ہو، بس ایک آدمی، اگر اسے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہوں تو پھر مَیں اکیلا نہیں، میراشجرہ آگے چلتا ہے،میرا ایک خاندان بنتا ہے،ایک نسل آگے بڑھتی ہے۔ بیوی کے بغیر مَیں بانجھ شجر کی طرح ہوں،گملے میں اگا ایک پودا جس کی زمین میں جڑیں ہیں نہ قد کاٹھ اور نہ ہی اسے پھل لگتا ہے ……سوری ڈاکٹر صاحب مَیں فزیو تھراپی کے لئے آٹھ سے نو بجے کا ایک گھنٹہ کسی کو نہیں دے سکتا، یہ میری بیوی کی امانت ہے۔مَیں کمر درد کے لئے دنیا کے سب سے قیمتی رشتے سے دھوکہ نہیں کرسکتا۔ڈاکٹر نے پروفیسر صاحب کے جذبات کو سمجھتے ہوئے ان سے معذرت کر لی اور انہیں کہا کہ مَیں اپنا شیڈول تبدیل کر لیتا ہوں۔ آپ پرانے شیڈول کے مطابق آتے رہئے۔

رشتے دنیا کا سب سے قیمتی سرمایا ہیں۔ ان سچے رشتوں کی بے لوث محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ماں،باپ، بیوی، بہن، بھائی اور اولاد ایسے رشتے ہیں، جن سے صرف محبت ہی ملتی ہے، ان رشتوں کی قدر کریں۔اپنی مصروف زندگی میں سے ان رشتوں کے لئے ضرور وقت نکالا کریں۔فرسٹریشن، ڈیپریشن اور ٹینشن یہ بیماریاں رشتوں سے دوری کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔رشتے ہماری مشکلات،غم، درد اورتکلیفیں بانٹ لیتے ہیں۔ ان سے قیمتی آپ کا کاروبار ہے، نہ دولت اور نہ ہی وقت، رشتوں کے لئے اپنے کاروبار، وقت اور دولت کی تھوڑی بہت قربانی دیتے رہا کریں اور اس میں ذرا بھی ہچکچاہٹ یا نفع نقصان نہ دیکھا کریں۔ہم دن رات پیسہ کمار ہے ہیں، لیکن رشتے کھو رہے ہیں۔ رشتوں سے دوری کی وجہ سے ہم تنہائی کا شکار ہو کر فرسٹریشن،ڈیپریشن اور ٹینشن کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ انسان کے ساتھ اگر مضبوط رشتے موجود ہوں تو انسان کمزور نہیں ہوتا، انسان کمزور ہی تب ہوتا ہے، جب وہ رشتوں کو کمزور بنالے۔ زندگی کے مشکل دور میں اگر انسان کے ساتھ رشتے موجود ہوں تو اس قدر حوصلہ ملتا ہے کہ انسان آسانی سے یہ وقت گزار کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

اپنی نجی مصروفیات سے ان رشتوں کے لئے ضرور وقت نکالیں، جن کی نظروں کا محور آپ ہیں ،ان سچے رشتوں کا آپ پر حق ہے، اس حق کو ادا کریں گے تو سکھی رہیں گے۔رشتے جس قدر مضبوط ہوں گے، اسی قدر اس معاشرے کی قدریں مضبوط ہوتی ہیں۔ بیماری،غربت یا بڑھاپے کا شکار رشتوں کو ان کے رحم و کرم پر مت چھوڑیں، یہ بے رحمی بہت جلد آپ کو گھیر لے گی، کیونکہ آپ کی کامیابی میں کہیں نہ کہیں ان کی دعاؤں،توجہ اور راہنمائی کا عمل دخل لازمی ہوتا ہے، اس لئے اپنی کامیابی، دولت، عہدے،جوانی اور صحت پر غرور کرنے کی بجائے ان رشتوں کے احسان ہمیشہ یاد رکھیں۔یہ لوگ نہ ہوتے تو آج آپ بھی اس مقام پر نہ ہوتے۔ وقت گزر رہا ہے اور اس بے رحم وقت نے ہر کسی پر گزرہی جانا ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ کی ایک مسکراہٹ، چند ملاقاتوں، تھوڑے سے تعاون اور مد د سے مجبور، معذور، ضعیف اور بیمار رشتہ داروں کے چہروں پر اذیتوں کی لکیروں کی بجائے مسکراہٹ پھیل جائے گی اور وہ دل سے آپ کے لئے دعا کرے گا، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

مزید : رائے /کالم