مولانا اور چودھری برادران

مولانا اور چودھری برادران
مولانا اور چودھری برادران

  



مولانا نے دھرنا دے دیا، حالانکہ مولانا کی اتحادی جماعتیں شروع دن سے ہی مارچ کے حق میں اور دھرنے کے خلاف تھیں۔ وجہ تو ظاہر تھی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ایسی جماعتیں ہیں جو ملک کی حکمران رہیں اور مستقبل میں بھی بن سکتی ہیں۔ مولانا کی جماعت کا وفاقی حکومت قائم کرنا فی الحال دور دور تک نظر نہیں آتا۔ مولانا کی جماعت صوبہ سرحد میں دو مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ 1970ء کے انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی، نیپ، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اکثریتی جماعتیں تھیں۔ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی واحد اکثریتی جماعت تھی، جبکہ صوبہ سرحد حالیہ خیبرپختونخوا میں نیپ اور جے یو آئی نے مل کر حکومت قائم کی۔مولانا کے والد مفتی محمود مرحوم و مغفور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بنے۔ دوسری مرتبہ جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ق) برسراقتدار لائی گئی تو مولانا کی جماعت نے صوبہ سرحد میں حکومت قائم کی۔ دھرنا رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ بنے۔ جب وزیراعلیٰ بنے تو داڑھی نہیں تھی۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد باریش ہوئے۔

اس طرح مولانا کی جماعت، جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد بنا کر صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ حکمران بنی۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ والد محترم نیشنل عوامی پارٹی جیسی سیکولر اور سوشلسٹ جماعت ہونے کی دعویدار کے ساتھ اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے اور فرزندِ ارجمند مولانا فضل الرحمن نیب کی کٹر مخالف جماعت، جماعت اسلامی کے اتحادی ٹھہرے۔ دھرنے سے حکومت گرائے جانے اور اسے کمزور کرنے کا تجربہ مسلم لیگ (ن) کو ہو چکا تھا۔ خود پیپلزپارٹی بھی ایک مجوزہ دھرنا مارچ سے مغلوب ہو کر افتخار چودھری کو بحال کر چکی ہے، لہٰذا ان جماعتوں کو دھرنوں کی حقیقت کا علم ہے اور انہی دو بڑی جماعتوں کو مستقبل میں وفاق میں بیٹھنے کا موقع بھی مل سکتا ہے، لہٰذا دونوں جماعتوں نے دھرنے سے گریز کا فیصلہ کیا۔ مولانا کی صورت حال اس سے مختلف تھی کہ مولانا کو اس طرح حکومت کے گرانے یا اسے کمزور کرنے میں کوئی خطرہ نہیں ہے، لہٰذا مولانا نے پہلی اننگز کھیلے بغیر ہی دوسری اننگز کھیلنے کا فیصلہ کرلیا۔ اور وہ عمران حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کا کام تھا۔

مولانا کا خیال تھا کہ اس طرح نوازشریف اور آصف علی زرداری ان کی مکمل حمایت کریں گے، کیونکہ سویلین بالادستی کے معاملے پر دونوں جماعتوں کا موقف ایک ہی نظر آتا ہے، لیکن اس میں بھی مولانا غلطی کر گئے۔ مسلم لیگ (ن) بنیادی طور پر، سٹیٹس کو، کی جماعت ہے اور اسے بھی مسلم لیگ (ق) کی طرح استوار کیا گیا تھا۔ مقصد ہئیتِ مقتدرہ کے ساتھ رہنے والوں کو اس جماعت میں شامل کیا گیا تھا یا وہ خود ہی اس مرکب کا حصہ بنے، لہٰذا وہ 1977ء کی پیپلزپارٹی سے بالکل مختلف ہیں۔ انہیں مسلم لیگ (ن) میں شہبازشریف کی شکل میں ایک غلام مصطفےٰ جتوئی بھی حاصل ہو چکا ہے، لیکن یہاں نوازشریف حیات ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے،لیکن شائد اب وہ پہلے کی طرح جماعت کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے اور شہبازشریف کے اردگرد احسن اقبال اور رانا تنویر انہی بنیادوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ پرویز رشید جیسے لوگوں کا ڈنگ نکال دیا گیا ہے۔ نوازشریف اور مریم نواز کی ضمانت اور رہائی کو لوگ مولانا کے دھرنے کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ شائد ایسا نہیں ہے، کیونکہ عدلیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ مریم کی ضمانت کلی طور پر میرٹ پر ہوئی ہے۔

شاید لوگوں کو اس حوالے سے کچھ شک و شبہات ہی ہوں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عدلیہ اپنا آئینی کردار بحسن و خوبی ادا کر رہی ہے۔ مولانا کا دھرنا ابھی ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا، کیونکہ مولانا نے بہت حساس معاملات پر بات کرنا شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی طیاروں کے پاکستان میں اترنے کا جواب ابھی تک حکومت نہیں دے سکی، حالانکہ وزیر خارجہ کو اس حوالے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ پھر انہوں نے اپنے مطالبات میں انتخابات فوج کی مداخلت کے بغیر کروانا بھی شامل کیا۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ ایسے تمام مطالبات تسلیم کئے جا سکتے ہیں جو آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ گویا عمران خان ایسے مطالبات تسلیم کر سکتے ہیں اور عمران خان کے جواب سے پہلے ہی فوجی ترجمان نے اپنی آئینی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ فوج حکومت کے طلب کرنے پر ہی آتی ہے۔ اب مولانا نے کرتارپور راہداری پر بھی سوال اٹھا دیا ہے، حالانکہ اہم سیاسی جماعتیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہیں اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ مولانا کی جماعت جمعیت علمائے ہند ہی کی ایک شاخ ہے اور ابھی چند برس قبل ہی جمعیت علمائے ہند کے رہنماؤں نے صوبہ سرحد میں ایک کانفرنس میں دونوں ملکوں کے درمیان امن کی ضرورت پر زور دیا تھا، لیکن مولانا حکومت مخالفت میں اس اقدام کی مخالفت پر بھی اتر آئے ہیں۔

اس سارے پس منظر کے باوجود چودھری برادران کی منظر میں نموداری معاملات کو جہاں مثبت سمت میں لے جائے گی، وہاں شاید پنجاب میں تبدیلی کا سبب بھی بن جائے، کیونکہ چودھری برادران بظاہر اس منظر میں نووارد نظر آتے ہیں، لیکن شاید آپ کو یاد ہو کہ مولانا کے مارچ اور دھرنے سے قبل مولانا لاہور تشریف لائے تو ان کا پہلا پڑاؤ چودھری ظہور الٰہی روڈ پر تھا۔ جہاں سے وہ امتیاز عالم کے دفتر سافما میں رات کا کھانا تناول کرنے کے لئے پہنچے۔ گویا چودھری برادران سے رابطہ مارچ اور دھرنے کے آغاز سے قبل سے جاری ہے۔ اب آپ اس کا کچھ بھی مطلب نکال سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم