9ہندوتوا اور اس کے مظاہرے

9ہندوتوا اور اس کے مظاہرے
9ہندوتوا اور اس کے مظاہرے

  



نومبر 2019ء کو ہم نے کرتارپور راہداری کھول دی اور 12نومبر کو ننکانہ صاحب (شیخوپورہ) میں گورونانک جی کی 550ویں سالگرہ کے جشن کی تقریبات کا بھی اہتمام کیا۔ ان تقریبات میں ہمارے کئی وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی جس کا مطلب یہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ساری کابینہ سکھ برادری کی مذہبی رسومات کا احترام کرتی ہے اور اس کی خوشیوں میں شریک ہے۔ خبروں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ننکانہ صاحب کی اس تقریب میں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے 10ہزار سکھ یاتری شامل تھے۔ کرتارپور اور ننکانہ صاحب کی ان تقریبات کو پاکستان میں حکومتی سطح پر جو پذیرائی ملی اس سے مقصود یہ تھا کہ پاکستان کا وہ تشخص دنیا کے سامنے پیش کیا جائے جس میں مذہب کا کوئی امتیاز شامل نہ ہو۔

لیکن دوسری طرف اسی برس مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ بھارت نے کیا وہ ہمارے ہی نہیں دنیا بھر کے سامنے ہے۔ میں نے 9نومبر کو اپنے کالم: ”کرتارپور راہداری: مشتری ہوشیار باش!“ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس راہداری کو سکھ برادری کے لئے کھول دینے سے پاکستانیوں کی وسعتِ قلبی کا مظاہرہ تو ضرور ہوا ہے لیکن انڈیا سے آنے والے ہر یاتری کو بے ضرر نہ سمجھا جائے۔ بہت سے قارئین نے مجھے فون کرکے بزعمِ خویش شرمسار کیا کہ میں حکومت کی مذہبی کشادہ ظرفی کو منفی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہوں۔

لیکن میں نے اس کالم میں جو کچھ عرض کیا تھا وہ ایسے تاریخی حقائق تھے جن سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ اگر ایک طرف پاکستان اپنی اقلیتوں کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہو اور دوسری طرف ہمارا ہمسایہ اپنے ملک میں اپنی اقلیتوں (مسلمانوں) پر عرصہ ء حیات تنگ کر رہا ہو تو کسی بھی محبِ وطن پاکستانی کو یہ طعنہ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے ہاں رہنے والے یا دنیا کے دوسرے ملکوں سے آنے والے سکھوں اور ہندوؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر کرتارپور میں روزانہ 5ہزار یاتری بھی آئیں تو ان میں دوچار سکھ ایسے بھی تو ہو سکتے ہیں جو اپنے دیس (انڈیا) سے اسی طرح ٹوٹ کر پیار کرتے ہوں جس طرح ہم پاکستانی اپنے وطن سے کرتے ہیں۔ ان مشکوک دوچار سکھوں یا ہندوؤں کو ہزاروں یاتریوں میں تلاش یا مارک کرنا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں پر کتنا بڑا بوجھ ہوگا اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔

9نومبر کو ہمارے وزیراعظم نے کرتارپور میں تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان بھر میں ہندوؤں کے جو سینکڑوں مندر اور عبادت گاہیں ہیں ان کی تزئینِ نو (Renovation) کی جائے گی اور انہیں بھی کرتارپور اور ننکانہ صاحب کے گورودواروں کی طرح بنا سنوار اور سجا کر ہندو یاتروں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ لیکن جس وقت وزیراعظم یہ اعلان کر رہے تھے، عین اسی وقت ہندوستان کی سپریم کورٹ بابری مسجد کا فیصلہ سنا رہی تھی اور حکم دے رہی تھی کہ ایودھیا کی اس پوّتر دھرتی پر مسجد کی جگہ ہندو مندر تعمیر کیا جائے۔ میرے ایک صحافی دوست نے مجھے فون کرکے انڈین سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر میرا تبصرہ لینا چاہا تو میں نے انہیں کہا کہ یہ فیصلہ جو انڈین سپریم کورٹ نے دیا ہے، وہ تاریخی تناظر میں بالکل درست فیصلہ ہے۔ اگر یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آ جاتا اور اس جگہ دوبارہ مسجد تعمیر کرنے کے احکام صادر کر دیئے جاتے تو حضرت قائداعظم کی دو قومی نظریئے والی تھیوری غلط ثابت ہو جاتی۔ قائداعظم نے پاکستان کا مطالبہ (ایک الگ مسلم ریاست کے نام سے) اسی لئے تو کیا تھا کہ ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اگر 1947ء میں پاکستان قائم نہ ہوتا تو انڈیا کا ہندو حکمران ہمارے ساتھ وہی سلوک کرتا جو آج وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے علاوہ انڈیا کے طول و عرض میں بسنے والے اپنے 24کروڑ مسلمانوں کے ساتھ کررہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم کی ہندوتوا کا نظارا بادی النظر میں شائد ہم بیشتر پاکستانیوں کو دیکھنے کو نہ ملے۔ لیکن اگر آپ کے پاس سمارٹ موبائل ہے تو اس پر لکشمی دوبی (Laxmi Dubey) ٹائپ کرکے گوگل کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ہندوستان میں مسلمانوں اورپاکستان کے خلاف تعصب اور حسد کا عالم کیا ہے۔ ہمارا میڈیا کبھی کبھی اس طرف دھیان ضرور دیتا ہے لیکن اس شد و مد سے یہ فریضہ انجام نہیں دیا جاتا جس کی آج اشد ضرورت ہے۔ ہندو نے اپنے دیس میں اپنے ہم وطن مسلمانوں کے خلاف جو سنگدلانہ مذمتی مہم شروع کر رکھی ہے اس کی کئی جھلکیاں بین الاقوامی میڈیا گا ہے بگاہے دکھاتا رہتا ہے۔ گؤ رکھشا کے نام پر مسلم قصابوں اور گائے پالنے والے مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے گئے، جس طرح بیدردی سے ان کی کھال ادھیڑی گئی (Lynching) اور جس سفاکانہ طریقے سے ان کے پورے کے پورے خاندانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، وہ مودی کے ”مہان انڈیا“ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ہندو بڑے منظم طریقے سے ہندوتوا کی تھیوری پر عمل کر رہا ہے۔ لفظ ”ہندوتوا“ کا لغوی مطلب ”خالص ہندو تہذیب و ثقافت اور طرزِ زندگی“ ہے۔

میں ایک عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ انڈین میڈیا پر پاکستان دشمنی اور ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ایک منظم ثقافتی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس میں بالی وڈ کے ہندو فنکاروں سے لے کر ہندوستان بھر کے ہندو لوک فنکار شامل ہیں۔ انہی لوک فنکاروں میں ایک شریمتی لکشمی دوبی بھی ہے۔ وہ برسوں سے ہندو نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف اکسا رہی ہے۔ اس کی آواز تو کوئی ایسی خاص پُرکشش نہیں بلکہ زنانہ سے زیادہ مردانہ معلوم ہوتی ہے لیکن جب وہ اپنی موٹی موٹی آنکھوں میں شرارے اور انگارے بھر کر اپنے بازووں کو ایک خاص ادا سے یوں جھٹکتی ہے جیسے مسلمانوں اور پاکستانیوں کے گلے پر چھری پھیر رہی ہو تو اس کی آواز کا مردانہ پن متعصب ہندو سامعین پر سحر طاری کر دیتا ہے۔

دوبی کا تعلق رائے پور سے ہے جو ریاست چھتیس گڑھ کا دارالحکومت ہے۔ اس کی عمر 30برس ہے اور وہ ہنوز غیر شادی شدہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شریمتی جی نے ہندوتوا سے بیاہ کر رکھا ہے۔ انڈیا کے آشرموں میں کنواری داسیوں اور خادماؤں کی ایک طویل تاریخ ہے اور وہاں کے برہمن ان دیوداسیوں کے ساتھ جو ”اخلاقی سلوک“ کرتے ہیں اس کی داستانیں ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں سنی اور دکھائی جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی 30سالہ سفید رنگت والی خوبصورت کنہیا ہندومت کی پراتھنا کے روپ میں اپنی آواز کا جادو جگائے تو ہندو برہمن تو اسے ”ہاتھوں ہاتھ“ لیں گے۔ یوٹیوب پر لکشمی دوبی کے لوک گیتوں کی بھرمار دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کو سنئے اور مسلم دشمنی کا جو زہر وہ اپنی صوت و صدا میں گھول کر ناچتی اور تھرکتی ہے تو اس کے ساتھ سارا سازینہ گویا محورِ رقص نظر آنے لگتا ہے۔مودی حکومت نے دوبی جیسی بہت سی رقاصاؤں اور لوک گیت گانے والی لڑکیوں اور عورتوں کو ہائر کیا ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ لکشمی دوبی کے کئی کنسرٹوں کو حکومت کی طرف سے فنڈنگ کی جاتی ہے۔ بالفرض اگر حکومت ان تقریبات کو فنانس نہ بھی کرے تو انڈیا کے سینکڑوں نجی ادارے ایسے ہیں جو دوبی کی طرح کی فنکاراؤں کو دل و جان سے فنڈ کرنے کے لئے پیش پیش ہوں گے۔

دی نیویارک ٹائمز نے اپنی 12 نومبر 2019ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر لکشمی دوبی کی رنگین تصویر کے ساتھ ایک مفصل سٹوری شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے: ”مس دوبی (Dubey) انڈین لوک موسیقی کی سب سے بڑی سٹار ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے ہندوتوا کا عَلم بلند کئے ہوئے ہے۔ لفظ ہندوتوا کا مفہوم، وہ ہندو کلچر ہے جو اہلِ ہند کا طرزِ حیات بھی ہے۔ اور ”ہندوتوا میوزک“کا مطلب وہ مذہبی داستانیں ہیں جو بالی وڈ کے رقص و موسیقی کے پروگراموں کی طرز پر گائی اور دہرائی جاتی ہیں۔ ان منظوم لوک داستانوں میں غیر ہندو جاتیوں کو قابلِ گردن زدنی قرار دینا، غیر ہندو اقلیتوں کو زبردستی ہندو مذہب میں کنورَٹ (Convert)کرنا اور پاکستان پر حملے کرنے کی ترغیب دینا ہے“……

یہ سٹوری ایک مفصل آرٹیکل ہے جس میں رنگین اور بلیک اینڈ وائٹ تصاویر بھی شامل ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر امریکہ کا پرنٹ میڈیا ہندوتوا کے معانی میں ”پاکستان دشمنی“ کا اقرار کرتا ہے اور اس کو شائع کرنے میں ایک امتیازی اہتمام سے کام لیتا ہے تو پھر پاکستان کو اپنے ہاں ہزاروں ہندوؤں کی آمد اور ان کی مانیٹرنگ کا بطورِ خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ انڈیا سے آنے والے سکھوں اور ہندوؤں کو ضرور خوش آمدید کہیں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ ان میں سنی دیول جیسے فلمی ہدائت کار، اداکار، پروڈیوسر، سیاستدان اور گورداسپور سے لوک سبھا کے اسمبلی ممبر بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے انٹرنیشنل لیول پر بہت سی پاکستان مخالف فلموں کو ڈائریکٹ کرکے شہرت حاصل کی ہے اور لکشمی دوبی کے لوک گیتوں کے رسیا بھی یاتریوں کے روپ میں ہمارے شہروں کے گلی کوچوں کی خبریں اپنے ساتھ لے جا کر انہیں زعفرانی (Saffron) رنگ دے سکتے ہیں جو ہندوتوا اور ہندو برہمنوں اور جوگیوں کا خاص مذہبی رنگ ہے۔

مزید : رائے /کالم