پولیس افسران و اہلکاروں کو بہترین کارکردگی پر نقد انعامات سے نوازا گیا

    پولیس افسران و اہلکاروں کو بہترین کارکردگی پر نقد انعامات سے نوازا گیا

  



پشاور(کرائمز رپورٹر)خیبر پختونخواہ کے پولیس افسران و جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے،محکمہ پولیس میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رہے گا، پولیس اہلکار پوری جانفشانی اور مستعدی کے ساتھ اسٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم کے خاتمہ کے لئے کام کریں، پولیس اہلکار معاشرتی برائیوں کے تدارک کے لئے بھی بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے اپنی توانائیاں صرف کریں، ان خیالات کااظہارگزشتہ روز سی سی پی اوکریم خان نے ملک سعد شہید پولیس لائن میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس آفسران و جوانوں کو انعامات دینے کی تقریب کے دوران کیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں پولیس افسروں و اہلکاروں کو توصیفی اسناد دینے کی ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزمان سمیت منشیات فروشوں اور دیگر مختلف جرائم پیشہ افراد کے خلاف عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا تقریب کے دوران سی سی پی او کریم خان نے سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاریوں سمیت اسٹریٹ کرائمز اور منشیات فروشی میں ملوث ملزمان کے خلاف پولیس اہلکاورں کی عمدہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ پولیس نے عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ملک میں امن قائم کرنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت امن و امان کے قیام کی خاطر جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں بھی اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جوانوں نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی جس کی بدولت محکمہ پولیس کے وقار میں اضافہ ہوا ہے، اس موقع پر سی سی پی کریم خان نے عمدہ کارکردگی کے حامل پولیس آفسران و اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا، انہوں نے پولیس آفسران و اہلکاروں کواسٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیاں کرنے سمیت معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لئے بھی بھر پور اقدامات کی ہدایت کی

مزید : پشاورصفحہ آخر