الپوری، کلاخیل کی کوئلہ کان میں پھنساکان کن نکالانہ جاسکا

الپوری، کلاخیل کی کوئلہ کان میں پھنساکان کن نکالانہ جاسکا

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)درہ ادم خیل کے علاقے کلا خیل کے کوئلہ کان میں ہونے والے حادثہ کو چار دن ہونے کے باوجود شانگلہ پھنسے ہوئے کان کن نیک محمد کو نہ نکالا جاسکا۔محنت کشوں کا تعلق شانگلہ بنڑ ڈھیری سے ہے،ٹھیکدار نیک محمد کو اطلاع ملی کہ کان میں آگ لگ گئی ہے جس کے فوراًوہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ الچ کے ذریعے اندر داخل ہوئے اور اچانک الچ سے گر گئے جس کی تلاش گزشتہ چار دنوں سے جاری ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ان کے دیگر ساتھی معمولی زخمی ہوئے تھے اورزخمیوں کو درہ ادم خیل ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شانگلہ کے یونین کونسل ڈھیری بنڑسے تعلق رکھنے والے کان کن جو درہ ادم خیل کے علاقے کلا خیل کے مائن نمبر41 کے ایک کوئلہ کان میں کام جاری تھا کہ ٹھکیدار کو اطلاع ملی کہ کا ن میں آگ لگ گئی ہے جس کے فوراً بعد وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کان کے اندر آگ بجھانے گیا تو اچانک وہ الچ سے گر کر کان کے اندرپھنس گیا ہے چار دن سے تلاش جاری ہے لیکن حکومتی سردمہری کی وجہ سے کوئلہ کا حادثہ سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتہ بھی کوئلے کان میں دھماکے سے شانگلہ کے ایک کان کن جان بحق جبکہ دو سرا زخمی ہوئے تھے،بدقسمتی سے ہر ہفتے شانگلہ کے محنت کش کوئلہ کانوں میں حادثوں کے شکار ہوتے ہیں مگر شانگلہ میں اس کے بچوں کیلئے نہ توکئی کالج ہے نہ کوئی سکول، نہ کوئی ہسپتال اور نہ کوئی دیگر سہولت۔2015میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق شانگلہ میں 60فیصد سے زائدمحنت کش کوئلے کے کانوں میں مزدوری کرتے ہیں جن میں کثیر تعداد 20سال سے کم عمر افراد کے ہیں، کوئلہ کان میں جان بحق ہونے والے مزدوروں کے بچے یتیم ہوجاتے ہیں اور یہ بھی کوئلے کے کانوں میں جاکر مزدوری کرتے ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے۔حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کوئلے کے کانوں میں مزدوری کرنے والے محنت کشوں کی لائف انشونس سمیت اس کے بچوں کیلئے خصوصی پیکج تشکیل دیں تاکہ ایسے حادثوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کے اہل خانہ اوربچوں کی مستقبل محفوظ ہوسکے اور ان کے تعلیم، صحت اور پھر روزگار کا بندوبست اس پیکج کا حصہ ہونا چاہئے۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر