ہر سال 92ہزار بچے نمونیا سے موت کے منہ میں جاتے ہیں‘ ڈاکٹر غلام مصطفی

ہر سال 92ہزار بچے نمونیا سے موت کے منہ میں جاتے ہیں‘ ڈاکٹر غلام مصطفی

  



ملتان (وقائع نگار)انسٹی ٹیوٹ آف مدر اینڈ چائلڈ کیئر میں ہیلپنگ ہینڈ زفاؤنڈیشن کے زیراہتمام نمونیا کا عالمی دن منایا گیا گیا جس میں کثیر تعداد میں خواتین چوٹے بچوں کی مائیں، دودھ پلانے والے بچوں کے ماؤں نے نے شرکت کیتقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی چائلڈ سپیشلسٹ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نمونیا کے بارے میں بتایا کہ پاکستان میں ہر سال با نوے ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتیہیں پاکستان میں پانچ (بقیہ نمبر41صفحہ12پر)

سال سے کم عمر بچے زیادہ تر نمونیہ کا شکار ہوتے ہیں اور اگر اس بیماری پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو 2030 تک تقریبا سات لاکھ بچے اس بیماری کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کی شرح زیادہ ہے نمونیا کی بیماری کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر غلام مصطفی نے بتایا کہ نمونیا پھیپھڑوں کے انفیکشن کی ایک مہلک بیماری ہے جس میں جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہوجاتی ہے اس کے باعث زندگی کی بازی ہارنے جیسے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں نمونیا کا سب سے آسان شکار چھوٹے بچے اور عمررسیدہ افراد ہوتے ہیں بحر حال ویکسین کی مدد سے اس بیماری سے حفاظت ممکن ہینمونیا کی علامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر زہرہ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ نے شرکا کو بتایا کہ بلغم بنانے والی کھانسی نمونیا کی فیصلہ کن علامت ہے بیکٹیریل نمونہ میں پیلے اور ہرے رنگ کا بلغم بنتا ہے اس کے علاوہ نمونیا کی صورت میں عموما بچوں کو کپکپاہٹ کے ساتھ بخار ہوتا ہے بڑوں کو ہلکابخار ہو سکتا ہے مزید اگر کوئی شخص سینے میں درد محسوس کرے اور سانس آسانی سے نہ لے پارہا ہوں یا مناسب طریقے سے نہ کھانس پا رہا ہو تو یہ بھی نمونیا کی ایک علامت ہیاسی طرح تیز بخار اور کپکپاہٹ کے ساتھ ساتھ پسینے کا آنا بھی نمونیہ ہونے کی ایک علامت ہوسکتا ہے۔تاہم مختلف افراد میں نمونیا کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں پروگرام مینیجر صائمہ عاشق نے اس موقع پر شرکاء کوبتایا کہ اگر صرف بچوں کی بات کریں تو درج ذیل صورت حال پیش آنے کی صورت میں آپ فوری طور پر اپنے بچے کے معمول کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں آپ کے بچے کی کھانسی تین ہفتے سے زیادہ جاری رہتی ہے یا اینٹی بائیوٹک شروع کرنے کے بعد آپ کے بچے کا بخار تین دن سے زیادہ عرصے تک رہتا ہے سانس لینے میں دشواری حد سے زیادہ بڑھ رہی ہے ہے یا مریض بہت سرد پڑ جائے یا ہونٹ نیلے ہوجائیں اور دیکھنے میں بہت زیادہ بیمار نظر آرہا رہا قابل منتقل بیماری ہے یا نہیں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نمونیا کے شکار مریض سے اس بیماری کے جراثیم صحت مند انسان کو منتقل ہوسکتے ہیں یہ جراثیم متاثرہ مریض کے کھانسنے اور چھینکنے سے ماحول میں شامل ہوجاتے ہیں اور خطرہ رہتا ہے کہ وہ اس کے اردگرد موجود دیگر صحت مند افراد کے پھیپھڑوں میں سانس کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد جو پہلے ہی کسی مرض میں مبتلا ہو جیسے دمہ ذیابطیس اور امراض قلب اگر انھیں نمونیا ہو جائے تو یہ ان کے لئے شدید خطرے کی بات ہے جن افراد کی قوت مدافعت کم ھو اس کے باعث موت کا شکار ہو سکتے ہیں حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا جن دس بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں ان میں نمونیا سے بچاؤ کا ٹیکہ بھی شامل ہے۔لیکن بدقسمتی سے ابھی ہمارے ہاں خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں میں حفاظتی ٹیکوں کے متعلق عوام کو مکمل شعور نہیں ہے۔

ڈاکٹر غلام مصطفی

مزید : ملتان صفحہ آخر