احتیاطی تدابیر سے ذیابیطس کے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے‘ ڈاکٹروقاص شفیق

احتیاطی تدابیر سے ذیابیطس کے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے‘ ڈاکٹروقاص شفیق

  



لاہور(پ ر)پاکستان سمیت دنیا بھر میں 14نومبر کو ذیابطیس کا عالمی دن" ذیابطیس اور خاندان"کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔اس دن کا  مقصد جہاں ایک طرف توذیابطیس کے مریض کی صحت بحال رکھنے میں اس کے خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے وہیں اس بات کا احساس دلانا بھی ہے کہ اس مصروف طرز زندگی میں بھی ہمیں لازمی طور پر نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان کے تمام افراد کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کے کنسلٹنٹ اینڈوکرونولوجسٹ، ڈاکٹر وقاص شفیق نے اس دن کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کا جسم انسولین کی مطلوبہ مقدار بنانا چھوڑ دیتاہے یا پھر جو انسولین جسم بناتا ہے وہ اسکو صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔ ڈاکٹر وقاص نے ذیابطیس کی علامات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پیاس کا زیادہ لگنا، پیشاب کا زیادہ آنا،دھندلا نظر آنا، جسم میں تھکاوٹ کا احساس رہنا اور وزن کا گرنا ذیابطیس کی علامات ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں ذیابطیس بہت زیادہ پائی جانے والی بیماری ہے اور  ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ہر چوتھا بالغ شخص اس بیماری کا شکار ہے یعنی تقریباً ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی فرد ذیابطیس کا شکار ہو سکتا ہے۔ 

 جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا لبلبہ انسولین بناتا ہے۔ انسولین خوراک سے حاصل ہونے والے گلوکوز کوجسم کے خلیو ں میں پہنچا تی ہے جہاں سے یہ انرجی کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ انسولین کی مطلوبہ مقدار کے نہ ملنے  یا صحیح استعمال نہ ہونے سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہو جاتاہے اور ایک لمبے عرصے تک خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ رہنے سے جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ 

مزید : کامرس