ایف بی آ ر کو اتھارٹی بنانے کا تجربہ درست نہیں‘پاکستان ٹیکس بار

 ایف بی آ ر کو اتھارٹی بنانے کا تجربہ درست نہیں‘پاکستان ٹیکس بار

  



لاہور(یواین پی)معاشی بحران کی صورتحال میں فیڈرل بو رڈ آ ف ریو نیو کو پا کستان ریو نیو اتھا رٹی بنا نے کا فیصلہ قابل ستائش نہیں،موجودہ حالات میں ایف بی آر کو تجربات کی بھینٹ چڑھانے کیوجہ سے ٹیکسز آمدن کے اہداف حاصل کرنے کیلئے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی،اصلاحات نا گزیر ہیں لیکن اس کے لئے پہلے ہوم ورک اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کی جائے۔ان خیالات کا اظہا رپا کستا ن ٹیکس با ر ایسو سی ایشن کے صدر آ فتا ب نا گر ہ،سینئر نا ئب صدر قاری حبیب الر حمن زبیر ی اور جنرل سیکرٹر ی فر حا ن شہزاد اور دیگر نے جائزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عہدیداروں نے کہا کہ حکومت اس سے قبل ما ڈل ٹیکس پیئر یو نٹ کا تجربہ بھی کر چکی ہے جس کی صرف تشہیر پر اربو ں روپے خر چ کیے گئے لیکن یہ بری طرح ناکام رہا۔اسکے بعد ایف بی آر بنادیا گیا اور اس پر بھی اسی طرح کے اخراجات ہوئے اور آج نیا تجربہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید معاشی بحران میں پاکستان کو تجربہ گاہ بنانے کی بجائے حکو مت عملی اقدا ما ت کے طر ف تو جہ دے۔بجلی اورگیس کے کمر شل میٹر اتار نے کی مہم کی بجا ئے ر جسٹریشن کا عمل شر وع کیاجا ئے اور مو قع پر ٹیکس وصو لی کو یقینی بنا یا جا ئے کیو نکہ ایف بی آر کے پاس تمام قانونی اختیارات موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کو اتھارٹی بنانے سے ہرگز آمدن میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ اس میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور موجودہ حالات میں ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ایف بی آر میں ٹیکس با رز سے پروفیشنل لوگوں کو بھرتی کیا جائے،ریو نیو اہداف کو پورا کر نے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بیس اور ٹیکس نیٹ کو بڑ ھا یا جا ئے۔پاکستان ٹیکس بار نے پیشکش کی کہ اگر حکومت مسائل سے نمٹنا چاہتی ہے تو ہر طرح کی مدد اورمعاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔

مزید : کامرس