اے سی سی اے کے زیر اہتمام کراچی میں اسٹریٹجی کانفرنس

      اے سی سی اے کے زیر اہتمام کراچی میں اسٹریٹجی کانفرنس

  



کراچی (این این آئی)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس نے کراچی میں،”اسٹریٹجی سمٹ کے عنوان سے ایک فکرانگیز ایونٹ کا اہتمام کیا جس میں مستقبل کے حوالے سے مطلوبہ ہنرمندی اور روزگار کے حصول میں ڈیجٹلائزیشن، پائیدار ترقیاتی اہداف اور کام کے مستقبل کے پس منظر میں درپیش چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس سمٹ کے لیے اے سی سی اے کو نٹ شیل کانفرنسز اور آئی بی ایم کا تعاون بھی حاصل تھا۔اپنے کلیدی نوٹ میں اے سی سی اے کی گلوبل ہیڈ آف ایل اینڈ ڈی، جولیٹ، زیبو-میریڈیونے کہا:”یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہم روزگار پر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کیاثرات کو سمجھیں اور اِسی کے ساتھ مستقبل میں لیبر مارکیٹ کی طلب کا بھی جائزہ لیں۔ اور یقیناً، موجودہ افرادی قوت میں ہنرمندی کے دوبارہ حصول یا ہنرمندی میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں نوجوان نسل کی ہنرمندی مستقبل کے اثرات سے محفوظ ہیں۔“جولیٹ، زیبو-میریڈیونے مزید کہا:”اے سی سی اے یہی کام انجام دے رہا ہے یعنی اپنے اسٹوڈنٹس اور ارکان کو حقیقی دنیا کی مطلوبہ ہنر مندی اور مہارت سے آراستہ کر رہاہے تاکہ وہ تمام اقسام کے اداروں پر فوری اثر قائم کر سکیں۔اس میں مشین لرننگ کے ذریعے جدید ترین ریسرچ پر مشتمل ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی ریسرچ پر مشتمل پروگرام شامل ہیں۔ یہ پروگرام غیر معمولی مواقع پیش کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اخلاقی فیصلے (ethical judgment)اور جذباتی فراست (emotional intelligence) کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔“تمام مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انداز فکر میں تبدیلی کے لازماً اجتماعی کوشش کرنا چاہیے۔

 پالیسی سازوں، نوجوانوں سے تعلق رکھنے والی تنظیموں، افراد، آجرین،تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی، سب کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں درکار پیشہ ورانہ ہنرمندی کو،، تیکنکی معلومات سے آگے بڑھ کر،کیسے ترقی دی جائے۔اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے اعلیٰ سطح کے ایک پینل مذاکرے میں ماڈریٹر کے فرائض انجام دئیے۔ اس مذاکرے کا مقصد مستقبل کی قیادت کا جائزہ لینا اور ایسے کاروباری رہنماؤں کو کس طرح تیار کیا جائے جو دنیا کی ضرورت ہیں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔اس مباحثے کی خاص بات 3M کے ریجنل منیجنگ ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور افریقہ، رابرٹ نکولس، آغا خان یونیورسٹی کی وائس پریزیڈنٹ ہیومن ریسورسز، کیرول جے آریانو(Carol J. Ariano)اور اے سی سی اے کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و جنوبی ایشیا،اسٹوارٹ ڈنلوپ کی شرکت تھی۔مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے، سجید اسلم نے کہا،”ہمیں پائیدار ترقی کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے نئی ڈیجیٹل ہنرمندی اورمربوط تعلیمی نظام وغیرہ جیسے ماحول کی بھی ضرورت ہے جن کی مدد سے اِسے زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جا سکے۔ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ موجود ہ افرادی قوت کو تربیت دی جائے اور دوبارہ تربیت دی جائے کیوں کہ ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلی ہمارے نظام میں آنے والی تبدیلی سے زیادہ تیز ہے۔ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ افرادی قوت کو اعانت کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب روزگار کے انداز غیر یقینی ہوں۔“مستقبل میں مطلوبہ ہنرمندی کا اندازہ لگانا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے،اور اِسی کے ساتھ،سیکھنے کے طریقے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اِن طریقوں میں دوران ملازمت تربیت بھی شامل ہے۔ووکیشنل ایجوکیشن اور تربیت (VET) ابتدائی اورمارکیٹ سے تعلق رکھنے والی ہنرمندی سکھانے کا ایک عمدہ طریقہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہنرمندی میں بہتری اور زندگی میں اسے دوبارہ سیکھنا بھی اہم ہے۔مقررین نے، نچلی اور اعلیٰ سطح کی ہنرمندی کو وسعت دینے کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی کیوں کہ پاکستان کی موجودہ ورک فورس کے پاس ڈیجیٹل ہنرمندی بالکل نہیں ہے یا بہت معمولی ہے۔ مقررین نے اس اہم سوال پر اتفاق کیا کہ عمر بھر کام آنے والی تربیت کے لیے لوگوں میں کس طرح تحریک پیدا کی جائے اور اس حوالے سے نجی و سرکاری شعبے میں ذمہ داری کو کس طرح متوازن بنایا جائے اور اس میں افراد کو بھی شریک کیا جائے؟

مزید : کامرس