حکومت نے جانے میں بس تھوڑا وقت رہ گای: حمزہ شہباز

حکومت نے جانے میں بس تھوڑا وقت رہ گای: حمزہ شہباز

  



لاہور(نامہ نگار)اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے حتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کی بیماری پر حکومت سیاست کر رہی ہے،وہ وقت دور نہیں ہے جب عوام جب اس حکومت سے نجات حاصل کرلیں گے، نوازشریف کی صحت ناساز ہے نوازشریف اپنی بیماری کے باوجود بیرون ملک سے واپس آئے،نوازشریف اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر بیرون ملک سے واپس آئے۔اس سے قبل احتساب عدالت کے جج امیرمحمد خان نے آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں ملوث پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 28 نومبر تک توسیع کر دی، حمزہ شہباز کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پر وکلا اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی،حمزہ شہباز کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر گزشتہ روز احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو نیب کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ریفرنس دائر کر دیا جائے گا،فاضل جج نے نیب سے استفسار کیا کہ ریفرنس کب تک دائر کیا جائے گا،جس پرنیب کے وکیل نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے الزام میں چھان بین ہو رہی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کیساتھ ہی ریفرنس دائر کر دیا جائے گا۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے وکلاء کو کمرہ عدالت جانے سے روک دیا،جس پر وکلاء نے کہا کہ انہیں کسی صورت کمرہ عدالت جانے سے نہیں روکا جا سکتا، وکلاء کو کس قانون کے تحت روکا گیا پولیس اہلکاروں کا کہناتھا کہ ایس پی ہیڈکوارٹر کے حکم پر وکلاء روکاگیاہے اورعدالت میں میڈیا کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔علاوہ ازیں احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس میں گرفتار خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید8 روز کی توسیع کردی،عدالت نے ملزمان کوکودوبارہ 21 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیاہے،عدالت نے وکلاء اور میڈیا ورکرز کو کمرہ عدالت نہ جانے دینے کی درخواست پر ڈی آئی جی اپریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے،خواجہ سعد رفیق نے پولیس کے نارواسلوک کا ذکرکیا تو فاضل جج نے کہا آپ تحریری درخواست دے دیں میں آرڈر پاس کرتا ہوں۔ کیس سماعت شروع ہوئی توفاضل جج نے خواجہ سعد رفیق سے استفسار کیا کہ آپ نے بحث مکمل سننی ہے یا باہر جانا ہے،جس پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں کمرہ عدالت میں بیٹھ کر جرح سننا چاہتا ہوں، دو ساتھی ارکان پنجاب اسمبلی کوروکاگیا،اگر پولیس نے مسلم لیگ کے رہنماؤں اور اہلکاروں کے خلاف یہ روش نہ چھوڑی تو وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے، ارکان اسمبلی کو ان کے ساتھ عدالت میں جانے دیا جائے فاضل جج نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعدمزید گواہوں جو طلب کر تے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

احتساب عدالت

مزید : صفحہ آخر