پاکستان کا کوئی ”بڑا ‘ بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ، رانا بشارت علی خان 

پاکستان کا کوئی ”بڑا ‘ بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ، رانا بشارت ...

  



لاہور (انٹرویو: نعیم مصطفےٰ) انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ برطانیہ کے صدر اور انسانی حقوق کے ممتاز علمبردار رانا بشارت علی خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پر پاکستانی حکومت کی سمت درست نہیں اور ہم عالمی سطح پر اس حوالے سے سفارت کاری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر نعروں اور تقریروں کا سلسلہ بند کرکے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے جائیں، مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں انسانی بنیادوں پر اٹھایا جائے، اقوام متحدہ اور جنیوا سمیت اہم مقامات و فورمز پر اہل اور عالمی امور کے ماہر سفارت کار تعینات کئے جائیں، بھارت کے جھوٹے پراپیگنڈے کا توڑ کرنے کےلئے بھر پور لابنگ کی جائے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور مظلوم کشمیریوں کی آواز بھی۔ لندن سے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی سفیر نے ”پاکستان“ فورم میں دیئے گئے انٹرویو کے دوران کہا کہ میں کشمیریوں کی آواز دنیا کے بیشتر ممالک میں بلند کرکے آیا ہوں اور چند روز قبل جنیوا میں تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ کرکے نہ صرف کشمیری بہن بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا بلکہ بھارت کا مکروہ چہرہ بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی تنظیموں نے بے بنیاد پروپیگنڈا کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا جبکہ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان اور اس کے سفارتخانے یا ہماری تنظیمیںبھی کوئی موثر جواب نہ دے سکیں۔ رانا بشارت علی خان نے کہا کہ میں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 5اگست کے بعد کشمیر ایشوکے ہر پہلو پر بریفنگ دی لیکن میری ایک تجویز پر بھی عمل نہیں کیا گیا، اقوام متحدہ میں ہماری شکست کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کو انسانی بنیادوں پر پیش نہیں کیا، میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت سے ملا، حکمرانوں کو مشورے دیتا رہا لیکن نتیجہ صفر نکلا۔ اس بنا پر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ پاکستان کا کوئی بڑا بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں جبکہ اس حوالے سے کسی کا کوئی فوکس ہے نہ ہی کوئی اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میری دی جانے والے تمام بریفنگ ہوا میں اڑا دی گئیں جبکہ پاکستان نے تو کچھ نہ کیا البتہ بھارت نے میرا فیس بک اکاﺅنٹ بند کردیا، میرے بینک اکاﺅنٹس منجمد کروا دیئے گئے، یوں لگتا ہے جیسے ہمارے پیارے وطن میں کشمیر کے نام پر سیاست و دکانداری کی جارہی ہے اور دورہ پاکستان کے دوران میں نے جو10 روز یہاں گزارے وہ ضائع ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اوپر سے نیچے تک جعلی افراد سے بھری ہے، ہمارے سفارت کار بھی فارغ ہیں، دیار غیر میں رہنے والے ہم عام پاکستانی اپنے سفارتکاروں سے زیادہ موثر اور سنجیدہ ہیں جو اپنے تئیں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔ رانا بشارت علی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا میں جو کشمیر سنٹر یا دفاتر کھولے گئے ہیں ان کی کارکردگی بھی زیروہے، ہم صرف میڈیا پرمقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں جبکہ اب تک بھارت کے کسی پروپیگنڈے کا موثرجواب نہیں دے سکے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اس حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے، یو این او اور جنیوا میں امور کشمیر سے واقفیت رکھنے والے سفارت کار لگائے جائیں، تعلیمی اداروں میں بچوں کیلئے خصوصی مضامین شامل کئے جائیں اور بھارتی تنظیموں کے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کےلئے موثر لابی بنائی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یورپ میں کشمیر کے نام پر جعلی فنڈریزنگ ہو رہی ہے، یہ کس قدر ظلم کی بات ہے کہ عالمی ریڈ کراس کو مقبوضہ کشمیر میں رفاحی کام کرنے کی اجازت نہیں ، بھارتی افواج انہیں روکتی ہے ہم لوگ اپنا پیسہ خرچ کرکے پاکستان کا امیج بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمارے سفارتخانے اس میں بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

رانا بشارت علی خان

مزید : صفحہ آخر