آزادی مارچ کا پڑاؤ ختم، پلان بی شروع، آج ملک بھر میں اہم سڑکیں بند کرنے کا اعلان 

 آزادی مارچ کا پڑاؤ ختم، پلان بی شروع، آج ملک بھر میں اہم سڑکیں بند کرنے کا ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پڑاؤ کو ختم کرکے ایک نئے محاذ پر جانے کا اعلان  کرتے ہوئے کہا ہے کہ   سب لوگ  اب سڑکوں پر آئیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں،آزادی مارچ کے شرکاء نے حکومت کی جڑیں کاٹ دی ہیں، انشاء اللہ اس  مرحلے میں  ہم حکومت کے تنے کو گرا دیں گے،ہم عوام کے حقوق کی جنگ جب تک لڑ رہے ہیں ، سب لوگ اس میں شامل ہوں،د و ہفتوں سے قومی سطح کا احتجاج ایک تسلسل سے ہوا،ملک کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں اس دائرہ کار کو بڑھانے کے منتظر ہیں، ہم یہاں سے روانہ ہوکرعوام میں شامل ہو جائیں گے،  انشاء اللہ اس  مرحلے میں  ہم حکومت کے تنے کو گرا دیں گے،کوئی ملک اس حکومت پر اعتماد نہیں کر رہا اور نہ ہی ہم موجودہ حکومت پر کوئی اعتماد کرتے ہیں اورہم اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔بدھ کو آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے آزادی مارچ کے پڑاؤ کو ختم کرکے ایک نئے محاذ پر جانے کا اعلان  کردیاہے،دو ہفتوں سے قومی سطح کا احتجاج ایک تسلسل سے ہواملک کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں اس دائرہ کار کو بڑھانے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں سے روانہ ہوں گے اور عوام میں شامل ہو جائیں گے،تا کہ آزادی مارچ کا سلسلہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ اب دیوار گر چکی ہے،اب گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کا انتظار ہے،آزادی مارچ کی حوصلہ شکنی کیلئے مختلف جملے کہے جا رہے ہیں،ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم نے نہ تیرا نام لے کر آئے تھے اور نہ ہی تیرا سہارا لے کر یہاں آئے، ہمارا اللہ پر اعتماد ہے، اس لئے ہم یہاں آئے ہیں اور اسی طرح اپنی قیادت کے ہمراہ اس محاذ پر بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ یہ اجتماع یہاں سے اٹھے گا تو ہمیں آسانیاں پیدا ہوں گی، اب خبریں یہ ہیں کہ حکومت کی صوبوں صوبوں میں چولیں ہل رہی ہیں اور  یہ حیران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 27اکتوبر سے آج تک یہ مرحلہ بڑے منظم اور پر امن طریقے سے گزارا ہے، دنیا نے بھی اسے تسلیم کیا کہ ہم کتنے منظم اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مجھے اپنے کارکن اور عوام کا خون عزیز ہے اسی طرح پاکستان کی پولیس، رینجر اور فوج کا خون بھی عزیز ہے، ادارے تسلیم کریں کہ ہم کسی پارٹی کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ ہم اس ملک کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اس سے عوام کی زندگی متاثر نہ ہو، ہمیں یہ حکمرانی قبول نہیں، کارکن جب یہاں سے جائیں تو اپنے علاقوں میں منظم رہیں، ہم نے ملک میں کسی کا نقصان نہیں کرنا ہم یہ کہتے ہیں کہ جب تک یہ ناجائز حکومت ہے ملک کا ایک ایک دن تنزلی کی طرف جا رہا ہے، ہم قوم سے قربانی چاہتے ہیں، قوم سے اپیل ہے کہ جب آپ یہاں دوری کی وجہ سے نہیں آ سکے تو اپنے علاقے میں باہر نکلنے سے گریز نہ کریں،سب لوگ سڑکوں پر ائیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں ہم عوام  کے حقوق کی جنگ جب تک لڑ رہے ہیں آپ اس میں شامل ہوں، جب تک آپ اس میں شامل نہیں ہوں گے ہم اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے،۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے بابری مسجد کے فیصلے کو نہیں مانتے، ہم کشمیریوں کو اعتماد دلاتے ہیں کہ قدم قدم پر پاکستانی عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔دریں اثناجمعیت علمائے اسلام نے پلان بی پر عملدرآمد کے لئے اسلام آباد میں فیض آباد، راولپنڈی میں ٹی چوک اور دیگر مقامات کو بند کرنے کے لئے کارکنوں کو ہدایات جاری کر دیں۔ پولیس کو بھی الرٹ کر دیا گیا۔جے یو آئی (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل درآمد کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ سید حمید کراس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا تاہم مذاکرات کے بعد شاہراہ کھول دی گئی۔خیال رہے کہ کوئٹہ چمن شاہراہ کے ذریعے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی ہوتی ہے۔دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سید حمید کراس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس کے باعث سیکڑوں مسافر گاڑیاں پھنس گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا رہا۔صوبائی امیرجے یوآئی ف مولانا عبدالواسع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے پلان بی پر بلوچستان میں عملدرآمد شروع کر دیا ہے، پلان بی کے تحت کوئٹہ چمن شاہراہ سید حمید کراس کو ٹریفک کے لیے بند کیا ہے۔دوسری جانب لیویز کی بھاری نفری شاہراہ کھلوانے کے لیے موقع پر پہنچی اور شاہراہ کو کھلوانے کے لیے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔اس حوالے سے جے یو آئی (ف) اور  پشتونخوا میپ کے مقامی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں کوئٹہ چمن شاہراہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔فیصلہ کیا گیا کہ کوئٹہ چمن شاہراہ آج دن 11 بجے دوبارہ بند کردی جائے گی۔دھرنے کے باعث بین الاقوامی شاہراہ 7 گھنٹے بند رہی۔نواز کاکڑ کا کہنا ہے کہ کل آر سی ڈی شاہراہ خضدار کے مقام پربند کی جائیگی۔جے یو آئی (ف) کے حکومت مخالف تحریک کے پلان بی پر مکمل عملدر آمد (آج) جمعرات کو دو بجے ہوگا۔  خیبر پختون خوا میں جمعرات کو دو بجے دو بجے انڈس ہائی وے بند کیا جائیگا،پشاور لاہور موٹروے بند کیا جائیگا،چکدرہ کے مقام پر سوات دیر چترال اور باجوڑ کے لائنز بن ہونگے اور شاہراہ قراقرم بند کیا جائیگا، خیبر پختوا خوا میں پلان بی کے حوالے سے ذمہ داریاں سینیٹر مولانا عطاء الرحمن کو سونپی گئی ہیں۔ پلان بی کے تحت سندھ میں چارجگہ سے شاہراہیں بند کی جائیگی اور ان کی ذمہ داری مولانا راشد سومرو کو سونپی گئی ہے۔ پلان کے تحت کراچی سے بلوچستان کا گیٹ وے حب ریور روڈ پر بند کیا جائے گا کراچی کے کارکن وہاں پہنچیں گے۔ لاڑکانہ،جیکب آباد اور ملحقہ اضلاع جیکب آباد کے مقام پر دھرنا دے کر سندھ بلوچستان شاہراہ بند کرینگے۔سکھر،  پنو عاقل، شکارپور اور ملحقہ اضلاع گھوٹکی کے مقام پر سندھ پنجاب کا رابطہ توڑینگے جبکہ سکھر کے مقام پر سکھر ملتان موٹروے کو بند کیا جائے گا۔بلوچستان میں بھی پلان بی کے تحت چار شاہراہیں بند کی جائیں گی جمعرات کو دو بجے سے کوئٹہ چمن شاہراہ مکمل بند ہوگا،ایران تفتان شاہراہ بند کیا جائے گا،بلوچستان کراچی شاہراہ خضدار کے مقام پر بند کیا جائے گا،پنجاب بلوچستان شاہراہ ڈیرہ غازی خان باونڈری پر بند کیا جائے گابلوچستان میں آغا سید محمود شاہ کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں پنجاب میں ذمہ داریاں مولانا صفی اللہ بھکروی کو سونپی گئی ہیں،پلان کے تحت دو بجے کوٹ سبزل رحیم یارخان پر پنجاب سندھ شاہراہ بند کیا جائے گا، ڈیرہ غازی خان میں انڈس ہائی وے بند کیا جائے گا،راولپنڈی میں اسلام آباد کے دو داخلی مقامات پر دھرنا دے کر بند کیا جائے گا۔

پلان بی شروع

مزید : صفحہ اول