آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی پر اعتراض تو پارلیمنٹ خودمیں تبدیلی لائے: اسلام آباد ہائیکورٹ

آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی پر اعتراض تو پارلیمنٹ خودمیں تبدیلی لائے: اسلام ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آرڈیننس کیخلاف درخواست کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ ملک میں آمریت کے باعث آرڈیننس آتے رہے تاہم اب پارلیمنٹ اس رویے میں تبدیلی لاسکتی ہے۔ بدھ کو یہاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت کی جانب سے 8آرڈیننس جاری کرنے کیخلاف مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر سماعت ہوئی۔(ن) لیگ کے وکیل عمر گیلانی نے کہا30 اکتوبر کو صدر نے 8 آرڈیننس پاس کئے، یہ آرڈیننس جیلوں و قیدیوں سے متعلق رولز، قوانین میں تبدیلی اور دیگر معاملات کے حوالے سے ہیں، آرٹیکل 89 کے مطابق صدر صرف ایمرجنسی میں آرڈیننس جاری کرسکتا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا پارلیمنٹرینز کو یہ محسوس کرنا چاہیے وہ معاملات اسمبلی میں حل کرسکتے ہیں، یہ تواچھے ایشوزپرآرڈیننس ہیں اور پبلک انٹرسٹ کے ہیں، محسن شاہ نواز رانجھا خود ممبر قومی اسمبلی ہیں ان کو وہیں یہ معاملہ اٹھانا چاہیے، جو اچھی چیزیں ہیں ان پر آپ اسمبلی میں بحث کرسکتے ہیں، کیا اپوزیشن نے سپیکرکیساتھ یہ معاملہ اٹھایا۔محسن شاہ نواز رانجھا نے جواب دیا جی ہم نے ان کیخلاف سپیکر کو لکھا ہے۔چیف جسٹس نے کہا آرڈیننس ایک خاص وقت کیلئے ہوتے ہیں اس سے آگے نہیں جاسکتے، عدالت نے محسوس کیاکہ اپوزیشن اور حکومت دونوں سخت موقف رکھتے ہیں اور دونوں نے انا بنا لی ہے اسلئے اتفاق نہیں ہوتا، عدالت میں سیاسی نوعیت کے معاملات کونہ لائیں، عدالتوں کے اور بہت سے کام ہیں یہی وقت عام سائلین کو دیا جاسکتاہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اچھے آرڈی نینسز کو سپورٹ کریں، آپ تو تمام آرڈی نینسز کو عدالت لے آئے ہیں، بدقسمتی سے ڈکٹیٹرشپ دور میں منظور آرڈی نینسز کو پارلیمنٹ نے ایکٹ کی شکل دی۔ عدالت نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیئے جبکہ وزیراعظم،صدرمملکت، وزارت، سینیٹ اور قو می اسمبلی کے سیکرٹریز سے بھی جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول