جج اپنے حلف کے تحت بلا خوف و خطر، نیک نیتی سے عدالتی فرائض سرانجام دیتا ہے: چیف جسٹس

      جج اپنے حلف کے تحت بلا خوف و خطر، نیک نیتی سے عدالتی فرائض سرانجام دیتا ...

  



 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اٹارنی جنرل انور منصور کا اعتراض مسترد کر دیا۔فرحت اللہ بابر، روبینہ سہگل، بشریٰ گوہر، افراسیاب خٹک کی درخواست پر چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے بلانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔چیف جسٹس کے علاوہ بنچ میں جسٹس مشیر عالم، عمر عطا بندیال، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شامل تھے۔اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک فاضل جج کو اس بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ جج نے وفاق، صدرمملکت، وزیراعظم اور میرے بارے میں ایک مقدمے میں الزامات عائد کیے اور وہ تعصب رکھتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اعتراض پر علیحدگی کا فیصلہ جج نے خود کرنا ہوتا ہے، یہ طے شدہ قانون ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ جس کیس کی بات کر رہے ہیں وہ الگ کیس ہے، ہر کیس کا دوسرے کیس سے تعلق نہیں ہوتا۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ معاملہ تو خیبر پختونخوا سے متعلق ہے، وفاق کا نہیں، یہ کیس کسی انفرادی شخص کے خلاف نہیں ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق موجودہ کیس میں پارٹی ہے اور آئین کے آرٹیکل 265 کے تحت فوج کو سول حکومت کی مدد کی اتھارٹی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اس عدالت کے سامنے خود کو مطمئن محسوس نہیں کر رہا، مجھے جج پر اعتراض کا حق ہے اور میں وہ حق استعمال کروں گا۔چیف جسٹس نے کہا ہمیں علم ہے کہ فاضل جج صاحب نے لارجر بنچ میں آپکو نام سے فریق بنایا ہے، میں نے تجویز کیا تھا کہ ایک آئینی بنچ ہو جو صرف آئینی معاملات دیکھے، شفافیت کیلئے یہ بنچ تشکیل دیا جس میں 5 سینئر ترین جج ہیں۔انور منصور خان نے مؤقف اپنایا کہ معزز جج کی حکومت سے متعلق ایک فکس رائے ہے، جج نے کہا کہ اٹارنی جنرل نالائق ہے، ایسا جج اوپن مائنڈ کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہ اس عدالت کے جج ہیں، آپ ان کے سامنے بطور اٹارنی جنرل دلائل دیں، جس پر انور منصور خان نے کہا میں ہر وہ اعتراض کروں گا جس کا مجھے حق حاصل ہے، جج صاحب کو بنچ سے اٹھ کر چلے جانا چاہیے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ حبس بیجا کا کیس ہے، عدالتی پریکٹس ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی گرفتار ہو تو صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اٹارنی جنرل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی مقدمے میں کہی گئی بات دوسرے مقدمے کو متاثر نہیں کرتی۔چیف جسٹس نے کہا کہ جج اپنے حلف کے تحت عدالتی فرائض انجام دیتا ہے، جج کا حلف ہے کہ وہ بلاخوف وخطر، نیک نیتی سے اپنے فرائض انجام دے گا، اب آپ اپنے اعتراضات کو بھول جائیں۔

سپریم کورٹ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر صدارتی ریفرنس کے معاملے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت جاری،فائز عیسیٰ کی قانونی ٹیم کے ممبر بابر ستار نے بدھ کے روز ٹیکس معاملات پر دلائل دیتے ہوئے 10رکنی بنچ کے رو برو موقف اپنایا کہ ٹیکس شہری اور ریاست کے درمیان کا معاملہ ہے،کوئی شخص کسی دوسرے کے ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا،انکم ٹیکس قانون کا اطلاق آمدن پر ہوتا ہے اثاثو ں پر نہیں،جس رقم پر ٹیکس لاگو نہ ہواس پر انکم ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوتا،ٹیکس قوانین میں منی ٹریل کا کوئی ذکر نہیں اور نہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ٹیکس قوانین کی شک 116کی خلاف ورزی کی ہے،منی ٹریل کا معاملہ پانامہ کیس میں پہلی بار سامنے آیا،منی ٹریل آف شور کمپنیوں میں سامنے لانا ہوتی ہے جہاں اصل مالک کا علم نہ ہو،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچے لندن اثاثوں کے مالک ہیں اور انہوں نے کبھی ان کی ملکیت سے انکار نہیں کیا،ٹیکس ادا کرنا اور گوشوارے جمع کرانا الگ الگ چیزیں ہیں قابل ٹیکس آمدن نہ بھی ہو تو گواشوار ے جمع کرائے جا سکتے ہیں،2018 سے ٹیکس کوڈ کے مطابق فارن انکم کی تفصیل جمع کرانی ہوتی ہے،ٹیکس گوشوارں کیساتھ ”ویلتھ سٹیٹمنٹ“جمع نہ کرانے پر 25ہزار جرمانہ ہے،قانون کے مطابق زیر کفالت اہلیہ، بچوں اور دیگر افراد کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی نہیں،جسٹس فائز عیسیٰ یا ان کی اہلیہ کو ایف بی آر نے کبھی نوٹس جاری نہیں کیا اور نہ ہی ان پر ویلتھ سٹیٹمنٹ نہ جمع کرانے کا الزام ہے،ٹیکس کمشنر نے اپنے طور پر شق 116کی خلاف ورزی کا فیصلہ کیا،معاملے کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10رکنی لارجر بنچ نے کی،دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے بابر ستار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ٹیکس معاملات کی جانب جار رہے ہیں یہاں معاملہ اثاثے ظاہر کرنے کا ہے،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ مختلف معاملات کو آپس میں نہ الجھائیں،جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک موقع پر ریمارکس دیئے کہ 2013کے ویلتھ سٹیٹمنٹ فارم کے مطابق اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کا علم ہونا ضروری ہے جبکہ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ قانون میں اہلیہ کا ذکر ہے زیر کفالت کا نہیں،بیوی شوہر کے زیر کفالت نہ بھی ہو تو اس کے اثاثوں کا علم ضروری ہے،معاملے کی سماعت سوموار تک ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس قاضی فائز کیس

مزید : صفحہ اول