سینیٹ اجلاس، مقبوضہ کشمیر صورتحال پر اقوام عالم کی خاموشی پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

سینیٹ اجلاس، مقبوضہ کشمیر صورتحال پر اقوام عالم کی خاموشی پاکستان کی سلامتی ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ارکان سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو، بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام عالم کی خاموشی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے مودی کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدام پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے، عمران خان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی قیادت کو کشمیر پر اکٹھا کریں،ہمیں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی بجا ئے انسانی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کرنا ہو گا،بین الاقوامی قوانین کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنیوالے ممالک کیساتھ تجارت نہیں کی جاسکتی جبکہ سابق چیئر مین سینٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کردار ادا نہ کرنے پر احتجا جا پاکستان کی رکنیت معطل کرانے کی تجویز پیش کردی۔ چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحا ل پربحث بدھ کو دوسرے روز بھی جاری رہی۔ سینیٹر محمد علی سیف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہماری مختلف ایشوز پرپالیسی واضح نہیں،وقتی سیاسی فوائد کو دیکھتے ہوئے پالیساں مرتب کرتے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ایشوز کی اہمیت اجاگر نہیں ہوپاتی، وقتی مفادات دیکھ کر پالیسیاں مرتب کرنے سے مقدس گائے پیدا ہوتے ہیں۔مسئلہ کشمیر پاکستان سے بھی پرانا مسئلہ ہے،ہم نے کبھی بھی اس مسئلہ کو علمی اندا ز میں پیش کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ تقسیم ہند کے پلان میں برطانوی نوآبادیاتی علاقے فوکس تھے۔ آزاد ریاستیں تقسیم ہند پلان کا حصہ نہیں تھیں، ان ریاستوں کوآزاد حیثیت برقرار رکھنے، پاکستان یا ہندوستان سے الحاق کا اختیار دیا گیا۔ ہندوستان نے کشمیرکی  تار یخ کو برہمن سے جوڑا، ہم صرف کشمیر پر تقاریر کرتے رہے،مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مگر انہوں نے ڈی فیکٹو حقیقت پیدا کر دی،ہمیں اس ڈی فیکٹو حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا،حق خود ارادیت کا تعلق لوگوں سے ہے جغرافیائی  نہیں،مودی نے کشمیر کو ترقی دینے کیلئے دفعہ 370اور35اے کو ختم کرنے کا جواز پیش کیا۔جب تک لوگوں کی مرضی شامل نہ ہو ترقی کا جواز بالکل بے معنی ہے،مودی اگر سونے کی سڑکیں بھی بنائے تو اس دلیل کی کوئی اہمیت نہیں،ہمیں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی بجائے انسانی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کرنا ہو گا۔عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا جواز پیش کر کے ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی حالانکہ پاکستانی فوج اپنی ریاستی حدود کا تحفظ کر رہی تھی،مکتی باہنی کے تحفظات ہمارا اندرونی معاملہ تھا،اگر اسوقت ہندوستان کا موقف درست تھا تو اس وقت پاکستان کا کشمیر میں مداخلت کرنے کا موقف بھی تو درست ہو گا۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاعالمی قوانین کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنیوالے ممالک کیساتھ تجارت نہیں کی جاسکتی،امریکہ اور مالیا تی اداروں نے ہیومن رائٹس کو سلیکٹیولی استعمال کیا ہے،یہ بات پاکستان اور ایران کیلئے درست مگرہندوستان اور اسرائیل کیلئے درست نہیں،عالمی اداروں کا دوہری معیار ہے۔ اب یہ حقیقت بن چکا ہے کہ انڈیا ایک ہندو فاشسٹ ریاست ہے،ہندوستان وہ ملک ہے جس میں بیس کے قریب سرکاری زبانیں ہیں، کئی ریاستوں نے وقتاًفوقتاً ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھائے،پہلے ہندوستان کی وفاق کی بنیاد مضبوط ادارے تھے،اب اکثریت کی بنیاد پر وہ بنیادیں لڑکھڑا گئی ہیں،حقیقی ہندوستان میں ریکارڈ بیروزگاری،خوراک،تعلیم کی کمی ہے،مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر نام نہاد بھارتی سپریم کورٹ کا چہرہ عیاں ہوچکا ہے۔ بھارتی عدالتیں عام شہریوں کو جو ضمانت دیتی ہیں وہ مقبوضہ کشمیر کے سیا سی رہنماؤں تک کو دینے کیلئے تیار نہیں۔ آج آسام حکومت نے 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا، مقبوضہ کشمیر پر سیاسی لوگوں کی ضما نت سے متعلق کیوں خاموش ہیں؟،کیوں حکومت ایشو کو انٹرنیشنلائز کرنے سے شرما رہی ہے؟،کیوں سعودی عرب اور یو اے ای کیساتھ یہ ایشو ز نہیں اٹھائے گئے؟۔کیا دونوں ممالک کے ہندوستان کیساتھ مالیاتی مفادات جڑے ہیں اس لئے؟۔ او آئی سی جو کہ مردہ ہو چکی ہے کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کرفیو کو ختم کروائے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے کا جائزہ لینے کیلئے آبزرورز بھیجے، اگر او آئی سی ایسا نہیں کرتی تو پاکستان کوازخود عارضی طور پراوآئی سی سے الگ ہونا چاہئے،اگر یو این سکیورٹی کونسل عراق، شام میں مدخلت کر سکتی ہے تو مقبوضہ کشمیر میں کیوں نہیں؟۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم نے کہا مودی کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدام پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے، ہندوستان کے رہنما آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر حملے کی باتیں کر رہے ہیں،اس اہم بحث کے دوران وزیراعظم کو ایوان میں ہونا چاہئے تھا، ہندوستا ن نے جو قدم ستر سالوں میں نہیں اٹھا اب اٹھانے کی نوبت کیوں آئی؟،مقبوضہ کشمیرکی اندرونی جدوجہد آزادی نے مودی کو مایوس کیا، ہندو ستان افغان امن عمل سے باہر ہو گیا،سی پیک بھی ہندوستان کی مایوسی کی ایک بڑی وجہ ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہااگر حکومت سیریس ہو تو میں کشمیر پر پوری اپوزیشن کو اکٹھا کر سکتا ہوں،مگر آدھا گھنٹہ اکٹھے ہونے یا چند نعروں سے کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا۔ہماری فوج بھی دیکھ اور انتظا ر کی پالیسی پر ہے،ہمیں کشمیر کے معاملے میں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ شہزا دوسیم نے کہاکشمیرکسی طور بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں، ہندوتوا آئیڈیالوجی کا بھارت میں آغاز گجرات قتل عام سے کیا گیا۔ وزیراعظم عمران نے اقوام متحدہ میں مودی کو بھرپور جواب دیا، یہ تاریخی تقریر تھی۔ہم مسئلہ کشمیر سے ہٹ کر کشمیر کمیٹی مسئلہ میں پھنسے ہوئے ہیں، کشمیر کے دریا پاکستان کو سیراب کرتے ہیں، ہم کشمیر کیلئے کٹ سکتے ہیں۔ دریں اثناء اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا سننے میں آ رہا ہے حکومت کلبھوشن یادیو کے حق میں کوئی ترمیم لا رہی ہے، حکومت اس حوالے سے وضاحت کرے۔اس کے جواب میں وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا یہ غلط ہے، ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی جا رہی، یہ افواہ پتا نہیں کہاں سے آئی ہے؟بعد ا ز اں سینیٹ کا اجلاس آج دوپہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا،آج ہونیوالے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بحث کو سمیٹا جائیگا۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ اول