ای سی ایل سے نا م نکالنے کیلئے ضمانت نامہ لینا حکومت کا اختیار ہی نہیں 

ای سی ایل سے نا م نکالنے کیلئے ضمانت نامہ لینا حکومت کا اختیار ہی نہیں 

  



لاہور(کامران مغل)میاں نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت کو ضمانت نامے سے مشروط کرنے کے حکومتی اقدام پرسینئر قانون دانوں اور آئینی ماہرین نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر صحت مند نظیر قراردیدیا،لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج پرویز عنایت ملک نے اس معاملے پر روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے ضمانت نامہ لینا حکومت کا اختیار نہیں ہے،ضمانت نامے کااختیار صرف عدالت کے پاس ہے،حکومت نے ایسا کرکے ایک بڑی سیاسی اورقانونی غلطی کی ہے اور اس سے نواز شریف سے عوام کی ہمدردیوں میں اضافہ ہوگااوران کے کیس کو قانونی طور پر تقویت ملے گی،عدالتیں نواز شریف کی ضمانت منظور کرچکی ہیں،حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتی جس نے نواز شریف کی8ہفتوں کیلئے عبوری ضمانت منظور کی ہے۔ حکومت نے انصاف کی گیند کو غیر قانونی شاٹ ماری ہے،سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ناصر چوہان ایڈووکیٹ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نوازشریف سے انڈیمنٹی بانڈز (تمسک تاوان)مانگے ہیں جن کی فوجداری قانون میں گنجائش ہی نہیں ہے،تمسک تاوان دراصل معاہدہ ابراء کے تحت لیا اوردیاجاتاہے جس میں ایک فریق دوسرے فریق کو نقصان سے بری رکھنے کا عہد کرتاہے،ناصر چوہان نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس صرف دو اختیارتھے یا تو وہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مستردکردیتی یا پھر منظور کرلیتی،تمسک تاوان کی شرط عائد کرنے کاحکومت کے پاس اختیارہی نہیں تھا،جس طرح کسی کا نام ای سی ایل میں شامل کرتے وقت کوئی شرط نہیں رکھی جاسکتی،اگر کسی مقدمہ کی بنیاد پر کسی کا نام ای سی ایل میں شامل کیاجاتاہے تو اس مقدمہ سے بریت پر ای سی ایل سے اس کا نام ازخود نہیں نکل جاتابلکہ اس کیلئے قانونی چارہ جوئی کرنی پڑتی ہے،اسی طرح کسی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے بھی کوئی شرط نہیں رکھی جاسکتی،سابق سیکریٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ نے کہا کہ ای سی ایل کے قانون میں ضمانت ناموں کا تصور ہی نہیں،2016ء میں سپریم کورٹ قراردے چکی ہے کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنا یا نکالنا وفاقی کابینہ کا اختیار ہے،اگرنواز شریف تمسک تاوان یعنی انڈیمنٹی بانڈز دے بھی دیتے ہیں تو اسکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کی کوئی جوڈیشل حیثیت نہیں، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے حکومت کی بجائے عدالت سے رجوع کیاجانا چاہیے تھا۔

مزید : صفحہ اول