مولانا کا دھرنا اور معاشی صورت حال

مولانا کا دھرنا اور معاشی صورت حال

  



آرٹیکل/بزنس ایڈیشن

حامد ولید

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، اے این پی اور دیگر تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف احتجاج کررہی ہیں اور وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں وزیراعظم کو استعفیٰ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت فراڈ الیکشن کے ذریعے وجود میں آئی ہے اس لیے اس حکومت کو جانا ہوگا، ملک کی معیشت تباہ ہورہی ہے اور بے روزگاری اور مہنگائی نے گھر کرلیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوویت یونین دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا تھا لیکن معاشی کمزوری اور اقتصادی ناکامی کی وجہ سے ٹوٹ گیا اور آج پاکستان بھی بقول ان کے ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کے لئے بقول ان کے پاکستان کے گوربا چوف کو ہٹانا ہی ہوگا اور حکومت اقتدار میں رہنے کا مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔

آزادی مارچ کے پلان بی کے تحت بتایا جا رہا ہے کہ شاہراہیں بند ہوں گی، کاروبار ٹھپ ہوگا تو حکمراں مجبور ہو جائیں گے۔ڈی چوک جانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے چار نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم فوری طور پر استعفیٰ دیں، فوجی کے بغیر نئی انتخابات کرائے جائیں، اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی قائم کی جائے جبکہ حکومتی کمیٹی آزادی مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے۔

دھرنے کے دوران اگرچہ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج نے بڑھوتی کے واضح اشارے دیئے ہیں اور دھرنے کے پرامن رہنے کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہوتی نظر آرہی ہے۔تاجروں کے ٹیکس سے متعلق مطالبات کے سامنے بھی حکومت نے آئی ایم ایف کی منظوری سے اگلے تین ماہ کے لئے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں وگرنہ وہ بھی مولانا کے آزادی مارچ کا حصہ بننے کا عندیہ دے چکے تھے۔ البتہ بڑے صنعتکاروں کی آرمی چیف کی موجودگی میں حکومتی معاشی ٹیم سے ملاقات قدرے کارگر ثابت ہوئی ہے اور لارج سکیل کی سٹاک مارکیٹ، ہر طرف راوی چین ہی چین لکھتا نظر آتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے لیکن مہنگائی ہے کہ آسمان کو چھو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مصنوعی طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کا سخت نوٹس لیا ہے اور منافع خورں‘ ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ کسی کو مصنوعی طور پر قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرنے کیلئے ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے2 اکتوبر کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ معیشت کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان پر زور دیا کہ ملکی حالات بالخصوص معاشی حالات اور معیشت کی بہتری کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات اور انکے ثمرات کے بارے میں عوام کو مسلسل آگاہ رکھا جائے۔ دوران اجلاس وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ 89‘ ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے کی تجویز کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیگی۔ وزیراعظم نے اس امر کی ہدایت کی کہ زندگی بچانے والی ادویات کی مناسب قیمت پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ کابینہ نے سی ڈی اے کے تنظیم نو کے پلان کی بھی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ تنظیم نو کا مقصد ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اس معاشرے کے بگاڑ کا باعث بننے والی اقتصادی‘ معاشی اور سماجی ناانصافیوں کے تدارک کی زیادہ فکر مندی ہے۔ انہوں نے عوام کو ان ناانصافیوں سے نجات دلانے اور کرپشن فری معاشرہ کی تشکیل کے جذبے کے تحت ہی 23 سال قبل سیاست کی خاردار وادی میں قدم رکھا تھا اور تحریک انصاف کے نام سے اپنی پارٹی تشکیل دی چنانچہ وہ اپنی پارٹی کے نام کی مناسبت سے ہی معاشرے اور سسٹم کے سدھار کی کوششوں میں مگن ہوگئے۔

عوام سلطانی جمہور میں اقتدار کی باریاں لینے والے حکمران طبقات اور انکی حکومتی پالیسیوں سے اپنے روزمرہ کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور امن و امان کے بڑھتے ہوئے مسائل سے بلاشبہ عاجز آچکے تھے اور انکی مایوسیوں میں اضافہ ہورہا تھا اس لئے انہیں 2011ء کے انتخابی عمل میں عمران خان کے تبدیلی کے ایجنڈے میں کشش نظر آئی اور انہوں نے انکے اور انکی پارٹی کے ساتھ اپنے اچھے مستقبل کیلئے امیدیں وابستہ کرلیں۔ بالآخر اس ایجنڈے کو عوامی پذیرائی حاصل ہوئی اور عمران خان روایتی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مقابل ایک مقبول قومی لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔ اگرچہ عمران خان کو 2013ء کے انتخابات میں وفاقی حکومت تک رسائی حاصل نہ ہوسکی تاہم انکی پارٹی ایک بڑی اپوزیشن پارٹی کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی جبکہ خیبر پی کے میں انہیں جماعت اسلامی کی معاونت سے حکومت تشکیل دینے کا موقع بھی مل گیا۔ انکی یہ حکومت عوام کیلئے بیرومیٹر ثابت ہوئی جس کی اختیار کردہ عوام دوست اور منصف معاشرہ کی راہ ہموار کرنیوالی پالیسیوں نے عمران خان کا ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے قد کاٹھ مزید بلند کر دیا جبکہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے انتخابی دھاندلیوں اور حکومتی کرپشنوں کیخلاف منظم تحریک لانگ مارچ اور دھرنے کی صورت میں چلا کر عوام کا مزید اعتماد حاصل کیا جنہوں نے ”سٹیٹس کو“ والے حکمرانوں کے مسلط کردہ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ کرپشن اور توانائی کے سنگین بحران سے متعلق مسائل سے نجات حاصل کرنے کیلئے بھی عمران خان کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیا اور 2018ء کے انتخابات میں انکے منشور اور ایجنڈے کو پذیرائی بخشتے ہوئے انہیں خیبر پی کے ہی نہیں‘ وفاق اور پنجاب میں بھی حکمرانی کا مینڈیٹ دے دیا جو یقیناً انکے تبدیلی کے ایجنڈے کی کامیابی تھی۔

عوام نے انکے ساتھ جس وارفتگی سے اور جتنی زیادہ توقعات وابستہ کی تھیں‘ اسکے پیش نظر انہیں اپنے اقتدار میں بہت بڑے اندرونی و بیرونی چیلنجز سے سرعت کے ساتھ عہدہ برا? ہونا تھا جس کیلئے انہیں اپنے جیسے ہی جذبے اور سوچ والی وفاقی اور صوبائی ٹیم کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی کرپشن فری سوسائٹی کیلئے بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب کے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا اور کسی کرپٹ کو نہ چھوڑنا اپنا ماٹو بنایا جس پر وہ اپنے اقتدار کا ایک سال پورا ہونے کے بعد بھی گامزن ہیں۔ انہوں نے بے شک کرپشن فری سوسائٹی کی راہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی چنانچہ آج سابق حکمرانوں کی اکثریت نیب کے مقدمات میں سزائیں بھگت رہی ہے یا مقدمات کا سامنا کررہی ہے جس پر وزیراعظم‘ انکی حکومت اور نیب کے ادارے کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کے الزامات کا بھی سامنا ہے اور وزیراعظم اس حوالے سے اپنے پارٹی منشور پر کسی قسم کی مفاہمت یا نرم رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں‘ البتہ انکے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ انکی حکومت عوام کے روٹی روزگار‘ غربت‘ مہنگائی کے گھمبیر مسائل اور عوامی فلاحی بہبود سے متعلق ترقیاتی کاموں کے معاملہ میں عوام کی توقعات پر پوری نہیں اترسکی اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ‘ ایک سال میں دو منی بجٹ لانے‘ ڈالر اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مسلسل بڑھنے‘ حکومت کے پہلے قومی بجٹ میں متعدد نئے ٹیکس لگنے اور مروجہ ٹیکسوں میں اضافہ ہونے اور پھر نئے قرضوں کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے حکومتی فیصلوں کے نتیجہ میں عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری سمیت روزمرہ کے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے ہیں جن میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے تو وزیراعظم عمران خان کے ساتھ عوام کے رومانٹسزم میں بھی بتدریج کمی آنے لگی ہے۔

بے شک ملک کے ابتر اقتصادی حالات اور ڈالر کے نرخ بڑھنے نہ دینے کیلئے سابق حکومت کے اٹھائے گئے مصنوعی اقدامات کے باعث عوام کو مہنگائی کے جھٹکے لگنا فطری امر تھا تاہم اگر حکومتی ٹیم سمجھ بوجھ کے ساتھ صورتحال کا مقابلہ کرتی اور عوام کی اچھے مستقبل کی امیدیں توڑنے والے بیانات اور پالیسیوں سے گریز کرتی تو عوام کی مایوسیوں کا اتنی جلدی راستہ ہموار نہ ہوتا۔ وزیراعظم عمران خان بذات خود تو عوام کے روزمرہ مسائل بڑھنے پر فکرمند ہوتے ہیں اور اصلاح احوال کے اقدامات اٹھانے کی حکومتی ٹیم کو تلقین بھی کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اشیائے ضروریہ کے نرخوں کے حوالے سے احکام صادر کئے ہیں مگر وفاقی اور صوبائی سطح پر عوام کے مسائل کے فوری ازالہ کیلئے کسی قسم کی عملیت پسندی اور فعالیت نظر نہیں آتی۔ اس طرح جب وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کے نرخ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے نظر آتے ہیں تو اس سے عوام بھی زچ ہوتے ہیں اور احتساب کے عمل سے عاجز آئی اپوزیشن کو بھی حکومت کیخلاف عوامی جذبات ابھارنے کا موقع مل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پٹرولیم مصنوعات‘ گیس اور بجلی کے نرخ بھی تقریباً ہر ماہ بڑھانے کی سابقہ حکومتوں کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے جس کے باعث عوام کی اپنے مسائل میں ریلیف ملنے کی توقعات بھی ختم ہونے لگی ہیں جو لامحالہ حکومت کیلئے پریشان کن صورتحال پر منتج ہو سکتی ہیں۔

وزیراعظم نے بلاشبہ ایک مدبر قومی لیڈر کی حیثیت سے عالمی کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم ملک کے اندر عوامی اعتماد کے سہارے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کیلئے انکی حکومت کو گوناں گوں عوامی مسائل بھی اب ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہیں تاکہ اپوزیشن کو اس کیخلاف چائے کے کپ میں طوفان اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ اس کیلئے وزیراعظم کی جانب سے اشیائے ضروریہ اور ادویات کے نرخوں میں اضافہ روکنے کی محض ہدایات جاری کرنا ہی کافی نہیں‘ اس کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے۔ اسکے برعکس پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہ دیکر اور پھر ایک سال کیلئے بجلی فی یونٹ 53 پیسے مہنگی کرکے عوام پر مزید اقتصادی بوجھ ڈالنے کا اقدام اٹھایا گیا جس کے یقیناً حکومتی گورننس پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کو انہی حالات میں عوام کا اضطراب حکومت مخالف تحریک کیلئے کیش کرانے کا موقع مل رہا ہے جس کیلئے وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آزادی مارچ اور دھرنا میں شریک ہونے پر قائل کرچکے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے نمٹنے کا ٹاسک بے شک صوبائی حکومتوں کو سونپا ہے جس میں سندھ حکومت تو خود مولانا فضل الرحمان کی تحریک کا ساتھ دینے کا عندیہ دے رہی ہے۔ اگر خیبر پی‘ پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے مارچ کو روکنے کی کوئی سخت گیر حکمت عملی طے کی گئی تو اس سے ملک میں خلفشار پیدا ہونے کا اندیشہ ہوگا اس لئے آزادی مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کی بہترین حکمت عملی عوام کو ریلیف دینے کی ہے۔ اگر حکومتی اقدامات سے اسکی اقتصادی اور مالی پالیسیوں کی سمت بھی درست ہو جائے اور عوام کو اپنے روزمرہ کے مسائل میں ریلیف ملنا شروع ہو جائے تو اپوزیشن کی کوئی تحریک اور غیرجمہوری عناصر کی کوئی سازش انکی حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ وزیراعظم کو عوام کو ریلیف دینے اور انکے مسائل کم کرنے سے متعلق اپنی ہدایات کسی صورت نظرانداز نہیں ہونے دینی چاہئیں تاکہ حکومتی گورننس پر کسی قسم کا حرف نہ آئے اور جمہوریت کی گاڑی بھی استحکام کی منزل کی جانب گامزن رہے۔

سرخیاں 

ملک بچانے کے لئے پاکستان کے گوربا چوف کو ہٹانا ہوگا 

اشیائے ضروریہ،ادویات کے نرخوں میں اضافہ روکنے کی ہدایات جاری کرنا کافی نہیں 

بجلی فی یونٹ 53 پیسے مہنگی کرکے عوام پر مزید اقتصادی بوجھ ڈالا گیا

تصاویر

مولانا فضل الرحمٰن

دھرنے کی تصاویر

وزیر اعظم عمران خان

سٹاک مارکیٹ 

سبزی منڈی

مزید : ایڈیشن 1