بچت سکیموں کے منافع میں کمی

بچت سکیموں کے منافع میں کمی

  



حکومت نے قومی بچت سکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کر دی جبکہ ایک عام توقع یہ تھی کہ چھوٹی چھوٹی بچت والوں کی شرح منافع میں قدرے اضافہ کیا جائے گا تاکہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں ان سفید پوش گھرانوں کو تھوڑا ریلیف مل سکے اور ان کا گزارہ نسبتاً آسانی سے ہوسکے کیونکہ عمومی طور پر قومی بچت کی سکیموں میں پیسے جمع کرانے والوں میں بوڑھے لوگ یا بیوہ خواتین شامل ہوتی ہیں جن کا کوئی اور ذریعہ آمدنی نہیں ہوتا اور نہ ان میں اتنی صلاحیت اور ہمت ہوتی ہے کہ وہ کسی کاروبار کا رسک لے سکیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس قسم کے بے بس اور بے کس لوگوں کیلئے حکومتیں خود سہارا فراہم کرتی ہیں لیکن ہمارے یہاں غالباً اسی مقصد کی خاطر بچت سکیمیں شروع کی جاتی ہیں مگر ان سکیموں سے بے وسیلہ لوگوں کا فائدہ بہت محدود ہوتا ہے۔ لیکن اگر شرح منافع میں مزید کمی کر دی جائے تو ان غریبوں کا گزارہ اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔دوسری طرف روپے کے مقابلے میں ڈالر ایک بار پھر 156روپے کی سطح پر جا پہنچا ایسی صورت میں حکومت کو چاہئے کہ وہ قومی بچت سکیموں کو پرکشش بنائے تاکہ ملک کا سفید پوش طبقہ مہنگائی کا دباؤ برداشت کرسکے اور پرسکون زندگی گزارے۔ بہر حال قومی بچت کا ادارہ حکومت کیلئے عوام سے رقوم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس پر جو منافع ادا کیاجاتا ہے وہ افراط زر کے مقابلے میں کم ہے۔

برطانوی راج میں بر صغیر بڑا غریب علاقہ تھا 1931ء میں ایک ہندوستانی کی فی کس آمدنی کا اوسط 62 روپے تین آنے تین پائی تھا۔ گورنروں،فوج کے اعلیٰ افسروں، ججوں، کمشنروں، ڈپٹی کلکٹروں،سول سرجنوں، چیف انجنیئروں،سیکرٹریوں،اور سپرنٹنڈنٹ پولیس(جو کپتان کہلاتے تھے)کی تنخواہیں تو ہزارو،دو ہزار سے اوپر تھیں اور ان میں نوے فیصد انگریز ہوا کرتے تھے دفتری سپرنٹنڈنٹ /کمپیوٹر آپریٹرکو اسی سے سو،ہیڈ کلرک کو چالیس یا پچاس،کلرک کو بیس یا پچیس اور قاصد کو پانچ روپے ماہانہ تنخواہ ملا کرتی تھی۔مگر بڑی ارزانی کا دور تھا اس لئے گزارہ بھی ہو جاتا تھا اور لوگ کچھ بچت بھی کر لیا کرتے تھے انیس سو اکتیس تک شہری آبادی تیرہ فیصد تھی اور ایک لاکھ سے زائد آبادی والے شہر پینتیس تھے گو بینک کھل چکے تھے مگر ان کی تعداد بڑی کم تھی اور عوام کو ان سرکاری ادارہ سمجھ کرخوف کھاتے تھے۔حکومت نے عوام کو بچت کی عادت ڈالنے کیلئے ڈاک خانوں میں سیونگ بینک کا شعبہ قائم کیا جہاں دو روپے سے حساب کھولا جا سکتا تھا۔اور اس پر ایک اعشاریہ پانچ یا دو فیصد سالانہ سود ملا کرتا تھا،پھر بھی کئی کروڑ کی رقم جمع ہوجاتی تھی۔قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں ملک کا سارا بنکاری نظام ہی الٹ پلٹ گیا ہے گنے چنے بینک اور محدود ڈاک خانے چھوٹے پیمانے پر یہ کاروبار کرتے رہے اس نظام کو منظم کرنے اور فروغ دینے کیلے حکومت نے وزارت مالیات کے تحت سینٹرل ڈائریکٹر یٹ آف نیشنل سیونگز کا محکمہ بنایا جس نے وقتا فوقتا ناموں اور مدت کے لحاظ سے مختلف اسکیموں کے اجراء کی ذمہ داری سنبھالی ان کو نیشنل سیونگز اسکیم (این ایس ایس) کہا جاتا ہے ان میں رد و بدل ہوتا رہا بعض اسکمیوں کو ختم کر دیا چند نئی اسکیمیں شروع کی گئیں اس وقت ڈیفنس سیونگ سر ٹیفکیٹ،اکاوٗنٹ،بہبود سیونگ سر ٹیفیکیٹ،سیونگ اکاوٗنٹ،پنشنرز بینیفٹ اکاوٗنٹ اور انعامی بانڈز کی اسکیمیں زیر عمل ہیں ان میں مجموعی حیثیت سے کوئی چالیس افراد کسی نہ کسی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں ان میں کچھ عرصے قبل تک سب سے زیادہ مقبول اسکیم اڈیفنس سرٹیفکیٹ کی تھی جس میں دس سال میں ابتدائی رقم تقریبا چوگنی ہو جایا کرتی ہے جبکہ سولہ فیصد کے قریب کمپاوٗنڈ منافع ملا کرتا تھا۔دوسری اسکیموں پر بھی منافع کی شرح اچھی خاصی تھی ان اسکیموں کو سب سے پہلا دھچکہ اس وقت لگا جب 1980 ء میں زکوۃ اور عشر آرڈیننس نافذ ہوا اور ڈھائی فیصد کی کٹوتی ہر اسکیم کی آخری ادائیگی پر لازم کر دی گئی گو بعد میں کچھ استثنیات ہوئیں اور خصوصا عدالت عظمی کے فیصلے کے بعد زکوۃ کی ادائیگی رضاکارانہ رہ گئی دوسرا صدمہ اس وقت ہوا جب ان کے منافعوں پر کمی کی جاتی رہی۔ عوام قومی بچت کی اسکیموں کے منافع میں اضافہ کا مطالبہ کر رہے تھے کالم نویسوں کی جانب سے بھی اس مطالبے کی تائید ہوتی رہی۔راقم نے بھی کئی کالم اسی موضوع پر تحریر کیے۔پچھلے ایک برس سے وطن عزیز میں مہنگائی کے طوفا ن نے غریب طبقے کو بے پناہ متاثر کیا ہے۔اُن کے لیے ان حالات میں روح اور جسم کے رشتے کو برقرار رکھنا ازحد دُشوار ترین امر ہو کر رہ گیا ہے۔ہر شے کے دام آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں اور وہ بڑھ کر ایک جگہ ٹھہر نہیں رہے بلکہ ہر ہفتے ہی اُن میں بڑھوتری ہوتی رہتی ہے۔اس باعث غربت کی شرح میں ہولناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔یہ حالات عوام الناس بالخصوص غریب پنشنروں اور بچت سکیموں کے حاملین کے لیے سوہانِ روح سے کم نہیں،جو بچت سکیموں پر ملنے والے منافع یعنی انتہائی محدود رقم میں اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔اُن پر اس وقت ہوش رُبا مہنگائی کے کوڑے بُری طرح برس رہے ہیں۔ قومی بچت سکیموں پر بات کی جائے تو یہ بزرگ پنشنرز،بیواؤں اور غریبوں کے لیے کسی سہارے اور نعمت سے کم نہیں کہ وہ اپنی جمع پونجی سے سیونگ سرٹیفکیٹس حاصل کرتے ہیں۔جس کی بدولت انہیں ماہانا منافع کی رقم مل جاتی ہے،جس سے ان کے اخراجات میں خاصی مدد ملتی ہے،بزرگ مردوبیوہ خواتین اپنے بچوں خصوصاً بچیوں کی شادی کے لیے اس میں سے کچھ رقم ہر ماہ پس انداز کرتے رہتے ہیں۔اس لحاظ سے ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے غرباء کو سہارا دینے کے لیے حکومتی سطح پر بچت سکیموں میں منافع کی شرح میں ہر کچھ وقت بعد معقول اضافہ یقینی بنایا جائے،تاکہ اس ہوش رُبا گرانی کے دور میں اُن کی کچھ تو اشک شوئی ہو سکے،تاہم اس کے برعکس اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں اور بچت سکیموں پر منافع کی شرح میں کمی ہوتی رہتی ہے۔اس حوالے سے تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ ایک بار پھر بچت سکیموں میں 2فیصد سے زائد منافع کی شرھ کر دی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق اس سلسلے میں وزارت خزانہ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا،جس کے مطابق ڈیفنس سیونگ سر ٹیفکیٹ کی شرح منافع میں 2.33فیصد کمی کی گئی،بہبود اور پنشن کی شرح 2.28فیصد کمی سے 12.84پر آگئی ہے۔اسی طرح دیگر سرٹیفکیٹس کے منافع میں بھی کمی کی گئی ہے۔یہ غریب دشمن فیصلہ ہے۔جسے کسی طور مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا،وہ بھی ایسے حالات میں جب شرح سود میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اس سے قومی بچت سکیموں کے حامل اُن غریبوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہو گا،جو پہلے ہی بے پناہ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور بڑی مشکل سے اُن کا گزارا ہوتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1