63 سال کا شخص بوڑھاتو نہیں ہوتا، چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے ،بارودی مواد کیس میں 2 ملزموں کی دہشتگردی دفعات کے تحت 14 سال کی سزا ختم

63 سال کا شخص بوڑھاتو نہیں ہوتا، چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں ...
63 سال کا شخص بوڑھاتو نہیں ہوتا، چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے ،بارودی مواد کیس میں 2 ملزموں کی دہشتگردی دفعات کے تحت 14 سال کی سزا ختم

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بارودی مواد کیس میں2 ملزموں کی دہشتگردی دفعات کے تحت دی گئی 14 سال سزا ختم کردی جبکہ دیگر دفعات میں ملزمان کی 10 سال سزا کافیصلہ برقراررکھا،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 63 سال کابوڑھاتونہیں ہوتا،جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چھوٹے تھے تو 40 سال والے کوبوڑھاسمجھتے تھے مگراب ایسانہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں بارودی مواد کیس میں مجرمان کی نظرثانی درخواستوں پرسماعت ہوئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی ،2مجرمان سے 2016 میں بارودی مواد برآمد ہوا تھا، ٹرائل کورٹ نے 10 اور14 سال قید کی الگ الگ سزائیں سنائی تھیں ،لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

دوران سماعت وکیل ملزمان نے کہا کہ ایک ملزم 63 سال کا بوڑھا تھا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 63 سال کابوڑھاتونہیں ہوتا،جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چھوٹے تھے تو 40 سال والے کوبوڑھاسمجھتے تھے مگراب ایسانہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ صرف بارودی مواد کی برآمدگی دہشتگردی نہیں ،دہشت گردی کی تعریف سے متعلق لارجر بنچ فیصلہ دے چکا،عدالت نے 2ملزمان کی دہشتگردی دفعہ کے تحت دی گئی 14 سال سزا ختم کردی جبکہ دیگر دفعات میں ملزمان کی 10 سال سزا کافیصلہ برقرار رکھا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد