نوکری کرنے والے اور دینے والے کے درمیان کنٹریکٹ ہے ،اگر مالک چاہے تو نوکری پر رکھنے کے اگلے دن ہی نکال دے ،سپریم کورٹ ،لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے برطرف ملازمین کی درخواست خارج

نوکری کرنے والے اور دینے والے کے درمیان کنٹریکٹ ہے ،اگر مالک چاہے تو نوکری پر ...
نوکری کرنے والے اور دینے والے کے درمیان کنٹریکٹ ہے ،اگر مالک چاہے تو نوکری پر رکھنے کے اگلے دن ہی نکال دے ،سپریم کورٹ ،لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے برطرف ملازمین کی درخواست خارج

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے برطرف ملازمین کی درخواست خارج کردی ،جسٹس گلزاراحمد نے کہا نوکری کرنے والے اور دینے والے کے درمیان کنٹریکٹ ہے ،کسی ملازم کو یہ حق نہیں بنتا کہ ہمیشہ اپنے مالک کے ساتھ رہے ،اگر مالک چاہے تو نوکری پر رکھنے کے اگلے دن ہی نکال دے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں 53 آسامیوں پر 150 بھرتیوں کے معاملے پر سماعت ہوئی، جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ یہ آسامیاں کون سے پے سکیل کی تھیں؟وکیل درخواست گزارنے کہا کہ یہ گریڈ ایک سے پانچ تک کنٹریکٹ ملازمین کی آسامیاں تھیں،اخبار میں اشتہار کے ذریعے بھرتیاں ہوئی،جنوری 2017 میں تقرریاں کی گئیں پھر کہا گیا فنڈز نہیں،فنڈز نہ ہونے کا کہہ کر تمام لوگوں کو نکال دیا گیا۔عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ تقرری والی کمیٹی کا قیام غیر آئینی تھا،جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کمیٹی نے کوٹہ معیار پر بھی عمل نہیں کیا،جب آسامیاں ہی53 تھیں تو 150 لوگ کیسے بھرتے کئے گئے؟

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ کو پہلے 53 لوگوں کوتونوکری پررکھنا چاہئے تھا،جسٹس گلزاراحمد نے کہا نوکری کرنے والے اور دینے والے کے درمیان کنٹریکٹ ہے ،کسی ملازم کو یہ حق نہیں بنتا کہ ہمیشہ اپنے مالک کے ساتھ رہے ،اگر مالک چاہے تو نوکری پر رکھنے کے اگلے دن ہی نکال دے ،ہم نے دیکھنا ہے کہ نوکری سے نکالنے کا طریقہ کار درست ہے یا نہیں۔سپریم کورٹ نے برطرفی کےخلاف ملازمین کی درخواست خارج کر دی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد