"ہمارے پا س لوگو ں پر خر چ کرنے کیلئے پیسہ نہیں "

"ہمارے پا س لوگو ں پر خر چ کرنے کیلئے پیسہ نہیں "

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت سنبھالی تو ریکارڈ مالیاتی خسارے کا سامنا تھا،وصول کردہ آدھا ٹیکس قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں چلا گیا اب ہمارے پاس لوگوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف بی آرکے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار نہیں دیں گے تو بہت مشکلات آئیں گی اور اگر نوجوانوں کو تعلیم مل جائے تو ملک اوپر چلا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کے پاس پیسہ ہے، مگر ان کو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کر سکے،سرمایہ کار فکس ٹیکس دینا چاہتے ہیں مگر ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کیلئے ایف بی آر کا خوف ختم کرنا ہوگا،ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے عوام میں اعتماد کا فروغ ضروری ہے کیونکہ حکومت پر اعتماد کی بحالی تک لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے والا گورنمنٹ کا پیسہ خرچ کرنا اپنا حق سمجھتا ہے لیکن میں نے وزیراعظم آفس کا 30 کروڑ روپے خرچ کم کیا جبکہ وزیراعظم ہائوس نہیں اپنے گھر میں رہتا ہوں،بنی گالہ کی سڑک ذاتی خرچ سے بنوائی۔عمران خان نے کہاکہ سرکاری پیسہ جیسے پہلے استعمال ہوتا تھا اب نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے اقوام متحدہ کا دورہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر میں کیا جبکہ سابق صدر آصف زرداری نے اقوام متحدہ کا دورہ 12 لاکھ ڈالر میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ حکومت تھوڑا سا کام کر کے بڑا اشتہار دیتی تھی جبکہ ہم کام کرکے اشتہارات نہیں دیتے۔

بعدازاں پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری معیشت مستحکم ہو چکی ہے، ہمارا اگلا ہدف نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے مواقع فراہم کرنا ہے،چین کے پاکستان کے ساتھ جس طرح کے تعلقات ابھی ہیں پہلے کبھی نہیں تھے، چین ہماری ہر طرح سے مدد کر رہا ہے اور ہماری بھی کوشش ہے کہ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے چین کی مدد کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو معیشت کا برا حال تھا، گزشتہ 3 ماہ میں روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے اور ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ روپیہ مارکیٹ ٹریڈ کی سطح پر پہنچ چکا ہے، روپے کی قدر کو مستحکم کرنے لیے اپنی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں، پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور اب یہ ملک آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ سب سے خوش آئند چیز یہ ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین بینک نے خود کہا ہے کہ پاکستان کی سمت درست ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا اگلا ہدف نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہے جس کے لیے ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چین کے پاکستان کے ساتھ جس طرح کے تعلقات ابھی ہیں پہلے کبھی نہیں تھے، چین ہماری ہر طرح سے مدد کر رہا ہے اور ہماری بھی کوشش ہے کہ ہم سرمایہ کاری کے لیے چین کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب ٹائر مینوفیکچر ہوں گے جو پہلے سمگل ہو کر آتے تھے، اس سے دو چیزیں ہوں گی، ایک تو ہمیں ٹائر درآمد نہیں کرنے پڑیں گے اور دوسرا ہماری برآمدت بڑھے گی جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہو گا اور مہنگائی کم ہو گی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنے کیلئے درآمدات کم کر دی ہیں، جب چیزیں پاکستان میں بننا شروع ہو جائیں گی تو خسارہ کم ہو جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ کوشش ہے کہ روزگار کے لیے سارے مواقع حکومت فراہم کرے ہم اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تومعیشت بری حالت میں ملی لیکن اب قومی معیشت مستحکم ہو گئی اور اسٹاک مارکیٹ میں بھی ٹھہرائو آگیا ہے، عمران خان نے کہا کہ سرمایہ کاروں کیلئے سہولتیں پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی معیشت کی شرح نمو مقررہ اندازوں سے بڑھ جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اب ٹائر پاکستان میں ہی تیار کیے جائیں گے جو اس سے قبل سمگلنگ کے ذریعے آتے تھے اور پاکستان میں نہ بننے والی اشیا لانے کے لیے ڈالر خرچ کیے جاتے تھے چنانچہ اس اقدام سے نہ صرف وہ ڈالر بچیں گے جو درآمدات پر خرچ کیے جائیں گے بلکہ یہاں اسے اشیا برآمد کی جائیں گی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کرنٹ اکائونٹ خسارے کے باعث روپے پر دبائو پڑتا ہے اور اس کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا درآمد ہونے والی ہر شے مہنگی ہوجاتی ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ خسارے کو کم کرنے کیلئے ہم نے درآمدات کم کردی تھی۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عوام کیلئے روزگار کا ہر موقع ہم خود فراہم کریں اور سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ کاروبار کی آسانیوں کے درجے میں بہتری ایک مسلسل جدو جہد کا نتیجہ ہے جس کیلئے ہر شعبہ کام کررہا ہے جس میں برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد