"ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کی وزارت خارجہ میں ویڈیو کے معاملے پر یہ دو کام ہوگئے" ترجمان وزارت خارجہ کا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا

"ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کی وزارت خارجہ میں ویڈیو کے معاملے پر یہ دو کام ہوگئے" ...

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں ٹک ٹاک گرل کے دفتر خارجہ میں داخل ہونے اورویڈیو بنانے کے حوالے سے دو اہم باتیں بتائی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حریم شاہ کے دفتر خارجہ میں داخلے سے متعلق معلومات جمع کرلی گئی ہیں اوردوسرا یہ کہ ایسے اقدامات بھی کئے گئے ہیں کہ مستقبل میں ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔

یاد رہے کہ ٹک ٹاک گرل کے نام سے معروف حریم شاہ نے گزشتہ ماہ اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں ان کو ایک سرکاری ادارے کی عمارت کے ایک آفس میں دیکھا جا سکتاتھا۔بعدازاں انھوں نے یہ ویڈیو اپنے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دی۔

حریم شاہ نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا تھا کہ انھوں نے یہ ویڈیو ’وزیر اعظم آفس میں بنائی ہے‘۔ جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین سمیت پی ٹی آئی کے ورکرز نے بھی اس ویڈیو پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور اس پر شدید تنقید کی۔

لیکن دراصل حریم شاہ نے وہ ویڈیو وزارت خارجہ کے کانفرس روم میں بنائی تھی۔دفتر خارجہ میں بنائی گئی حریم شاہ کی مزید ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں جبکہ دفتر خارجہ کے جس کانفرنس روم میں ویڈیو بنائی گئی تھی وہاں اہم امور پر میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ترجمان نے مقبوضہ کشمیر ، بابری مسجد، افغان صورتحال اور کرتارپورراہداری سے متعلق بھی بریفنگ دی۔انہوں نے کہامقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ ایک سو تین دن سے کرفیو نافذ ہے اوروادی میں بھارتی مظالم جاری ہیں۔ڈاکٹر فیصل کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں عیدمیلادالنبی ﷺ بھی منانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ کشمیریوںکو جمعہ نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی،انہوں نے کہاکشمیر کے عوام کے مذہبی اور انسانی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے کہاکشمیرپر ہمارے موقف میں رتی برابرفرق نہیں آیا۔

کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی جاسوس کے معاملے پر قطعا کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ہے۔اس حوالے سے تمام فیصلے پاکستان کے قوانین کے مطابق ہوں گے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثرات یورپی سفیروں کو بتاچکے ہیں۔کرتاپور راہداری کے افتتاح کے پہلے روز بارہ ہزار سکھ یاتری کرتارپور آئے جبکہ معاہدے کے تحت پانچ ہزار سکھ روزانہ پاکستان آ سکتے ہیں۔۔

مزید : اہم خبریں /ڈیلی بائیٹس