”شائد ذاتی پسند ناپسند کا شکار ہوں“

”شائد ذاتی پسند ناپسند کا شکار ہوں“
”شائد ذاتی پسند ناپسند کا شکار ہوں“

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر فواد عالم ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل سکور بنانے کے باوجود بھی قومی ٹیم میں دوبارہ منتخب نہ ہوسکے اور مسلسل نظر انداز ہونے کے بعد اب فواد عالم کا کہنا ہے کہ شاید وہ ذاتی پسند ناپسند کا شکار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں سندھ اور ناردرن کے درمیان قائد اعظم ٹرافی کے میچ میں سنچری سکور کرنے والے فواد عالم نے میچ کے اختتام پر پریس کانفرنس میں ایک بار پھر اپنی عدم سلیکشن پر بات کی اور عندیہ دیا کہ سلیکشن ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پسند ناپسند ہے اور ایسا نظر بھی آرہا، اس میں زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

162 فرسٹ کلاس میچز میں 56 کی اوسط سے 11830 رنز بنانے والے فواد عالم نے کہا کہ انہیں بھی اس سوال کے جواب کی تلاش ہے کہ وہ ٹیم میں کیوں منتخب نہیں ہورہے اور ان میں کیا کمی ہے؟ ہر سال دو سال بعد ایک نیا جواز پیش کردیا جاتا ہے اور میں اس پر کام کرنا شروع کر دیتا ہوں۔

فواد عالم نے حالیہ سیزن میں 9 اننگز میں 2 سنچریاں اور ایک نصف سنچری سکور کی جبکہ فرسٹ کلاس کیرئیر میں ان کی مجموعی سنچریوں کی تعداد 32 ہوچکی ہے۔34 سالہ بیٹسمین کا کہنا تھا کہ جب کوئی کھلاڑی ٹیم سے ڈراپ ہوتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارمنس دے کر اپنا کم بیک کرے اور ان کی بھی یہی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہونا بھی یہی چاہیے کہ جو کھلاڑی پرفارم کرے اسے اوپر آنے کا موقع دیا جائے، فیورٹ ازم ہر جگہ ہوتا ہے، گھرو ں میں بھی ہوتا ہے اور یہ سب اب لائف کا حصہ بن چکا ہے۔ کبھی کبھار مسلسل فائٹ کرتے رہنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن پھر حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ بہتر کرنا ہے کیونکہ یہی میرا روزگار ہے اگر کرکٹ چھوڑ دی تو فیملی کو کیسے سپورٹ کروں گا، اب بھی امید ہے کہ ایک دن مجھے موقع ضرور ملے گا۔

مزید : کھیل