پاکستان مخالف پراپیگنڈا کیلئے 65 ممالک میں بنائی گئی 265 بھارتی نیوز ویب سائٹس کا سراغ مل گیا، لاہور اور کراچی میں بھی موجودگی کا انکشاف

پاکستان مخالف پراپیگنڈا کیلئے 65 ممالک میں بنائی گئی 265 بھارتی نیوز ویب سائٹس ...
پاکستان مخالف پراپیگنڈا کیلئے 65 ممالک میں بنائی گئی 265 بھارتی نیوز ویب سائٹس کا سراغ مل گیا، لاہور اور کراچی میں بھی موجودگی کا انکشاف

  



برسلز (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی یونین کے تحقیقات کے ادارے ’ ڈس انفو لیب‘ نے دنیا کے 65 ممالک میں ایسی 265 جعلی نیوز ویب سائٹس کا سراغ لگایا ہے جو انڈین حکومت کے زیر انتظام چل رہی ہیں اور کشمیر اور دیگر معاملات پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر نے میں مصروف ہیں۔

اکتوبر کے شروع میں یورپی یونین ڈس انفارمیشن ٹاسک فورس نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ای پی ٹوڈے ڈاٹ کام نامی نام نہاد میگزین خود کو یورپی پارلیمنٹ کا میگزین ظاہر کرکے رشیا ٹوڈے اور وائس آف امریکہ کی خبروں کو دوبارہ شائع کر رہا ہے۔ ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مواد میں زیادہ تر آرٹیکلز پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور پاک بھارت معاملات کے حوالے سے تھے۔

جلد ہی یہ پتا بھی چل گیا کہ ای پی ٹوڈے نامی ویب سائٹ انڈیا کے سٹیک ہولڈرز چلا رہے ہیں، سری واستوا گروپ کے تحت کام کرنے والی کمپنیاں، این جی اوز اور تھنک ٹینک اس قسم کی ویب سائٹس چلا رہی ہیں۔ سری واستوا گروپ کے آئی پی ایڈریس سے پتا چلا کہ یہ انڈیا کا ہے اور اس کے تحت نئی دہلی ٹائمز سمیت تمام ویب سائٹس چلائی جارہی ہیں جن کا ہیڈ کوارٹر بھارتی دارالحکومت ہے۔

بھارت کی 2 پراپیگنڈا ویب سائٹس پاکستان میں بھی چل رہی ہیں جن میں سے ایک لاہور اور ایک کراچی سے آپریٹ ہورہی ہے۔ ان ویب سائٹس کی زیادہ تعداد یورپی ممالک میں کام کر رہی ہے جن پر ایک جیسے مضامین ہی شائع کیے جاتے ہیں۔ ان جعلی ویب سائٹس پر پاکستان مخالف اور مسئلہ کشمیر سے متعلق مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔

ان ویب سائٹس میں سے اکثر ایسی ہیں جو ماضی کے مشہور مگر بند ہوجانے والے اخبارات کے نام پر بنائی گئی ہیں تاکہ قارئین پر اپنے وجود کو مستند ثابت کیا جاسکے۔ ان ویب سائٹس پر ای پی ٹوڈے، 4 نیوز ایجنسی، ٹائمز آف جنیوا اور نیو دہلی ٹائمز نامی جعلی نیوز ایجنسیوں کی پاکستان مخالف خبریں شائع کی جاتی ہیں ۔

ڈس انفو لیب کے مطابق ان ویب سائٹ کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں:

مختلف مظاہروں اور تقریبات کی کوریج کے ذریعے عالمی اداروں اور منتخب نمائندوں کو دباﺅ میں لانا

این جی اوز کو ایسا مواد فراہم کرنا جو ان کی ساکھ کی تقویت کا باعث بنے

انٹرنیٹ صارفین کے ذہن کو منتشر کرنے کیلئے ایک ہی مواد کو مختلف ویب سائٹس پر شائع کرنا تاکہ اس سے پڑھنے والے کو مواد مستند لگے اور اس پر سوال نہ اٹھایا جاسکے

تمام ویب سائٹس پر ایک ہی مواد شائع کرکے اسے سرچ انجن میں اوپر لے کر آنا تاکہ پاکستان کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرا جاسکے

یہ ویب سائٹس کن ممالک میں کس نام سے کام کر رہی ہیں، اس بارے میں یورپی یونین کے ڈس انفو لیب نے گوگل میپ پر ایک نقشہ تخلیق کیا ہے جس کو آپ یہاں کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی