وزیرخارجہ کی ترجیح کشمیر نہیں سیاسی انتقام،حکومت نے خوشنودی،خوشامد اورجھک جانے کی خارجہ پالیسی اپنائی ہے:پرویز رشید

وزیرخارجہ کی ترجیح کشمیر نہیں سیاسی انتقام،حکومت نے خوشنودی،خوشامد اورجھک ...
وزیرخارجہ کی ترجیح کشمیر نہیں سیاسی انتقام،حکومت نے خوشنودی،خوشامد اورجھک جانے کی خارجہ پالیسی اپنائی ہے:پرویز رشید

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نےکہاکہ حکومت مسئلہ کشمیر پر عدم دلچسپی لے رہی ہے، کشمیر پر یہ گفتگو نہیں سنانا چاہتے اس لیےوزیربھی ایوان میں نہیں آرہے،وزیرخارجہ کی ترجیح کشمیر نہیں سیاسی انتقام ہے،حکومت نےخوشنودی،خوشامد اور جھک جانے کی خارجہ پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔

سینیٹ میں مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہے 12ربیع اول بھی منانے نہیں دیاگیا اور دوسری طرف ہم کرتار پورا کا افتتاح کررہے تھے،میں سمجھا تھا کہ وزیر خارجہ فوتگی کی وجہ سے شائد گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر رات کو دیکھا کہ وہ ٹی وی پر بیٹھے ہوئے ہیں،اس پروگرام میں اُن کی گفتگو کا محور نوازشریف کو ملک سے باہر جانے دیاجائے کہ نہیں تھا ،وہ خارجہ امور اور کشمیر پر بات نہیں کررہے تھے، اگر وزیر خارجہ کو کشمیر میں دلچسپی ہوتی تو وہ آج ایوان میں موجود ہوتے نہ کہ ٹی وی پر،ان کی ترجیح کشمیر نہیں ہے بلکہ سیاسی انتقام ہے.انہوں نے کہا کہ حکومت نےخوشنودی،خوشامد اور جھک جانے کی خارجہ پالیسی اختیار کی،اس لیے مودی کی کامیابی کی دعا بھی کی،دو بھارتی  پائلٹ چھوڑے ،خط اور ٹیلی فون بھی کئے مگر جواب میں نا سنتے رہے مگر پھر بھی خوش ہوتےرہے،طالبان کے لیےمذاکرات کی میزسجاتے رہے،ہم کیوں امریکہ سےحریت رہنماؤں کے لیے مذاکرات کی میز نہیں مانگتے؟جو خدمات ہم سعودی عرب اور امریکہ کودے رہے ہیں وہ کیوں سری نگر کے لیے نہیں کرواسکے؟کیونکہ بھکاری کبھی ایسا نہیں کرسکتے،گاڑی چلائیں گے تو خوشامد کریں گے مگر اپنے بھائیوں کے لیے دنیا سے مدد نہیں لے سکتے .پرویزرشیدکاکہنا تھا کہ وزیر خارجہ اور وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر کتنے دورے کئے؟پاکستان میں استحکام ویژنری لیڈر نے پانچ سال میں لایاتھا مگر ہم ان کو پھانسی  دیتے ہیں، جیل بھیجتے  اور بیمارکرتے ہیں ،جب تک یہ کھیل ختم نہیں ہوتا ہم باوقار انداز میں جی نہیں سکتے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد