انسانی ہمدردی کیساتھ پیسوں کی بات عجیب لگتی ہے،اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری صدر اور وزیر اعظم پر عائد ہوگی:پرویز الٰہی

انسانی ہمدردی کیساتھ پیسوں کی بات عجیب لگتی ہے،اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس ...
انسانی ہمدردی کیساتھ پیسوں کی بات عجیب لگتی ہے،اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری صدر اور وزیر اعظم پر عائد ہوگی:پرویز الٰہی

  



اسلا م آباد(صباح نیوز)سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے نام کوئی پراپرٹی نہیں، سب بچوں میں تقسیم کر چکے ہیں،ایک طرف انسانی ہمدردی اوردوسری طرف پیسوں کی بات عجیب لگتی ہے،ہماراموقف اس حوالے سے واضح ہے،کابینہ کے کچھ لوگوں نے یہ سلسلہ شروع کیا، شریف فیملی بھی کہہ رہی ہے گارنٹی کیوں دیں؟

 نجی ٹی وی کے پروگرام اور امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں مختلف سوالات کے جواب  دیتے ہوئے چودھری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ مولانا کا دھرنا ختم ہوگیا، ٹک ٹک تو لگی رہے گی، کچھ باتیں امانت ہیں اس میں خیانت نہیں ہو سکتی،وزیراعظم نے بھی بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور دھرنے والوں کو نہیں روکا،یہ واحد دھرنا تھا جس میں جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا، جے یو آئی کارکن ہی دھرنے کی جگہ کی صفائی کرکے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا موقف تھا کہ وزیراعظم استعفی دیں،ہم نے ان سے کہا تھا کہ یہ بات نہ کریں،ہمارے مولانا کیساتھ بڑے دیرینہ تعلقات ہیں،دھرنے کے بعد اب وہی اپوزیشن لیڈر ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چودھری پرویز الہی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کیساتھ آج کی ملاقات خفیہ میٹنگ کا ہی ایک حصہ تھی،میڈیا کو پتا نہیں کہاں سے پتا چل گیا؟۔انہوں نے انکشاف کیا کہ مولانا شہروں کو بند نہیں کر رہے بلکہ بڑی شاہراہوں پر تھوڑی دیر کیلئے احتجاج کریں گے،احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد سڑکیں کھول دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ شجاعت صاحب نے کہا تھا کہ ملک میں حالات خراب نہیں ہونے چاہیں،ہم نے کوشش کی تو ماحول بہتر ہوا،حکومت کو جھکنا بھی پڑتا ہے اورلچک بھی پیداکرنا پڑتی ہے،اگر ماحول بہتر نہیں ہوگاتوپھرکون سرمایہ کاری کرےگا؟شجاعت صاحب نے کہا تھا کہ ایسے حالات نہ ہو جائیں کہ کوئی وزیراعظم بننے کو تیار نہ ہو، ملک میں بہتر ماحول بنانا ہوگا،ہم تو اپنی کوشش کر رہے ہیں،معاملہ افہام تفہیم سے حل کر لیں گے۔

علاوہ ازیں امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں  چوہدری پرویز الہی کہتے ہیں کہ نہیں معلوم حکومت سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیرون ملک علاج کے حوالے سے تذبذب کا شکار کیوں ہے؟حکومت نے نواز شریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے تو پھر ضمانتی بانڈز کہاں سے آ گئے؟مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی کہ نواز شریف کو جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ایک طرف حکومت نے کہا ہے کہ ہمیں انسانی ہمدردی ہے تو انسانی ہمدردی کے ساتھ پیسے کہاں سے آ گئے؟۔سابق وزیر اعظم کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے اُنہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت نے نواز شریف کو بیرون ملک بجھوانے کی حمایت کی ہے،وزیر اعظم عمران خان کے مشورہ مانگنے پر اُنہوں نے یہی موقف اختیار کیا تھا کہ اگر اِن کی صحت واقعی تشویش ناک ہے تو فوری بیرون ملک جانے دینا چاہیے۔حکومت کی پالیسی کے حوالے سے چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ وزرا جو بھی توجیہات پیش کرتے رہیں لیکن یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ حکومت نواز شریف کوبیرون ملک علاج کےلیےجانے کی اجازت پیسوں سےمشروط کرکے دے رہی ہے،وفاقی وزرا جو بھی موقف اپناتے رہیں اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری وزیر اعظم اور صدر پر عائد ہوگی۔

نواز شریف کے علاج کے حوالے سے مسلم لیگ (ق)کے رہنما نے کہا کہ انسانی مسئلے کو سیاسی نہیں بنانا چاہیے،انہیں نہیں معلوم کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے حکومت تذبذب کا شکار کیوں ہے؟۔جمعیت علما اسلام(ف)کے آزادی مارچ کے بعد جاری غیر اعلانیہ دھرنے کے حوالے سے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ماضی میں اکبر بگٹی اور لال مسجد میں مذاکرات کے تجربے کو دیکھتے ہوئے نہیں چاہتے تھے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے بات چیت میں خود سے ملوث ہوں تاہم وزیر اعظم اور مقتدر حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کے بعد مصالحت کے کردار پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت سے جے یو آئی کے احتجاجی کارکنان کو واپس بجھوانے کے لیے انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے متعدد ملاقاتیں کیں جن میں سے کچھ میڈیا کی موجودگی میں اور کچھ آف دی ریکارڈ (خفیہ ) ملاقاتیں تھیں۔پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ان پر مولانا فضل الرحمن اور عمران خان دونوں نے اعتماد کیا اور وہ بھی چاہتے تھے کہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔ان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے دھرنے سے بہت کچھ حاصل کیا ہے جبکہ وہ ملک میں حزب اختلاف کے واحد رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آزادی مارچ کا 'پلان اے' کس یقین دہانی یا ضمانت پر اختتام پذیرہوا۔

چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ دھرنے میں طوالت کے بعد وزیر اعظم نے وفاقی وزرا کو اشتعال انگیر بیانات دینے پر پابندی لگائی اور غیر ضروری بیانات نہ آنے کے بعد مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات میں بہتری آئی۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ حکومتی امور کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان کے سامنے رکھتے ہیں جبکہ اتحادی ہونے کی حیثیت سے نیک نیتی سے مشورہ دیتے ہیں تاہم حکومت ان کے مشورے ماننے کی پابند نہیں ہے۔چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ اپنا اتحاد قائم رکھنا چاہتے ہیں تاہم موقف وہی اپنائیں گے جو وہ درست سمجھتے ہیں۔مسلم لیگ (ق)کے رہنما نے کہا کہ وہ اِن ہاوس تبدیلی یا حکومت کے جانے کی کوئی فوری صورت نہیں دیکھ رہے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارگردگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں ان کی جماعت کی عددی اکثریت بہت محدود ہے اس بنا پر وہ اس حوالے سے اعتراض نہیں کر سکتے ۔پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر بزدار حکومت کی معاونت کر رہے ہیں، وہ ہماری مدد نہ بھی لیں تو مدد دیتے ہیں اور خرابی دیکھتے ہیں تو تنبیہ بھی کرتے ہیں۔

مزید : قومی