جمعیت علمائے اسلام کے ملک بھر میں مختلف شاہراہوں پر دھرنے جاری،مسافروں کو آمد و رفت میں پریشانی

جمعیت علمائے اسلام کے ملک بھر میں مختلف شاہراہوں پر دھرنے جاری،مسافروں کو ...
جمعیت علمائے اسلام کے ملک بھر میں مختلف شاہراہوں پر دھرنے جاری،مسافروں کو آمد و رفت میں پریشانی

  



اسلا م آباد(صباح نیوز)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ ف) کا اسلام آباد میں 14 روز تک جاری رہنے والا آزادی مارچ کا دھرنا گزشتہ روز ختم ہوا تو پلان بی کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر دھرنے دیے جارہے ہیں۔

پاکستان کے شمالی صوبہ خیبرپختونخوا میں مانسہرہ کے قریب چھترپلین کے مقام پر شاہراہ قراقرم کو بند کردیاگیا ہے۔ بنوں میں انڈس ہائی وے پر جے یو آئی کے کارکنو ں نے درخت کاٹ کر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔اسی طرح نوشہرہ میں جی ٹی روڈ پر حکیم آباد کے قریب جاری دھرنے میں مردان، چارسدہ، صوابی سے بھی کارکناں شریک ہیں۔اس کے علاوہ چکدرہ چوک پردھرنے سے سوات، چترال، اپر و لوئردیر اور شانگلہ جانے والے راستے بند ہیں۔ادھر مالاکنڈ میں بھی پل چوکی پر جاری دھرنے سے مرکزی شاہراہ پر مسافروں کو آمد و رفت میں پریشانی کا سامنا ہے۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ میں کھڈ بزدار کا مرکزی پل بند ہے تاہم مریضوں اور مقامی افراد کو گزرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد  میں 26 نمبر چونگی پر جے یو آئی کی جانب سے دھرنا دیا گیا جو مغرب کے بعد ختم ہوگیا،کل دن گیارہ بجے دوبارہ دھرنا ہو گا اور چونگی نمبر 26 پر نماز جمعہ ادا کی جائے گی۔پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے مرکزی شہر  کراچی میں حب ریور روڈ پر دھرنے کی وجہ سے کنٹینرز کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ادھر جیکب آباد میں بلوچستان سے آنے والی ٹریفک کے لئے زیرو پوائنٹ کے مقام پر قومی شاہراہ بلاک ہے۔ کندھ کوٹ میں انڈس ہائی وے کے بائی پاس کے مقام پر اور سکھر میں قومی شاہراہ کے دونوں اطراف دھرنے کے باعث ٹریفک بلاک ہے۔گھوٹکی ٹول پلازہ پر جے یو آئی (ف)کے کارکنوں کے دھرنے سے قومی شاہراہ پر آنے اور جانے والا ٹریفک معطل ہے۔کراچی میں جے یو آئی(ف) کا دھرنا حب ریور روڈ پر جاری ہے، کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک امیر کا حکم ہے دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔ دھرنے میں بعض کارکن بستر اور کمبل بھی لے کر آئے ہیں۔

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں ریجنل کوآپریشن فار ڈویلمپنٹ ہائی وے(آر سی ڈی شاہراہ)حب کے قریب بند ہونے سے کراچی اور بلوچستان کے درمیان آمد ورفت متاثر ہے۔کوئٹہ میں صوبائی امیر جے یو آئی مولانا عبدالواسع نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پلان پی کے تحت دو دو اضلاع کی سڑکیں بند کریں گے،  آج جمعہ کو خضدار اور لورالائی میں قومی شاہراہیں بند کی جائیں گی جبکہ ہفتہ کو کوئٹہ ۔ جیکب آباد اور نصیرآباد اور ژوب میں سڑکیں بند کریں گے۔مولانا عبدالواسع نے بتایا کہ 17 نومبر کو کوئٹہ ۔ تفتان اور کوئٹہ ۔ چمن شاہراہ بند کی جائیں گی،18 نومبر کو کوئٹہ کراچی شاہراہ بند کی جائے گی جبکہ ہفتے میں ایک دن تمام شاہراہیں ایک ساتھ بند کی جائیں گی البتہ اس دن کا تعین بعد میں ہوگا، عوام شاہراہیں بند ہونے والے دنوں میں سفر نہ کریں۔

مزید : قومی