ملالہ یوسف زئی

ملالہ یوسف زئی
 ملالہ یوسف زئی

  

اس وقت پوری دُنیا میں ایک خبر نے کہرام برپا کر دیا ہے اور سب کی نظریں ”امن ایوارڈ یافتہ“ سوات کی بیٹی پر لگی ہوئی ہیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ”امن“ کی باتیں کرنے والی ملالہ یوسف زئی خود بے امنی اور دہشت گردی کا شکار ہو گئی۔ ایسا تو ملالہ نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سکول بس میں بیٹھتے ہوئے ایک آدمی نے اس کا نام لے کر پوچھا کہ ملالہ یوسف زئی کون ہے اور پہچانتے ہی گولی کا نشانہ بنا دیا ۔ اُس کے ساتھ دو طالبات اور بھی زخمی ہوئیں، مگر ٹارگٹ تو معصوم14سالہ بچی ملالہ تھی۔ اس کو ٹارگٹ کرنے والے نے ذمہ داری بھی قبول کر لی۔ شدید زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی اپنے خوابوں میں امن پھیلانے کی ذمہ داری لئے موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کے ساتھ ہونے والا یہ المناک حادثہ کس بات کی نشاندہی کر رہا ہے؟ یقینا یہ غیر مستحکم اور دہشت گردی کے شکار پاکستان کی کہانی سنا رہا ہے۔ یہ وہی طالبہ ہے ، جو سوات میں بچوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کر رہی تھی۔ یہ وہی ملالہ ہے، جسے 2011ءمیں انٹرنیشنل ”چلڈرن پیس پرائز“ کے لئے نامزد کیا گیا۔ بچوں کے حقوق کے لئے کوشاں رہنے والی ملالہ یوسف زئی کی آواز کو ختم کرنے والے کو ملالہ یوسف زئی سے کیا شکایت تھی؟ سوات کی رہنے والی یہ پُرامن لڑکی طالبان کی تنگ نظری کا شکار ہوئی۔ کہتے ہیں طالبان نے اس کو اپنی ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا تھا اور موقع کے انتظار میں تھے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ بے شک چھوٹی لڑکی ہے، مگر وہ پشتون میں مغربی کلچر کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ بات طالبان کے سپوکن پرسن نے خود کہی۔ گو کہ اس المناک حا دثے کی شکار ملالہ یوسف زئی کا ہر ممکن علاج کیا جا رہا ہے، مگر کیا یہ ظلم نہیں کہ اپنے ہی شہر کو پُرامن رکھنے کی خواہش میں خود ہی ٹارگٹ بن گئی۔ مینگورہ کی ر ہنے والی ملالہ اپنی ایک پولیٹیکل پارٹی بنانے کا ارادہ بھی رکھتی تھی۔ مینگورہ کا یہ علاقہ کسی حد تک محفوظ بھی تھا۔ یہ وہی علاقہ ہے، جہاں2009ءمیں طالبان کے خلاف ایک بہت بڑا آپریشن ہوا تھا۔ یہ وہی طالبان ہیں، جو عورت کی تعلیم کے حق میں نہیں، عورت کے گھر سے باہر نکلنے اور مارکیٹ وغیرہ میں جانے پر پابندی عائدکرتے ہیں۔ یہ وہی طالبان ہیں، جو افغانستان میں اپنی طاقت سے عورت کو ہر حق سے محروم رکھتے تھے۔ یہ وہی طالبان ہیں جو لوگوں کے مردہ جسموں کو گلی کوچے میں لٹکا کر خوف پیدا کرتے تھے تاکہ عورتوں کو تعلیم سے دُور رکھا جائے۔ ان طالبان پر پاکستانیوں کو اس وقت حیرانی ہوئی جب انہوں نے 2007ءمیں صوبائی دارالحکومت سے تقریباً180کلو میٹر دور شہر کو اپنے قبضے میں لے لیا، تو لوگوںکو احساس ہوا یہ سب کچھ افغانستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کی حدود پر قابض ہو کر کیا جا رہا ہے، مگر ایسا نہیں تھا، لہٰذا2007ءمیں پاکستانی فوج نے وہاں اپنا اثرو رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ ایک طرف القاعدہ اور دوسری طرف طالبان کی لڑائی۔ یہ دونوںمحفوظ پناہ گاہوں کی طرف قدم بڑھانے لگے۔ انہوں نے تو عدل و انصاف کے اپنے ہی قوانین بنا رکھے ہیں۔ یہ وہی طالبان ہیں، جنہوں نے ازبکستان میں بھی اپنے قدم جمائے، مگر زیادہ تر وہاں ٹھہر نہ سکے۔ ازبک فوجوں نے ان کو پسپا کر کے نکل جانے پر مجبور کر دیا، مگر انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کواپنے قلعے بنا لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس قبائلی دہشت گردی نے شہروں کی طرف بڑھنا شروع کر دیا، جس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔جب مَیں ملالہ یوسف زئی کے بارے میں خبر پڑھ رہی تھی تو ایک اور خبر پر میری نظر پڑی، جس میں سعودی عرب میں منعقد ہونے والے ایک سعودی مقابلہ حسن کا ذکر تھا۔ اس مقابلے میں معیار ظاہری جمال نہیں، بلکہ حسن اخلاق ہے، یقینا یہ ایک منفرد مقابلہ ہے۔ اس میں ٹائٹل جیتنے والی مرام کو انعام کے طور پر سونے کا تاج اور دس ہزار سعودی ریال دیئے گئے۔یہ مقابلہ جیتنے والی لڑکی کا کہنا ہے کہ مَیں اپنے معاشرے کو تبدیل کرنا چاہتی ہوں اور اس کام کے لئے لوگوں کی بہتری کی سوچ رکھنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کروں گی۔ یہ لڑکی بھی 14،15سال کی ہے، دوسری طرف ہماری ملالہ یوسف زئی14سال کی۔ خواب دونوں کے ایک سے ہیں، تبدیلی کے خواب دیکھنا معیوب نہیں، بلکہ خوش آئند ہے، مگر شاید یہ صرف اس ملک میں ممکن ہے، جہاں تمام جگہ کنٹرول ایک ہو، قوانین سب کے لئے ایک ہوں۔ اگر ہر کوئی اپنے راج کے ساتھ چلے گا تو راج کس کا ہو گا؟ ہر کوئی اپنے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق سزا دے گا، تو عدالتیں کس کام کی۔ یقینا ملالہ یوسف زئی کا کہنا ٹھیک تھا کہ اس وقت ہمارے ملک کو سب سے بڑا چیلنج انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -