آئین و قانون کی عملد اری سے ملک ترقی کرے گا

آئین و قانون کی عملد اری سے ملک ترقی کرے گا
آئین و قانون کی عملد اری سے ملک ترقی کرے گا

  

دُنیا میں صرف وہی ملک زندگی کے ہر میدان میں ترقی کرتے ہیں، جہاں آئین، قانون پر عمل کیا جاتا ہے۔ آئین و قانون کسی بھی قوم کے خیالات، جذبات اور احساسات کی ترجمانی کیا کرتے ہیں۔ ان کی خلاف ورزی سے قوم اور ملک کی بنیادیں شدید زلزلے کی لپیٹ میں آ کر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ قانون ہی وہ واحد راستہ ہے، جس پر چل کر قومیں ترقی کرتی ہیں۔ یورپ، امریکہ اور جاپان وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان ممالک میں سب برابر ہوتے ہیں۔ زندگی سے متعلقہ وہاں لوگوں کے حقوق ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ وہاں قانون کے مطابق انصاف کیا جاتا ہے۔ وہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں مانا جائے گا۔ ایسے ترقی یافتہ ممالک کی عدالتیں آزاد اور خود مختار ہوتی ہیں۔ وہاں جو بھی جرم کرے گا، اس کو سزا ضرور ملے گی۔ وہ قانون کی گرفت سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکے گا۔ سڑکوں پر لوگ رواں دواں ہوتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کا احترام ہر شہری پر لازم ہو گا۔کوئی بھی شہری ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر کے نہیں بھاگے گا۔افسوس کہ آج پاکستان میں قانون تو موجود ہیں، مگر شاید ہی ان پر عمل ہوتا ہو گا ۔ وہ لوگ بااثر اور طاقتور ہیں،جو قانون کو توڑتے ہیں۔ کوئی بھی اُن سے باز پرس کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ مہذب معاشروں میں ہر شہری آئین اور قانون کا احترام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں قانون کا نفاذ کرنے والے جگہ جگہ آنکھوں سے اوجھل بیٹھے ہوں گے۔ جب بھی کسی قانون شکنی کا واقعہ ہو گا تو وہ چھپے ہوئے لوگ بجلی کی رفتار کے ساتھ موقع پر پہنچ جائیں گے اور اسی وقت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیں گے۔ مَیں نے اپنی آنکھوں سے یورپ کے کئی ایک ملکوں میں اس طرح کی قانونی کارروائی کو دیکھا ہے۔ پولیس تو ہر وقت لوگوں کی مدد کے لئے تیار ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں پولیس والے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں ۔ اُن کی قانون شکنی کے واقعات دن رات لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کو قانون اور عدالت کا ہر گز خوف نہیں ہوتا ہے۔ تھانوں میں شہریوں کی عزت کو پارہ پارہ کر دیا جاتا ہے۔ قانون شکن لوگ اُن کے کارندے ہوتے ہیں، جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں بے گناہ لوگوں کو ملوث کر دیا جاتا ہے۔راشد محمود ....ذہین ترین طلباءمیں سے ایک کا بیان ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہو گا۔ وہ کہتا ہے کہ اس کا والد پروفیسر ہے اور اس کو تشدد برداشت کرنا پڑا ہے، اس غیر قانونی کارروائی میں وہ خود بھی شامل ہے۔ ہمارے حکمران آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ ایک عام شکایت ہے کہ پولیس کو حکمران اور بڑے لوگ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے قابل احترام چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ اس وقت کے ایک فوجی ڈکٹیٹر نے جو ناروا سلوک کیا تھا، وہ ہماری تاریخ کا ایک بدنما داغ ہے۔ یہ بدنما داغ پاکستانی قوم کے ماتھے سے کب اُترے گا؟ مَیں اس کا جواب دینے سے قاصر ہوں۔ خود میرے بے قصور والد محترم کو پولیس نے چیف جسٹس آف پاکستان کی مانند بالوں سے پکڑا تھا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے بڑی بہادری سے پولیس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں مت لے اور بے گناہ لوگوں پر تشدد نہ کرے۔ یہ واقعہ میری طالب علمی کے زمانے کا ہے۔ان واقعات کو بتانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں قانون اور آئین کی حکمرانی کا تصور بہت حد تک ناپید ہو چکا ہے۔ یہاں لاقانونیت زوروں پر ہے، جو لوگ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں، اُن کو معاشرے کا خیر خواہ اور دوست نہیں مانا جا سکتا، وہ تو کسی معاشرے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اولین لوگوں میں شامل ہوں گے۔ ہمارے ملک میں تو جرائم کے مرتکب افراد شہادت نہ ہونے پر بَری ہو جاتے ہیں، جو لوگ ایسے افراد کے خلاف شہادت دینے کے لئے عدالتوں میں آتے ہیں ، اُن کو جرائم پیشہ لوگ بعض اوقات موت کے گھاٹ اُتارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔کراچی اور بعض دیگر علاقوں میں ہمارے شہری ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہم کس طرف تیزی سے جا رہے ہیں؟ کیا یہ تباہی و بربادی کا راستہ نہیں ہے؟ معاشی زندگی میں کراچی پاکستان میں شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دشمن اسی شہ رگ کو انتہائی خوفناک منصوبہ بندی سے آہستہ آہستہ کاٹتا چلا جا رہا ہے۔ ہم سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ حکمران ناکام ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے بے بس تماشائی کا رول اختیار کر چکے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ہر گز مناسب وقت نہیں ہے کہ ہمارے حکمران دُنیا کے دوروں پر چلے جائیں، جبکہ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اُن حکمرانوں کا فرض اول یہ ہے کہ وہ گھر میں لگی آگ پرقابو پائیں اور فی الحال دوسرے ملکوں کے دوروں کا پروگرام ملتوی رکھیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر پاکستان کو موجودہ خطرات سے باہر نکالیں۔ ہم سب یہ یاد رکھیں کہ پاکستان ہی اس خطے کے لوگوں کے لئے آزادی اور خود مختاری کی آخری امید ہے۔ ہمارا وطن عزیز خطرات کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے، ہم سب کا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے ملک کو اُن اندرونی اور بیرونی خطرات سے باہر نکالیں۔ دائیں بائیں دشمن ہم پر کاری ضرب لگانے کے لئے تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ہم ان دشمنوں کی خوفناک سازشوں کا پہلے بھی شکار ہو چکے ہیں۔ ہمارا مشرقی پاکستان ہم سے بندو ق کی نوک پر ہم سے جُدا کروایا گیا تھا۔ مشرق سے کامیابی سے فارغ ہونے کے بعد وہی دشمن ہمیں مزید ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی خاطر اور گہری سازشوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہم سب کو، خاص طور پر ہمارے حکمرانوں کو1971ءکے خونی واقعات کو سامنے رکھنا ہو گا۔ ہمارے حکمران بھولے بھالے اور ملک کی تاریخ سے نابلد نظر آتے ہیں۔ وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ماضی کے واقعات کو بھول جانا ہو گا۔ کیا ہم کشمیر کو بھول جائیں ،جس کو قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے کہا تھا کہ کشمیر تو پاکستان کی شہ رگ ہے۔ دشمن نے ہماری شہ رگ کو خونی پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ ہماری زندگی کے لئے اہم ترین دریائی پانی دشمن نے اپنے ہاتھوں میں دبا رکھا ہے۔ اسی پانی کو دشمن بطور ہتھیار استعمال کرتا چلا جا رہا ہے۔ جب ہمیں پانی کی بے حد ضرورت ہوتی ہے، تو دشمن ہمارے لئے کربلا کا سماں پیدا کر دیتا ہے۔ آج کل ہمارے ہاں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔ ہمارے لہلہاتے کھیت اور گھر بار تباہ ہو رہے ہیں۔ مال مویشی سب کچھ پانی کی لہروں میں بہتا چلا جا رہا ہے۔ وہ دریا جہاں پانی کی بوند بھی نظر نہیں آئی تھی، آج وہی دریا ہم سب کے لئے تباہی و بربادی کا موجب بنتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک کہ ہم بھارت سے کشمیر کو آزاد نہیں کروا لتے۔ بھارت نے محض طاقت کے بل بوتے پرکشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیر میں بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر رکھی ہیں۔ ساری دُنیا نے بار بار اس بات کو کہا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگ ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی آزادانہ مرضی سے کریں گے۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا تھا اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ کشمیر کے لوگ ہی کشمیر کے مالک ہیں اور وہ خود ہی حق خودارادیت کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کریں گے، مگر یہ سب کچھ محض وقت گزارنے کے لئے تھا۔ آج مسئلہ کشمیر جوں کا توں پڑا ہے۔ اس خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہو چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔    ٭

مزید :

کالم -